عظمیٰ اقبال 

 

گراؤنڈ میں صبح کی ہلکی دھوپ پھیلی ہوئی ہے۔ نیٹ پریکٹس جاری ہے اور چند لڑکیاں پوری توجہ کے ساتھ بیٹنگ اور باؤلنگ کی مشق کر رہی ہیں۔ ان کے درمیان کھڑی ایک خاتون بار بار رہنمائی کر رہی ہیں۔ ان کے چہرے پر اطمینان اور عزم نمایاں ہے۔

 

 یہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی سابق قومی ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان ناہیدہ خان ہیں، جو آج نوجوان لڑکیوں کو کرکٹ کی تربیت دے رہی ہیں۔

 

 

کبھی ایسا وقت بھی تھا جب انہیں صرف کھیلنے کی خواہش پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور یہاں تک کہ جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملتی تھیں۔ مگر مضبوط ارادے اور حوصلے کے ساتھ انہوں نے تمام مشکلات کا مقابلہ کیا۔ آج وہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی لڑکیوں کے لیے ایک مثال بن چکی ہیں۔

 

دنیا بھر میں ہر سال 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد خواتین کی سماجی اور معاشی کامیابیوں کو اجاگر کرنا اور ان کے حقوق اور بااختیاری کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ پاکستان میں بھی اس موقع پر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کی جدوجہد اور کامیابیوں کو یاد کیا جاتا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: ہم پاکستانی کب بنیں گے؟

 

ماہرین کے مطابق خواتین کے حقوق اور ان کی بااختیاری کا تصور صرف جدید دور تک محدود نہیں بلکہ اسلامی تاریخ میں بھی اس کی واضح مثالیں موجود ہیں۔

 

 ان کے مطابق خواتین کو بااختیار بنانے کی مثالیں خلافتِ راشدہ کے دور میں بھی ملتی ہیں، جب حضرت عمرؓ نے ایک صحابیہ سمرا بنت نئیوب کو مکہ کے بازار کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی تھی۔ وہ بازار میں دھوکہ دہی اور ناانصافی کو روکنے کی ذمہ دار تھیں۔

 

اس حوالے سے یونیورسٹی آف سوات کے چیئرمین شعبہ اسلامی و عربی مطالعات ڈاکٹر محمد مشتاق احمد کہتے ہیں کہ اسلام نے خواتین کو زندگی گزارنے کے بنیادی حقوق اور معاشرتی مقام دیا ہے۔

 

 ان کے مطابق اسلام وہ دین ہے جس نے خواتین کو برابری، وراثت اور فیصلوں میں اختیار جیسے حقوق عطا کیے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ہر مرحلے پر خواتین کے احترام اور ان کے حقوق کی تعلیم دی۔ ان کے بقول کسی بھی معاشرے کی تکمیل خواتین کے کردار کے بغیر ممکن نہیں۔

 

خواتین کے حقوق کے لیے عملی جدوجہد کرنے والی شخصیات میں سوات سے تعلق رکھنے والی تبسم عدنان کا نام نمایاں ہے۔ وہ “خوئندو جرگہ” تنظیم کی سربراہ ہیں اور پشتون معاشرے میں پہلی خاتون ہیں جنہیں جرگے میں بیٹھنے اور فیصلہ سازی میں حصہ لینے کا اعزاز حاصل ہوا۔

 

تبسم عدنان کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ انہیں سماجی خدمات، امن اور انسانی حقوق کے لیے پاکستان اور بیرون ملک سے درجنوں ایوارڈز ملے، جن میں انٹرنیشنل وومن آف کریج ایوارڈ، نیلسن منڈیلا ایوارڈ اور پرائیڈ آف پاکستان سمیت دیگر عالمی اعزازات شامل ہیں۔

 

 

تبسم عدنان کہتی ہیں کہ ماضی میں ان کی زندگی کے کئی اہم فیصلے جرگے نے کیے، جس کے باعث ان کی زندگی متاثر ہوئی۔

 

 اسی تجربے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایسی صورتحال کا سامنا کرنے والی دوسری خواتین کے لیے آواز اٹھائیں گی۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے “خوئندو جرگہ” قائم کیا تاکہ خواتین کو بھی فیصلہ سازی میں شامل کیا جا سکے۔

 

وہ بتاتی ہیں کہ ابتدا میں انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے گھر پر فائرنگ تک کی گئی، مگر وہ پیچھے نہیں ہٹیں۔ ان کے مطابق اسلامی تاریخ میں خواتین تجارت کرتی تھیں، جنگوں میں حصہ لیتی تھیں اور بازاروں کی نگرانی جیسے اہم عہدوں پر بھی فائز رہتی تھیں، اسی لیے انہوں نے معاشرے کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ خواتین کا فعال کردار کوئی نئی بات نہیں۔

 

تبسم عدنان کے مطابق اگر خواتین معاشی طور پر مضبوط ہوں تو وہ نہ صرف خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں بلکہ اپنے بچوں کی بہتر تربیت بھی کر سکتی ہیں اور معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے خیال میں حکومت کو ایسے منصوبے متعارف کرانے چاہئیں جو خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنائیں۔

 

دوسری جانب کھیل کے میدان میں بھی پاکستانی خواتین اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی سابق قومی ویمن کرکٹر ناہیدہ خان اس کی نمایاں مثال ہیں۔ وہ بلوچستان کی تاریخ کی واحد خاتون کرکٹر ہیں اور 13 سال تک پاکستان ویمنز نیشنل ٹیم کی نمائندگی کر چکی ہیں۔

 

اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے 100 سے زائد بین الاقوامی میچز کھیلے، 9 ورلڈ کپ میں حصہ لیا اور ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کا حصہ رہیں۔ وہ پاکستان ویمنز اے ٹیم کی کپتان بھی رہ چکی ہیں۔

 

 

 اس وقت وہ بلوچستان میں خواتین کرکٹ کی ہیڈ کوچ اور ڈیولپمنٹ کوچ کے طور پر نوجوان کھلاڑیوں کو تربیت دے رہی ہیں۔ انہیں پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی جانب سے سب سے زیادہ کیچز پکڑنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

 

ناہیدہ خان کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے میدان میں خواتین کو بااختیار بنانا بہت اہم ہے کیونکہ اس سے نہ صرف جسمانی اور ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ اعتماد، قیادت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت بھی پیدا ہوتی ہے۔

 

 ان کے مطابق جب خواتین کھیلوں میں حصہ لیتی ہیں تو وہ معاشرے میں اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرتی ہیں اور دوسری لڑکیوں کے لیے مثال بنتی ہیں۔

 

وہ بتاتی ہیں کہ اپنے کیریئر کے آغاز میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کا تعلق ایک قبائلی پشتون علاقے سے ہے جہاں لڑکیوں کے لیے کھیلوں میں حصہ لینا آسان نہیں سمجھا جاتا۔ انہیں سخت تنقید اور جان سے مارنے کی دھمکیوں تک کا سامنا کرنا پڑا، مگر اپنے والد کی حمایت اور مسلسل محنت کی بدولت وہ آگے بڑھتی رہیں۔

 

ان کے مطابق کھیل لڑکیوں کے اعتماد کو بڑھاتے ہیں اور انہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ بھی بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں۔ ناہیدہ خان کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی دوسری لڑکیوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ مضبوط ارادے اور مسلسل محنت کے ساتھ ہر خواب کو حقیقت بنایا جا سکتا ہے۔

 

سماجی اور قانونی حقوق کے لیے کام کرنے والی شخصیات میں سوات سے تعلق رکھنے والی وکیل اور سماجی کارکن نیلم ابرار چٹان بھی شامل ہیں۔ وہ معاشرے میں خواتین اور ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے سرگرم ہیں۔

 

نیلم ابرار چٹان کہتی ہیں کہ جب انہوں نے ابتدا میں لوگوں کی مدد کے لیے آواز اٹھانا شروع کی تو انہیں بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

 

 ان کے مطابق جب کوئی خاتون گھر سے نکل کر معاشرتی کام شروع کرتی ہے تو اکثر اس کے کردار پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ تاہم وقت کے ساتھ جب لوگوں نے ان کی جدوجہد اور کام کو دیکھا تو اب نہ صرف خواتین بلکہ پورا معاشرہ ان کے کام کو سراہتا ہے۔

 

 

وہ کہتی ہیں کہ آج لوگ ان پر اعتماد کرتے ہیں اور ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے تعاون بھی کرتے ہیں۔ ان کے بقول بہت سی لڑکیاں ان سے کہتی ہیں کہ وہ بھی ان کی طرح سماجی خدمت کرنا چاہتی ہیں۔

 

نیلم ابرار چٹان کے مطابق معاشرے میں لڑکیوں کی تعلیم کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے اور حکومت کو چاہیے کہ صرف میٹرک تک نہیں بلکہ یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم کو زیادہ سے زیادہ قابل رسائی اور ممکن حد تک مفت بنایا جائے تاکہ مالی مشکلات لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹ نہ بنیں۔

 

8 مارچ صرف ایک دن نہیں بلکہ ان خواتین کی جدوجہد، حوصلے اور کامیابیوں کو یاد کرنے کا موقع ہے جو مختلف شعبوں میں رکاوٹوں کے باوجود آگے بڑھ رہی ہیں۔

 

 مذہب، سماجی خدمت، کھیل اور قانون جیسے میدانوں میں سرگرم ایسی خواتین اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ جب مواقع اور حوصلہ افزائی ملے تو خواتین نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتی ہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔