رمضان کا مبارک مہینہ ہم مسلمانوں کے لیے عبادت، صبر اور اللہ کے قریب ہونے کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں ہر مسلمان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ پورے روزے رکھے اور کسی بھی عبادت سے محروم نہ رہے۔
خاص طور پر خواتین دل سے یہ چاہتی ہیں کہ ان کے روزے ماہواری کی وجہ سے نہ چھوٹیں۔ اسی خواہش کے تحت آج کل یہ رجحان بہت عام ہو گیا ہے کہ رمضان میں خواتین ماہواری روکنے والی گولیاں استعمال کرنا شروع کر دیتی ہیں، جنہیں عام طور پر “چابی کی گولیاں” کہا جاتا ہے۔
یہ گولیاں صرف رمضان میں ہی نہیں بلکہ حج اور عمرہ کے موقع پر بھی استعمال کی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سڑکوں پر افطار دسترخوان: دکھاوا یا حقیقی ضرورت؟
ظاہر ہے کہ نیت اچھی ہوتی ہے اور مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ پورا رمضان روزوں کے ساتھ گزارا جائے، لیکن اکثر خواتین یہ نہیں جانتیں کہ ان گولیوں کا استعمال صحت کے لیے کس قدر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ وقتی فائدے کے چکر میں ہم اپنے جسم کے قدرتی نظام کو نقصان پہنچا دیتے ہیں، جس کے اثرات بعد میں سنگین ہو سکتے ہیں۔
یہ گولیاں دراصل ہارمونز پر مشتمل ہوتی ہیں جو عورت کے جسم میں موجود قدرتی نظام میں زبردستی تبدیلی لاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کے جسم کو ایک خاص ترتیب اور توازن کے ساتھ بنایا ہے، اور ماہواری اسی نظام کا ایک فطری حصہ ہے۔ جب ہم اس قدرتی عمل کو دواؤں کے ذریعے روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو جسم ضرور اس کا ردِعمل دیتا ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے بھی اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ دینِ اسلام عورت کو ماہواری کے دنوں میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ کوئی کمزوری یا گناہ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے دی گئی ایک بڑی سہولت اور رحمت ہے۔
عورت بعد میں ان چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کر سکتی ہے، اس لیے رمضان میں ماہواری آ جانا کسی پریشانی کی بات نہیں ہونی چاہیے۔
اگر ان گولیوں کے نقصانات کی بات کی جائے تو یہ بہت زیادہ ہیں۔ ان کے استعمال سے جسم کا ہارمونل نظام متاثر ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے ماہواری بے ترتیب ہو سکتی ہے۔
بعض خواتین کو شدید سر درد، الٹیاں اور چکر آنے لگتے ہیں۔ کئی خواتین کا وزن تیزی سے بڑھنے لگتا ہے، جسے بعد میں کم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ان گولیوں کے استعمال سے بلڈ پریشر کا مسئلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے، جو دل کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ موڈ میں شدید تبدیلیاں آنا، غصہ، چڑچڑاپن، بے چینی اور ڈپریشن جیسی علامات بھی عام ہو جاتی ہیں۔ بعض خواتین خود بھی نہیں سمجھ پاتیں کہ ان کے رویے میں یہ تبدیلیاں کیوں اور کہاں سے آ رہی ہیں۔
ایک اور خطرناک اثر خون کے لوتھڑے بننے کا خطرہ ہے، جو بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ مسلسل یا بار بار استعمال کرنے سے مستقبل میں حمل ٹھہرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
بعض خواتین کو گولیاں چھوڑنے کے بعد بھی کئی مہینوں تک ماہواری نہ آنے کا مسئلہ ہو جاتا ہے، جو مزید ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک اور مسئلہ سماجی دباؤ بھی ہے۔ بعض خواتین یہ سوچتی ہیں کہ اگر روزے چھوٹ گئے تو لوگ کیا کہیں گے یا عبادت میں کمی رہ جائے گی۔
یہ سوچ بالکل غلط ہے۔ عبادت صرف روزے رکھنے کا نام نہیں بلکہ اللہ کے حکم کو ماننا ہی اصل عبادت ہے۔ جب اللہ نے خود اجازت دی ہے تو اس میں شرمندگی یا پریشانی کی کوئی بات نہیں۔
خواتین کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ اپنی صحت کے ساتھ کھیلنا دانشمندی نہیں۔ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی سب کو یہ شعور دینا چاہیے کہ بلا ضرورت ایسی گولیوں کا استعمال نہ کیا جائے۔ سوشل میڈیا، گھریلو گفتگو اور دینی محافل کے ذریعے اس موضوع پر کھل کر بات ہونی چاہیے۔
ماہواری روکنے والی گولیاں وقتی طور پر آسان حل ضرور لگتی ہیں، لیکن ان کے نقصان بہت گہرے اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی سہولت کو قبول کرنا ہی اصل دانشمندی ہے۔
اپنی صحت کا خیال رکھنا بھی عبادت کا حصہ ہے، اس لیے رمضان میں عبادت کے ساتھ ساتھ اپنی جسمانی صحت کی حفاظت کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
