خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے پیش نظر کسانوں نے روایتی فصلوں کے بجائے قیمتی اور کم پانی میں کاشت ہونے والی فصلوں کی طرف رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ ضلع کرم اور اپر دیر میں پہلی بار زعفران کی کامیاب کاشت اس تبدیلی کی واضح مثال کے طور پر سامنے آئی ہے۔

 

ضلع کرم میں پہلی بار زعفران کی کاشت: اکبر حسین کی کامیابی

 

ضلع کرم کے کسان اکبر حسین نے پہلی مرتبہ زعفران کی کاشت کر کے نئی مثال قائم کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے گندم اور مختلف سبزیوں کی کاشت کرتے تھے، لیکن بارانی علاقے اور غیر متوقع موسمی تبدیلیوں کے باعث اکثر نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔ کبھی بارش کی کمی اور کبھی بے وقت تیز بارشیں اور ژالہ باری فصلوں کو متاثر کر دیتی تھیں۔

اکبر حسین کے مطابق محکمہ زراعت کی جانب سے دی گئی تربیت کے بعد انہوں نے زعفران کی کاشت شروع کی، جو نہ صرف کم پانی میں بہتر پیداوار دیتی ہے بلکہ زیادہ منافع بھی فراہم کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے کے دیگر کاشتکار بھی اب زعفران کو ترجیح دینے پر غور کر رہے ہیں۔

 

85 کنال پر کامیاب کاشت اور منافع کے نئے مواقع

 

ضلع کرم کے محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر فیاض علی کے مطابق پہلی بار تقریباً 85 کنال زمین پر زعفران کی کامیاب کاشت کی گئی ہے، جسے آئندہ مرحلے میں 100 کنال تک توسیع دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک کلو زعفران کی قیمت 15 لاکھ روپے تک ہے، جس کے باعث یہ فصل کسانوں کے لیے انتہائی منافع بخش ثابت ہو سکتی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کے لیے خصوصی مہم اور ورکشاپس کا انعقاد کیا تاکہ انہیں زعفران کی کاشت کے جدید طریقوں سے آگاہ کیا جا سکے۔

اپر دیر میں بھی سنگِ میل: تجرباتی کامیابی

 

دوسری جانب ضلع اپر دیر میں بھی حکومت کے تعاون سے تجرباتی بنیادوں پر زعفران کی کامیاب کاشت کی گئی۔ دیر، واڑی اور لرجم کے علاقوں میں 16 کنال اراضی پر زعفران کے بلب لگائے گئے، جو کامیابی سے پھول دینے میں کامیاب رہے۔

 

محکمہ زراعت اپر دیر کے ڈائریکٹر اسلام الحق کے مطابق صوبے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ابتدائی طور پر آٹھ اضلاع کا انتخاب کیا گیا تھا، جن میں اپر دیر بھی شامل تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع کی آب و ہوا زعفران کے لیے موزوں ہے اور مقامی زمینداروں نے اس نئی اور قیمتی فصل کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

 

موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات

 

محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر ایکسٹینشن ایگریکلچر ڈاکٹر حافظ فرہاد نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کاشتکاروں کو جدید زرعی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ صوبے بھر میں سو سے زائد فارم سروس سینٹرز کام کر رہے ہیں، جن کے ساتھ ڈھائی لاکھ سے زائد رجسٹرڈ کاشتکار منسلک ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کسانوں کو بیج، کھاد اور زرعی مشینری سے متعلق رہنمائی دی جاتی ہے، جبکہ ایس ایم ایس سروس کے ذریعے انہیں موسم، فصلوں کے انتخاب اور ممکنہ خطرات سے متعلق بروقت آگاہ کیا جاتا ہے۔ ٹیری فارمنگ سیٹ اپ کے تحت تقریباً سات لاکھ رجسٹرڈ کاشتکاروں کو موسمیاتی تغیر سے بچاؤ اور جدید کاشتکاری کے طریقوں سے متعلق معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

 

ڈاکٹر حافظ فرہاد کے مطابق محکمہ زراعت اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ کاشتکار نئی فصلوں اور جدید تکنیک کے ذریعے نہ صرف موسمیاتی چیلنجز کا مقابلہ کریں بلکہ اپنی آمدنی میں بھی اضافہ کر سکیں۔

 

زعفران کی معاشی اہمیت اور عالمی منڈی

 

ماہرین کے مطابق اگر زعفران جیسی کم پانی میں پیدا ہونے والی اور زیادہ منافع بخش فصلوں کو فروغ دیا جائے تو یہ نہ صرف کسانوں کی معاشی حالت بہتر بنا سکتی ہیں بلکہ صوبے کی زرعی معیشت میں بھی نمایاں بہتری لا سکتی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی حشرات کی تعداد اور اقسام کو کس طرح بدل رہی ہے؟

 

عالمی منڈی میں زعفران کی مانگ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اسے دنیا کا سب سے قیمتی مصالحہ تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 90 فیصد زعفران کی پیداوار ایران میں ہوتی ہے، جبکہ افغانستان، اسپین اور کشمیر بھی نمایاں پیداواری خطوں میں شامل ہیں۔

 

زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر معیاری طریقے سے کاشت، پراسیسنگ اور پیکنگ کو یقینی بنایا جائے تو بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی زعفران کی قیمت تقریباً 17 ہزار ڈالر فی کلو تک پہنچ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ قیمت نہ صرف فصل کی معاشی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ اسے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمانے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی بنا سکتی ہے۔