رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں جب عصر کے سائے ڈھلنے لگتے ہیں تو پشاور کے بازاروں میں ایک عجیب سی بے چینی پھیل جاتی ہے۔ ہر شخص کے قدم تیز ہو جاتے ہیں، ہر دل میں ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ اذان سے پہلے گھر پہنچ کر اپنے بچوں کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ سکے۔ 

 

دکانوں کے شٹر گر رہے ہوتے ہیں، تالے لگ رہے ہوتے ہیں اور گلیوں میں گھروں کو لوٹتی ہوئی زندگی کی چاپ سنائی دیتی ہے۔ گھروں کے آنگنوں میں بچے افطاری کی راہ تک رہے ہوتے ہیں، مائیں دسترخوان سجا رہی ہوتی ہیں اور فضا میں دعا اور شکر کا احساس گھلا ہوتا ہے۔

 

مگر ٹھیک اسی وقت، جب دنیا گھروں کی طرف بھاگ رہی ہوتی ہے، کچھ نوجوان اور رضاکار سڑکوں کا رخ کرتے ہیں۔ چوراہوں پر قناتیں لگتی ہیں، دیگوں کے ڈھکن کھلتے ہیں اور افطار کے دسترخوان سجنے لگتے ہیں۔

 

 یہ جذبہ، یہ تڑپ اور خدمت کا یہ شوق یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ اسے دیکھ کر دل کو سکون ملتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہمدردی ابھی زندہ ہے۔لیکن جب اسی منظر کا دوسرا رخ سامنے آتا ہے تو ذہن میں کئی سوالات جنم لینے لگتے ہیں۔

 

مجھے یاد ہے کہ پشاور میں افطار کا یہ رنگ پہلے اتنا نمائشی نہیں تھا۔ ہسپتالوں کے باہر تیمارداروں کے لیے ایک سادہ سی سبیل ہوا کرتی تھی، یا کسی مسافر کو راستے میں کھجور اور شربت تھما دیا جاتا تھا تاکہ وہ سکون سے روزہ افطار کر سکے۔ سادگی تھی، اخلاص تھا، اور خاموشی سے ثواب کمانے کی تمنا تھی۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: کراٹے ٹیم کے دورہ روس میں انسانی اسمگلنگ کا انکشاف، ایف آئی اے کی تحقیقات شروع

 

آج منظر کچھ اور ہے۔ باچا خان چوک ہو یا صدر، یونیورسٹی روڈ ہو یا خیبر بازار، ہر جگہ جیسے ایک میلہ سا لگا ہوتا ہے۔ روزانہ لاکھوں روپے ان سڑکوں پر خرچ ہو رہے ہیں۔ میں اس نیک کام کی مخالفت نہیں کر رہا، نہ ہی کسی کے جذبے پر سوال اٹھا رہا ہوں۔

 

 مگر کیا ہم نے کبھی ٹھہر کر سوچا ہے کہ جس مقصد کے لیے یہ سب کچھ ہو رہا ہے، کیا وہ واقعی حاصل بھی ہو رہا ہے؟

ان دسترخوانوں پر بیٹھنے والوں میں حقیقی مسافر آٹے میں نمک کے برابر ہوتے ہیں۔

 

 اکثر وہاں وہ لوگ نظر آتے ہیں جو گھر کی ذمہ داریوں سے جی چرا کر مفت کے لقمے توڑنے آ جاتے ہیں۔ کچھ نشئی بھی شامل ہوتے ہیں جن کا روزے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اور کچھ ہٹے کٹے مرد بھی، جو بیوی بچوں کو گھر میں چھوڑ کر خود مرغن غذاؤں سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔یہ منظر دل میں ایک چبھن پیدا کرتا ہے۔

 

اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب کچھ لوگ محض تشہیر کے لیے دسترخوان سجاتے ہیں۔ موبائل کیمرے آن ہوتے ہیں، ٹک ٹاک کے ویوز سمیٹے جاتے ہیں، اور سفید پوش انسان جو مجبوری میں وہاں بیٹھا ہوتا ہے، کیمرہ دیکھ کر نظریں چرا لیتا ہے۔

 

 وہ اپنے چہرے کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ اس کے لیے یہ صرف افطار نہیں، اس کی مجبوری کی نمائش بھی ہے۔ کیا ہم نے کبھی اس کی دل آزاری کا احساس کیا ہے؟میرا سوال تمام مخیر حضرات سے بہت سادہ ہے:

 

کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ سڑکوں پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بجائے ہم ان مستحق خاندانوں کی فہرست تیار کرتے جن کے گھروں میں دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں؟ اگر ہم راشن خرید کر خاموشی سے ان کے گھروں کی دہلیز تک پہنچا دیں، تو وہ باپ جو سڑک پر بیٹھ کر نظریں چرا رہا ہوتا ہے، وہی شخص اپنے گھر میں عزت کے ساتھ بیوی بچوں کے درمیان افطار کر سکے گا۔

 

خیرات کا مقصد صرف پیٹ بھرنا نہیں، عزت بچانا بھی ہوتا ہے۔ہمیں لوگوں کو عارضی سہارا دینے کے بجائے انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہوگا۔ رمضان میں جو لوگ بے روزگار ہو جاتے ہیں، انہی وسائل سے ہم ہزاروں نوجوانوں کو چھوٹے چھوٹے روزگار فراہم کر سکتے ہیں۔ 

 

اگر کسی کو فروٹ چاٹ، دہی بھلے یا دیگر چھوٹا کاروبار شروع کرنے میں مدد دے دی جائے تو وہ سڑک کے دسترخوان پر بیٹھنے کے بجائے اپنی محنت کی کمائی سے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے قابل ہو سکتا ہے۔

 

رضاکاروں کا جذبہ بے شک درست ہے، مگر اب طریقۂ کار بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ شہر کے چوراہوں پر رونق لگاتے وقت کہیں کسی گھر کی دہلیز پر بیٹھی ماں یا بیٹی بھوکی تو نہیں رہ گئی۔

 

اگر ہم افطار کے دسترخوان سڑکوں سے اٹھا کر غریبوں کے گھروں تک پہنچا دیں تو افطار کی خوشیاں صرف چوراہوں اور مردوں تک محدود نہیں رہیں گی، بلکہ ہر اس گھر کے آنگن میں مسکراہٹ بن کر بکھر جائیں گی جہاں اس وقت خاموشی اور فاقہ بسیرا کیے ہوئے ہیں۔شاید یہی وہ خدمت ہو جو نہ صرف پیٹ بھرے، بلکہ دلوں کو بھی سیراب کر دے۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔