طورخم سرحدی گزرگاہ گزشتہ چار ماہ سے زائد عرصے سے ہر قسم کی آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند ہے، جس کے باعث پاکستان کو صرف برآمدات کی مد میں 24 کروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ مجموعی تجارتی خسارہ اربوں روپے تک پہنچ گیا ہے۔ بندش سے ہزاروں افراد بے روزگار اور سرحدی علاقوں کی معیشت مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

 

سرحدی ذرائع کے مطابق بارڈر گزشتہ سال 12 اکتوبر سے بند ہے۔ بندش سے قبل طورخم کے راستے روزانہ تقریباً 20 لاکھ ڈالر کی برآمدات اور 5 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک کی درآمدات ہوتی تھیں۔ 

 

اگر صرف برآمدات کے یومیہ 2 ملین ڈالر کے حساب سے 120 دن کا تخمینہ لگایا جائے تو 24 کروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ درآمدات کی بندش سے بھی کئی سو ارب روپے کے خسارے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے:  کرم: متاثرین کیمپ میں کتنے خاندان رجسٹرڈ اور کن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں

 

بندش سے قبل روزانہ تقریباً دس ہزار افراد اور پانچ سو سے سات سو کے درمیان مال بردار و مسافر گاڑیاں سرحد پار کرتی تھیں۔ اچانک تعطل نے سپلائی چین، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور سرحدی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

 

آل کسٹم کلیئرنس ایجنٹس کے صدر مجیب شینواری کے مطابق طورخم میں مختلف شعبوں سے وابستہ ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے۔ 150 سے زائد کلیئرنس ایجنٹس کے دفاتر بند ہیں جبکہ کم از کم ایک ہزار افراد براہ راست بے روزگار ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول، “درجنوں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو نقصان ناقابلِ تلافی ہو سکتا ہے۔”

 

طورخم مزدور یونین کے صدر ذاکر شینواری کے مطابق چار ہزار سے زائد مزدوروں کا روزگار سرحد سے وابستہ تھا۔ ڈرائیورز، لوڈنگ ان لوڈنگ عملہ، ہوٹل مالکان اور دیگر خدمات فراہم کرنے والے افراد بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔

 

 ان کا کہنا ہے کہ تجارت کی بندش سے ملک کے مختلف حصوں میں قائم کارخانے بھی متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ خام مال اور تیار مال کی ترسیل رک گئی ہے۔

 

لنڈی کوتل تاجر یونین کے نائب صدر فیصل ملوک کے مطابق سرحدی تجارت بند ہونے سے مقامی بازار ویران ہو چکے ہیں اور روزمرہ اشیاء کی خرید و فروخت تقریباً ٹھپ ہے۔

 

افغانستان سے سبزیوں اور ڈرائی فروٹ کی درآمد بند ہونے سے مقامی منڈیوں میں ٹماٹر، پیاز، بادام، کشمش، انجیر، پستہ اور جلغوزی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ پاکستان سے افغانستان برآمد ہونے والی اشیاء مثلاً آلو، کینو، کیلا، گڑ اور ادویات کی سپلائی رکنے سے مقامی سطح پر ان کی قیمتیں گر گئی ہیں، جس سے کسانوں اور صنعت کاروں کو مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

 

11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی سیکیورٹی چوکیوں پر حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد حالات کشیدہ ہوئے، جس کے نتیجے میں طورخم کے علاوہ خرلاچی سرحدی گزرگاہ، غلام خان سرحدی گزرگاہ، انگور اڈہ سرحدی گزرگاہ اور چمن سرحدی گزرگاہ کو بھی بند کر دیا گیا۔

 

سینئر صحافی اسلام گل آفریدی کے مطابق پاکستان نے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت اور توانائی کے کئی معاہدے کیے ہیں، تاہم افغانستان کے ساتھ کشیدگی ان منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

 

 انہوں نے CASA-1000 منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی عدم استحکام کے باعث اس سے مکمل فائدہ حاصل نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق افغانستان کے بغیر وسطی ایشیا تک زمینی رسائی ممکن نہیں۔

 

مقامی عمائدین، تاجر تنظیموں اور مزدور نمائندوں نے مشترکہ مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ممالک سیاسی و سفارتی سطح پر فوری مذاکرات کریں اور طورخم سمیت دیگر سرحدی گزرگاہوں کو مرحلہ وار کھولنے کا لائحہ عمل طے کریں، کیونکہ یہ معاملہ صرف ایک سرحد تک محدود نہیں بلکہ دوطرفہ تجارت، علاقائی روابط اور ہزاروں خاندانوں کے معاشی مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔