پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی آنکھ کے مسئلے کو بنیاد بنا کر ملک گیر احتجاج کی کال دی۔ بظاہر یہ احتجاج پورے ملک میں ہونا تھا، مگر حسبِ روایت اس کا دائرہ کار خیبر پختونخوا تک محدود ہو کر رہ گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ کال پارٹی کی مرکزی قیادت نے نہیں دی بلکہ یوتھ ونگ کے سربراہ اور روپوش رہنما خالد خورشید کی جانب سے جاری کی گئی۔ احتجاج کا آغاز پشاور سے ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہی روز میں خیبر پختونخوا کو پنجاب اور اسلام آباد سے ملانے والی بڑی شاہراہیں بند کر دی گئیں۔
بند راستے، بند نظامِ زندگی
پانچ روز گزرنے کو ہیں اور صورتِ حال جوں کی توں ہے۔ اس وقت حویلیاں کے مقام پر ہزارہ موٹر وے، صوابی میں انبار انٹرچینج (ایم ون موٹروے)، کوہاٹ-پنڈی روڈ پر خوشحال گڑھ، ڈی آئی خان-بھکر روڈ، ڈی آئی خان-میانوالی روڈ اور سی پیک یارک انٹرچینج احتجاج کے باعث بند ہیں۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان رابطہ عملاً منقطع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کوہاٹ: پی ٹی آئی کا احتجاج تاحال جاری، کون سی سڑکیں بند ہیں؟
شدید عوامی دباؤ کے بعد اٹک کے مقام پر جی ٹی روڈ کھول دی گئی، مگر باقی راستوں کی بندش نے ٹریفک کا بوجھ اسی ایک راستے پر منتقل کر دیا۔ کئی کئی کلومیٹر لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ گاڑیوں میں محصور خواتین، بچے اور بزرگ بنیادی انسانی ضروریات کے لیے قریبی دیہاتوں میں جا کر منت سماجت کرنے پر مجبور ہیں۔
ٹرانسپورٹرز مالی نقصان کا رونا رو رہے ہیں اور کئی مقامات پر کارکنان اور شہریوں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی ہے۔
.jpeg)
احتجاج ہے، قیادت کہاں ہے؟
یہ احتجاج عملاً بغیر مرکزی قیادت کے چل رہا ہے۔ خوشحال گڑھ میں سینیٹر خرم ذیشان، صوابی میں صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی، معاونِ اطلاعات شفیع جان اور یوتھ ونگ کے رہنما موجود ہیں، مگر کارکنان کسی کی سننے کو تیار نہیں۔ وہ اپنی مرضی سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اپنی پارلیمانی پارٹی کے ہمراہ خیبر پختونخوا ہاؤس میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ اسپیکر بابر سلیم سواتی، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور دیگر اراکینِ اسمبلی بھی وہیں موجود ہیں، لیکن خود پارٹی رہنما تسلیم کر رہے ہیں کہ کارکنان ان کے کنٹرول میں نہیں۔ یہ صورتِ حال ایک سیاسی جماعت کے اندر نظم و ضبط کے فقدان کو نمایاں کرتی ہے۔
.jpeg)
اعتماد کا بحران
مظاہرین سے بات کی جائے تو وہ عمران خان کے علاج کا مطالبہ تو کرتے ہیں، مگر کسی پر اعتماد نہیں کرتے۔ علی امین گنڈاپور سے مایوسی کے بعد اب سہیل آفریدی پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ بیرسٹر گوہر اور جنید اکبر بھی کارکنوں میں وہ اعتماد برقرار نہیں رکھ سکے۔
پارٹی اس وقت ہر بڑے فیصلے کے لیے محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دیکھ رہی ہے، حالانکہ یہ دونوں اپنی الگ سیاسی جماعتوں کے سربراہ ہیں، لیکن قیادت کے خلا نے انہیں غیر رسمی طور پر قابلِ اعتماد شخصیات بنا دیا ہے۔ یہ منظرنامہ واضح کرتا ہے کہ احتجاج کی شدت اپنی جگہ، مگر سیاسی سمت مبہم ہے۔
اس غیر یقینی صورتِ حال کا براہِ راست اثر خیبر پختونخوا کی عوام پر پڑ رہا ہے۔ پانچ روز سے انتظامی امور معطل ہیں۔ رمضان میں صرف دو روز باقی ہیں اور اشیائے خورد و نوش کی سپلائی چین پانچ روز سے متاثر ہے۔ مارکیٹوں میں اشیائے خورد و نوش کی فراہمی دباؤ کا شکار ہے۔
رامپورہ بازار صوبے کا بڑا غلہ منڈی مرکز سمجھا جاتا ہے اور اس وقت غیر معمولی دباؤ میں ہے۔ تاجر اپنا محفوظ اسٹاک مارکیٹ میں لا رہے ہیں تاکہ فوری بحران پیدا نہ ہو، مگر یہ عارضی حل ہے۔ خیبر پختونخوا میں مرغی کا گوشت 70 فیصد سے زائد پنجاب سے آتا ہے جبکہ آٹے کی 75 فیصد فراہمی بھی پنجاب سے ہوتی ہے۔ دالیں، چینی، بیسن اور دیگر اشیا بھی پنجاب پر انحصار کرتی ہیں۔ اگر راستے بند رہے تو قیمتوں میں اچانک اور بے قابو اضافہ خارج از امکان نہیں۔

یہ احتجاج اپنے سیاسی مقصد سے زیادہ انتظامی اور معاشی بحران کا سبب بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ احتجاج کیوں ہو رہا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا اس احتجاج کی کوئی منظم قیادت، واضح حکمتِ عملی اور اختتامی راستہ موجود ہے؟
جب سیاسی قیادت کارکنوں پر اختیار کھو دے اور صوبہ عملی طور پر بند ہو جائے تو نقصان صرف حکومت یا اپوزیشن کا نہیں ہوتا، سب سے زیادہ قیمت عام شہری ادا کرتا ہے۔
