کوہاٹ کے علاقے خوشحال گڑھ کے مقام پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دیا جانے والا احتجاجی دھرنا چوتھے روز بھی جاری ہے۔

 

 دھرنے کی وجہ سے کوہاٹ پنڈی روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے، جس سے غذائی اجناس کی فراہمی متاثر ہو گئی ہے اور صوبہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان زمینی رابطے میں رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے:  بانی پی ٹی آئی عمران خان کے معائنے کے بعد تازہ طبی رپورٹ جاری

 

شاہراہ کی بندش کے باعث سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ گئی ہیں، جس سے مسافروں بالخصوص خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پنجاب سے خیبر پختونخوا کو مختلف اجناس اور ضروری اشیاء کی ترسیل مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔

 

 مال بردار ٹرکوں کے پھنس جانے سے تاجروں کو لاکھوں روپے کے نقصان کا خدشہ ہے، جبکہ متبادل راستوں پر بوجھ بڑھنے سے ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا ہے۔

 

دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات منظور نہیں ہوتے اور مرکزی قیادت کی جانب سے واضح احکامات موصول نہیں ہوتے، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کارکنوں کا جذبہ بلند ہے اور ہم اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

 

دھرنے کی قیادت سینیٹر خرم ذیشان کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہمراہ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم, ایم پی اے داود آفریدی اور تحصیل میئر ساجد اقبال سمیت دیگر مقامی قائدین بھی موجود ہیں۔ احتجاج میں انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور  یوتھ ونگ کے کارکنان بڑی تعداد میں شریک ہیں اور 

 

دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے تاحال دھرنا ختم کروانے یا راستہ کھلوانے کے لیے کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی، تاہم انتظامیہ مذاکرات کے ذریعے صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔