پاکستانی سیاست میں بیانیوں  کی جنگ کوئی نئی بات نہیں۔ کبھی "جمہوریت بہترین انتقام ہے" کا نعرہ سنائی دیتا ہے تو کبھی "میں ان کو رُلاؤں گا" جیسی للکار۔

 

 حالیہ دنوں جب عمران خان کی جیل میں طبیعت ناساز ہونے کی خبریں سامنے آئیں تو صدر مملکت آصف علی زرداری نے بانی پی ٹی آئی عمران خان  کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:“جیل مردوں کی طرح کاٹی جاتی ہے، خواتین کی طرح رونے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔”

 

یہ جملہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ہمارے سیاسی اور سماجی رویّوں کی عکاسی بھی کرتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آصف علی زرداری نے اپنی زندگی کے تقریباً گیارہ برس قید میں گزارے۔

 

 ان پر کرپشن سے لے کر قتل تک سنگین الزامات لگے، طویل قیدِ تنہائی کاٹی، اور سیاسی انتقام کا سامنا کیا۔ ممکن ہے یہ بیان انہوں نے اپنے اسی ماضی کی یاد میں دیا ہو۔ شاید ان کا اشارہ اس حقیقت کی طرف تھا کہ سیاست میں بڑے فیصلے اور طاقتور حلقوں سے ٹکر لینا جیل کی راہ ہموار کر دیتا ہے، اور اسے واویلا کے بجائے حوصلے سے برداشت کرنا چاہیے۔

 

لیکن اس بیان کا دوسرا پہلو بھی ہے — اور وہ زیادہ حساس اور گہرا ہے۔ یہ جملہ ہمارے معاشرے کی اس پدرسری سوچ کو ظاہر کرتا ہے جہاں کمزوری کو عورت سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ گویا رونا، تکلیف کا اظہار کرنا یا بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنا "خواتین والا" عمل ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا انسانی تکلیف کا اظہار صنف دیکھ کر ہوتا ہے؟

 

یہ بھی پڑھیے:  خیبر پختونخوا: خواتین کے لیے ڈیجیٹل مہارتوں کا نیا پروگرام شروع

 

پی ٹی آئی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ عمران خان کو جن حالات میں رکھا گیا ہے وہ بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہیں، اور سہولیات کا مطالبہ کرنا ہر شہری کا حق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آصف زرداری خود نظام کا حصہ بن کر ریلیف حاصل کر چکے ہیں، اس لیے انہیں ایسے سخت جملے زیب نہیں دیتے۔

 

زرداری صاحب نے اپنی بہن فریال تالپور کا حوالہ بھی دیا، جنہیں عید کی رات جیل بھیجا گیا تھا۔ یہ یاد دہانی دراصل اس الزام کا جواب تھی کہ موجودہ حکومت سیاسی انتقام لے رہی ہے۔ زرداری صاحب کا کہنا ہے کہ سیاسی انتقام ان کے خاندان کے خلاف بھی لیا گیا، حتیٰ کہ خواتین کو بھی نہیں بخشا گیا۔ ان کے مطابق یہ روایت ان کے دور میں نہیں بلکہ مخالفین کے ادوار میں پروان چڑھی۔

 

لیکن سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا سیاست میں جیل جانا لازمی امتحان ہے؟اور کیا جیل میں بنیادی سہولیات کا مطالبہ کرنا کمزوری ہے یا حق؟

 

آصف علی زرداری کو اکثر "مفاہمت کا بادشاہ" کہا جاتا ہے، مگر اس طرح کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ سیاسی خلیج اس قدر گہری ہو چکی ہے کہ اب اختلاف نظریاتی نہیں، ذاتی اور طنزیہ ہو چکا ہے۔ ایک طرف اتحاد اور مفاہمت کی بات کی جاتی ہے، دوسری طرف ایسے جملے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔

 

سیاسی مخالفت میں کمزور طبقات کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بھی افسوسناک روایت بنتی جا رہی ہے۔ اڈیالہ جیل کے باہر ایک صحافی کا سہیل آفریدی کے کوآرڈینیٹر شفیع جان سے یہ سوال کہ ٹرانس جینڈر گل چاہت سے آپ کا تعلق کتنا پرانا ہے — دراصل تذلیل کی ایک کوشش تھی۔

 

 اس پر گل چاہت کا جواب  دل کو چیر دینے والا تھا کہ "یہ کیسی صحافت ہے کہ آپ ایک ٹرانس جینڈر کو بنیاد بنا کر دوسرے شخص کو ٹارگٹ کر رہے ہیں؟ ہمارے جنس کے ذریعے دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کیوں کی جاتی ہے؟" یہ سوال صرف ایک فرد کا نہیں، پورے معاشرے کا آئینہ ہے۔

 

ہمارے ہاں جب کسی مرد کو کمزور دکھانا ہو تو کہا جاتا ہے: "چوڑیاں پہن لو"، "عورتوں کی طرح مت روؤ"، "ڈرپوک نکلے"۔ یہ کتنا بڑا تضاد ہے کہ جس عورت کے بغیر نسلِ انسانی کا وجود ممکن نہیں، جو گھر اور باہر دونوں محاذوں پر ڈٹی ہوئی ہے، اسی کو کمزوری کی علامت بنا دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خواتین اکثر مردوں سے زیادہ جسمانی اور سماجی مشکلات برداشت کرتی ہیں، مگر انہیں ہمیشہ کمتر سمجھا گیا۔

 

پاکستان کی تاریخ ایسی بہادر خواتین سے بھری پڑی ہے جنہوں نے ناقابلِ یقین حوصلہ دکھایا۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی جوانی کے قیمتی سال قیدِ تنہائی اور سخت جیلوں میں گزارے۔ 

 

سکھر جیل کی جھلسا دینے والی گرمی ہو یا سیاسی انتقام کی تلخیاں، وہ چٹان کی طرح ڈٹی رہیں اور دو بار وزیرِاعظم منتخب ہوئیں۔ آمریت کے دور میں جب کئی مرد رہنما روپوش تھے، نصرت بھٹو سڑکوں پر نکلیں، لاٹھیاں کھائیں اور مزاحمت کی علامت بن گئیں۔

 

لہٰذا جیل کاٹنا یا مشکلات سہنا کسی صنف سے وابستہ نہیں، یہ صرف ہمت، نظریے اور حوصلے کی بات ہے۔ آج ہماری سیاست ذاتی بغض اور انا کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے۔

 

 جب رہنما ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اخلاقی حدیں عبور کر لیتے ہیں تو نقصان کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہوتا ہے۔ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، مگر سیاسی توانائی بیانیوں کی جنگ میں صرف ہو رہی ہے۔

 

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہی وقت، یہی توانائی اور یہی وسائل ملک کی ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے، عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور قومی اتحاد مضبوط کرنے پر لگائے جائیں تو پاکستان کہاں سے کہاں پہنچ سکتا ہے۔

 

 اس تمام بحث سے بڑھ کر ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ گفتگو میں صنفی امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔ سیاسی اختلاف کو ذاتی تذلیل یا کسی صنف کی تحقیر کا ذریعہ بنانا نہ اخلاقی ہے نہ جمہوری۔

 

سیاست کا اصل مقصد انتقام نہیں، تعمیر ہونا چاہیے۔ انا نہیں، اتحاد ہونا چاہیے۔

اور سب سے بڑھ کر — انسان کی عزت، اس کی صنف سے بالاتر ہو کر، محفوظ رہنی چاہیے۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔