جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے خیبرپختونخوا پولیس نے ملک میں پہلی بار بغیر پائلٹ فضائی نگرانی کے لیے ایک باقاعدہ اور منظم ڈرون شعبہ قائم کر دیا ہے۔ 

 

اس اقدام کے ساتھ خیبرپختونخوا پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں پولیس کے نظام میں ڈرون ٹیکنالوجی کو باضابطہ طور پر شامل کیا گیا ہے۔

 

پولیس حکام کے مطابق اس نئے شعبے کے قیام کا مقصد حساس عمارتوں، بڑے عوامی اجتماعات اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں کی مؤثر اور بروقت نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: جنوبی وزیرستان: وانا رستم بازار میں دھماکہ، 3 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

 

 ڈرون کی مدد سے فضائی مناظر اور ویڈیو ریکارڈنگ براہِ راست کنٹرول روم تک پہنچائی جائے گی، جس سے صورتِ حال کا فوری جائزہ لینے اور بروقت فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ یہ نظام انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔ صوبے کے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں زمینی نگرانی کے مسائل کے پیش نظر فضائی نگرانی مشتبہ افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور کارروائیوں کی مؤثر منصوبہ بندی میں مدد دے گی۔

 

اس کے علاوہ مذہبی جلوسوں، احتجاجی مظاہروں اور سیاسی اجتماعات کے دوران ہجوم کی نگرانی بھی زیادہ مؤثر انداز میں کی جا سکے گی۔ فضائی نگرانی کے ذریعے پولیس کو زمینی صورتِ حال کی بہتر معلومات حاصل ہوں گی جس سے امن و امان برقرار رکھنے میں آسانی ہوگی۔

 

پولیس حکام کے مطابق اس شعبے کے لیے خصوصی اہلکاروں کو ڈرون چلانے، معلومات کے تجزیے اور آلات کی دیکھ بھال کی باقاعدہ تربیت دی گئی ہے۔ ان اہلکاروں کو مختلف اضلاع میں تعینات کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری فضائی نگرانی ممکن ہو سکے۔

 

ماہرین کے مطابق یہ جدید نظام قدرتی آفات جیسے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے دوران بھی انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کی نشاندہی،نقصانات کا جائزہ لینے اور امدادی کارروائیوں کو مؤثر بنانے میں ڈرون اہم کردار ادا کریں گے۔

 

خیبرپختونخوا پولیس کا یہ اقدام جدید پولیسنگ کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو امکان ہے کہ ملک کے دیگر صوبے بھی اس طرز کے جدید فضائی نگرانی کے شعبے قائم کریں گے، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔