سوشل میڈیا نے پاکستان میں ہر انسان کے گرد ایک ایسا گھیرا تنگ کر دیا ہے کہ اب اگر کوئی شخص اپنی ذاتی پسند یا ناپسند کا اظہار بھی کر دے تو فوراً ایک ہجوم اس پر ٹوٹ پڑتا ہے۔
لوگ بات کو سمجھنے یا اس کا سیاق و سباق جاننے کے بجائے فوراً اسے تعصب، نفرت یا کسی بڑے تنازعے کا رنگ دے دیتے ہیں۔ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی صلاحیت جیسے ہمارے معاشرے سے تیزی سے ختم ہوتی جا رہی ہے۔
ہمارے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں گزشتہ چند سالوں کے دوران ریسٹورنٹس، کیفے اور ہوٹلوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے اکثر جگہوں پر چائنیز کھانے پیش کیے جاتے ہیں اور ان کھانوں کے لیے زیادہ تر کُکس پنجاب سے بلائے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کیا رمضان میں ماہواری روکنے کی گولیاں صحت کے لیے نقصان دہ ہیں؟
ممکن ہے اس کی ایک وجہ یہ ہو کہ ہمارے لوگ چائنیز کھانا تو شوق سے کھاتے ہیں مگر اسے بنانا نسبتاً مشکل سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس معاملے پر کبھی کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کُکس صرف پنجاب سے ہی کیوں بلائے جاتے ہیں۔
کل سے سوشل میڈیا پر پاکستانی اداکارہ اور ماڈل صحیفہ جبار خٹک کی ایک ویڈیو وائرل ہے۔ اس ویڈیو میں وہ کہتی ہیں کہ نئے آنے والے لوگوں کے بارے میں انہیں یقین نہیں کہ وہ کس فینسی جگہ کے لیے آ رہے ہیں۔
ان کے مطابق انہیں ایسے لڑکے چاہییں جن کی نیت صاف ہو اور جو کام کے معاملے میں سنجیدہ ہوں۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اس بار انہیں واقعی پٹھان لڑکے چاہییں کیونکہ ان کے بقول وہ عموماً اپنی بات کے پکے ہوتے ہیں اور اب پنجابی یا اردو بولنے والوں پر پہلے جیسا اعتماد نہیں رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں اچھا اور محنتی عملہ درکار ہے اور کچن کے لیے ایسے ہیلپرز چاہییں جو کٹنگ، ڈائسنگ اور دیگر کام ذمہ داری سے انجام دے سکیں۔
میں اس بات کی حمایت نہیں کر رہی کیونکہ یہ ایک حساس جملہ ہے اور اس پر اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی انتخاب یا ذاتی تجربہ ہو سکتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ صرف اس انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی رائے دے اور وہ فوراً اسے تعصب اور نفرت کا مسئلہ بنا دیں۔
یہی ہوا۔ سوشل میڈیا کا جنونی ہجوم میدان میں اتر آیا۔ کسی نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو انہیں پشاور میں ریسٹورنٹ کھولنا چاہیے۔ کسی نے بائیکاٹ کی بات کی۔ ایک صاحب تو اس قدر جذباتی ہو گئے کہ یہ سوال اٹھانے لگے کہ کیا مہمان نواز پٹھان کسی پنجابی مرد و زن کو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ باجوڑ یا وزیرستان میں اپنا کاروبار کھول سکے۔یہ بات سن کر حیرت ضرور ہوتی ہے، مگر زمینی حقائق اس تاثر سے مختلف نظر آتے ہیں۔
یہ وہی قبائلی اضلاع ہیں جہاں سکھ، ہندو، عیسائی اور مسلمان برسوں سے مل جل کر رہتے آئے ہیں۔ جب یہاں ترقیاتی منصوبے شروع ہوتے تھے تو پنجاب کے دور دراز علاقوں سے مزدور روزگار کی تلاش میں یہاں آتے تھے۔ آج بھی ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے سیاحوں کو یہاں صرف سیاح نہیں بلکہ مہمان سمجھا جاتا ہے۔
گزشتہ برسوں میں متعدد خواتین بائیکرز بھی ان علاقوں کا سفر کر چکی ہیں۔ انہوں نے یہاں کی مہمان نوازی، ثقافت اور لوگوں کے رویوں کی کھلے دل سے تعریف کی ہے۔ اس خطے میں مہمان کو عزت دینا صرف روایت نہیں بلکہ ایک مضبوط سماجی قدر سمجھا جاتا ہے۔
یہ قبائلی اضلاع خیبر پختونخوا کا وہ حصہ ہیں جو دہشت گردی سے بار بار متاثر ہوا ہے۔ یہاں کے لوگوں نے ایسے حالات دیکھے ہیں جن کا تصور بھی بہت سے لوگ نہیں کر سکتے۔ یہاں نہ تعلیم کے مناسب وسائل تھے اور نہ بنیادی سہولیات۔
یہاں کے بچوں نے برستے ہوئے گولوں اور میزائلوں کے درمیان اپنے والدین کو کھوتے دیکھا ہے۔ انہوں نے ڈرون طیاروں کی گھن گرج سنی ہے اور اسکولوں و مدارس پر حملے بھی دیکھے ہیں جہاں معصوم بچے شہید ہوتے رہے۔ لینڈ مائنز کے دھماکوں میں کسی نے اپنا بازو کھویا، کسی نے ٹانگ اور کسی نے اپنے وجود کا آدھا حصہ۔
یہ وہ لوگ ہیں جو ان حالات سے مجبور ہو کر اپنا گھر بار، زمین اور کاروبار چھوڑ کر صرف اپنی جان بچانے کے لیے پنجاب اور دیگر علاقوں میں جا بسے۔ اس کے باوجود انہوں نے جہاں بھی رہائش اختیار کی وہاں محنت کی اور زندگی کو دوبارہ سنوارنے کی کوشش کی۔
اسی تناظر میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ خیبر پختونخوا ہمیشہ سے مختلف قوموں اور مذاہب کے لوگوں کا گھر رہا ہے۔ یہاں سکھ، ہندو اور عیسائی برادریاں بھی برسوں سے آباد رہی ہیں جبکہ ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے لوگ یہاں کاروبار اور روزگار کرتے رہے ہیں۔ یہی تنوع اس خطے کی ثقافت کو مزید وسعت اور رنگا رنگی بخشتا ہے۔
صحیفہ جبار خٹک نے اپنی ویڈیو میں پٹھانوں کے حوالے سے اعتماد کی بات کی ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ انہیں صاف نیت اور محنتی عملہ چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ کاروبار کے معاملے میں ہر انسان یہی چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ کام کرنے والا شخص قابلِ اعتماد ہو، چاہے وہ کسی بھی رنگ، نسل، قوم یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو۔
بازاروں اور مارکیٹوں میں دیکھ لیا جائے تو اکثر دکانداروں کے ساتھ کام کرنے والے ہیلپر نہ ان کے رشتہ دار ہوتے ہیں، نہ ہم قبیلہ اور نہ ہی ہم محلہ۔ وہ صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جن پر انہیں اعتماد ہوتا ہے۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ جب ہمیں ایک شخص دھوکہ دیتا ہے تو بعض اوقات ہمیں پوری قوم میں وہی دھوکہ نظر آنے لگتا ہے۔ شاید ہماری سوچ کو اسی طرح تشکیل دیا گیا ہے۔ اسی لیے کبھی سارے پٹھان دہشت گرد دکھائے جاتے ہیں، کبھی انہیں سادہ لوح بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور کبھی انہیں صرف تندور پر روٹی پکانے یا جنگ لڑنے تک محدود کر دیا جاتا ہے۔
اگر کسی ڈرامے میں جنگ دکھانی ہو تو اسے فوراً وزیرستان سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اور اگر کسی کردار کو نوکر بنانا ہو تو اسے پاکول ٹوپی پہنا کر “گل خان” بنا دیا جاتا ہے۔ یہ وہ کردار ہیں جنہیں ہم بچپن سے میڈیا میں دیکھتے آئے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے خلاف کبھی پوری قوم نے آواز بلند نہیں کی کیونکہ شاید یہ مسئلہ ہمیشہ ایک مخصوص طبقے تک محدود سمجھا گیا۔
مجھے بچپن سے اخبار پڑھنے کا بہت شوق تھا مگر ہمارے گھر اخبار نہیں آتا تھا۔ کبھی پڑوسی کے دروازے کے سامنے سے اٹھا لیتی تھی اور کبھی گاؤں میں نانا ابو کے پڑھے ہوئے پرانے اخبار پڑھنے کو مل جاتے تھے۔
ایک بار انہی اخبارات میں ایک کالم پڑھا تھا جس کی ایک سطر آج بھی یاد ہے۔ اس میں لکھا تھا کہ وہاں کوئی بھی پاکستانی نہیں تھا۔
یہ کسی غیر ملکی سیاح کی کہانی تھی۔ وہ جب پاکستان آیا تو لوگوں سے پوچھتا کہ آپ کون ہیں۔ کوئی کہتا میں پٹھان ہوں، کوئی کہتا میں پنجابی ہوں، کوئی کہتا میں سندھی ہوں اور کوئی خود کو بلوچ کہتا تھا مگر شاید ہی کسی نے کہا ہو کہ میں پاکستانی ہوں۔
آج بھی ہماری جدوجہد پاکستانی ہونے کے لیے نہیں بلکہ پٹھان، پنجابی، سندھی اور بلوچ ثابت ہونے کے لیے ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی ایک شخص کی رائے پوری قوم کی نمائندگی نہیں کرتی۔ جب کوئی فرد اپنی بات کرتا ہے تو اسے اسی فرد تک محدود رکھا جانا چاہیے، نہ کہ اسے بنیاد بنا کر قوموں اور زبانوں کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کی جائیں۔
کیونکہ جب معاشرے میں ہر بات کو تعصب کا رنگ دے دیا جائے تو مکالمہ ختم ہو جاتا ہے، اور جہاں مکالمہ ختم ہو جائے وہاں صرف نفرت باقی رہ جاتی ہے۔
