رمضان کی صبح تھی۔ بازار ابھی پوری طرح نہیں کھلا تھا مگر گل زمان خان مجھ سے ملنے بازار پہنچ چکے تھے۔ ان کی آنکھوں میں بے خوابی اور چہرے پر پریشانی صاف جھلک رہی تھی۔ وہ اپنے خاندان کے لیے عارضی رہائش کی تلاش میں تھے۔

 

گل زمان خان حاجی (فرضی نام) کا تعلق تحصیل لوئی ماموند کے گنجان آباد علاقے برہ لغڑئی سے ہے، جو پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع آخری دیہات میں سے ایک ہے۔ کبھی یہ گاؤں پرامن زندگی کی مثال تھا، مگر آج مسلسل فائرنگ اور گولہ باری نے یہاں کے لوگوں کو اپنے ہی گھروں سے بے دخل کر دیا ہے۔

 

 سینکڑوں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ کچھ رشتہ داروں کے ہاں پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ بہت سے لوگ عارضی رہائش کی تلاش میں دربدر بھٹک رہے ہیں۔

 

سرحدی تنازع اور عام شہری

 

یہ کشیدگی 26 فروری کو اس وقت شروع ہوئی جب افغان طالبان کی فورسز کی جانب سے پاکستانی علاقے پر فائرنگ کی گئی۔ جواب میں پاکستانی فورسز نے افغان علاقوں کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد سے جھڑپوں کا سلسلہ رکا نہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: سکیورٹی نظام مضبوط بنانے کے لیے پولیس میں ڈرون نگرانی کا نظام متعارف

 

باجوڑ سے لے کر چترال تک سرحدی پٹی میں رہنے والے ہزاروں شہری اس تنازع کی زد میں آ چکے ہیں۔ توپ خانے، مارٹر گولوں اور فضائی حملوں نے پورے خطے کو جنگی میدان بنا دیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع اور افغانستان کے مشرقی صوبوں سے ہزاروں خاندان اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

 

ایک سرحد، ایک قبیلہ

 

چترال سے چمن تک پاک افغان سرحد کے دونوں جانب رہنے والے زیادہ تر لوگ ایک ہی قبائل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے خاندان اور رشتہ دار سرحد کے دونوں طرف آباد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جنگ صرف سرحدی تنازع نہیں بلکہ خاندانوں اور رشتوں کو بھی تقسیم کر رہی ہے۔

 

مقامی لوگوں کے مطابق ماضی میں بھی سرحدی کشیدگی ہوتی رہی ہے مگر اس بار صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ جنگی طیاروں کی گرج دار آوازیں بچوں اور بڑوں دونوں کے دلوں میں خوف پیدا کر رہی ہیں۔

 

وہ گاؤں جو رات کو خالی ہو جاتا ہے

 

برہ لغڑئی کے رہائشی نقیب اللہ ماموند کے مطابق مارٹر گولے اور میزائل اکثر بغیر کسی وارننگ کے گر جاتے ہیں جس کی وجہ سے پورے علاقے میں خوف اور بے یقینی کی فضا قائم ہے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ 26 فروری کی رات شروع ہونے والے تنازع کے بعد گاؤں کی زیادہ تر آبادی دوسرے علاقوں میں منتقل ہو چکی ہے۔ رات کے وقت گاؤں میں صرف چند افراد رہ جاتے ہیں اور باقی گاؤں کھنڈرات کا منظر پیش کرتا ہے۔

 

ان کے مطابق اب تک گاؤں میں دو افراد جاں بحق جبکہ چھ زخمی ہو چکے ہیں، اور کئی مکانات، جامع مسجد اور حجروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

 

"غضب للحق" آپریشن میں طالبان کو شدید نقصان

 

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ شام چار بجے تک آپریشن "غضب للحق" کے تحت کارروائیوں میں 583 افغان طالبان مارے گئے جبکہ 795 سے زائد زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق 242 چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں، 38 پر قبضہ کر کے انہیں مسمار کیا گیا، 213 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کی گئیں جبکہ افغانستان میں 64 مقامات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔

 

رمضان میں بھی نقل مکانی

 

جنگ سے متاثرہ علاقے سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما اور سب ڈویژن ناوگئی کے ناظمِ اعلیٰ ڈاکٹر خلیل الرحمان کے مطابق مارٹر گولے اور بھاری شیلز آبادیوں پر گر رہے ہیں جس سے شہری ہلاک اور زخمی ہو رہے ہیں۔

 

انہوں نے دونوں ممالک کی حکومتوں سے اپیل کی کہ رمضان کے مقدس مہینے کے احترام میں فوری جنگ بندی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک مسلمان ہیں اور اس لڑائی میں سرحد کے دونوں جانب رہنے والے لوگ مارے جا رہے ہیں۔

 

مقامی مشر حاجی سید گل کے مطابق ماموند قبیلے کے لوگ سرحد کے دونوں جانب آباد ہیں اور ان کے درمیان گہرے خاندانی روابط ہیں، اس لیے اس تنازع کا اثر لوگوں پر زیادہ گہرا پڑ رہا ہے۔

 

علاقے کے سیاسی رہنما اور امن جرگہ کے رکن ملک خالد خان کے مطابق لوگوں کے گھر چند قدم کے فاصلے پر ہیں مگر کشیدگی کے باعث وہ رمضان میں بھی اپنے گھروں کو نہیں جا سکتے اور رشتہ داروں کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

 

سکول بند، قبائلی اضلاع میں تعلیمی نظام مفلوج

 

پاک افغان سرحد پر کشیدہ صورتحال کے پیش نظر باجوڑ، خیبر اور کرم میں درجنوں سرکاری سکول غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔

 

ضلعی انتظامیہ کے مطابق ضلع باجوڑ میں سکیورٹی خدشات کے باعث 39 سرکاری سکول بند کیے گئے ہیں۔ ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں سرحدی کشیدگی کے باعث ہنگامی صورتحال نافذ کرتے ہوئے لنڈی کوتل اور بازار ذخہ خیل کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے تاحکمِ ثانی بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

 

محکمہ تعلیم خیبر کے جاری مراسلے کے مطابق حفاظتی اقدامات کے تحت بازار ذخہ خیل میں 15 اور لنڈی کوتل میں 14 سکول بند کیے گئے ہیں، جن میں آٹھ لڑکیوں کے سکول بھی شامل ہیں۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے طلبہ اور اساتذہ کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں، جبکہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی سے متعلق آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

 

انسانی بحران کا خدشہ

 

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے سرحد پار جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ 

 

اقوام متحدہ کے مطابق 26 فروری سے 2 مارچ کے درمیان افغانستان میں کم از کم 146 شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کا ریکارڈ سامنے آیا جن میں 42 افراد ہلاک اور 104 زخمی ہوئے۔

 

ابتدائی اندازوں کے مطابق متاثرہ علاقوں میں تقریباً 16 ہزار 400 گھرانے بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ انسانی امداد تک رسائی محدود ہونے کے باعث امدادی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

 

پاک افغان سرحد پر جاری یہ کشیدگی محض دو ریاستوں کے درمیان فوجی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ بنتی جا رہی ہے۔ اس جنگ کی اصل قیمت وہ عام لوگ ادا کر رہے ہیں جو نہ سیاست جانتے ہیں اور نہ جنگ کی حکمت عملی۔

 

 ان کے لیے سب سے بڑی خواہش صرف اتنی ہے کہ بارود کی گونج خاموش ہو جائے اور وہ دوبارہ اپنے گھروں، کھیتوں اور گاؤں کی طرف لوٹ سکیں۔