ضلع کرم کے وسطی علاقے پارا چنار اور گردونواح سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد لوئر کرم کے عارضی بے گھر افراد کے کیمپ میں مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

 

 متاثرین نے حکومت سے فوری واپسی، کیمپ میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور رمضان المبارک کے لیے خصوصی امدادی پیکج دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق تورغر، جوگے، جودرہ، علی شیرزئی اور زیمُشت سمیت مختلف علاقوں سے چار ماہ قبل خراب امن و امان کی صورتحال کے باعث نقل مکانی کرنے والے افراد تاحال اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے۔ 

 

یہ بھی پڑھیے:  خیبر: وادی تیراہ سے کتنے افراد نقل مکانی کر چکے، کتنے متاثرین کو مالی امداد فراہم کی گئی؟

 

لوئر کرم میں قائم عارضی کیمپ میں اس وقت 500 سے زائد رجسٹرڈ خاندان مقیم ہیں جبکہ متعدد خاندان اپنے رشتہ داروں کے ہاں رہائش پذیر ہیں۔

 

ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرین نے بتایا کہ کیمپ میں پینے کے صاف پانی، علاج معالجے اور دیگر بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے، جس کے باعث خواتین، بچوں اور بزرگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام کی یقین دہانیوں کے باوجود عملی اقدامات تاحال نظر نہیں آئے۔

 

متاثرین کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ضلع کرم کے دورے کے دوران مسائل کے حل اور جلد واپسی کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔

 

کیمپ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی فوری واپسی یقینی بنائی جائے، کیمپ میں صاف پانی، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کی جائیں جبکہ کیمپ سے باہر مقیم خاندانوں کو بھی خیمے اور امدادی سامان دیا جائے۔ متاثرین نے رمضان المبارک کے پیش نظر خصوصی امدادی پیکج کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

 

دوسری جانب ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر پی ڈی ایم اے شیراز باچا کے مطابق متاثرین کو سہولیات کی فراہمی اور مسائل کے حل کے لیے اقدامات جاری ہیں اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔