خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں صحافیوں کو بم دھماکے میں نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے باوجود تاحال ایف آئی آر درج نہ ہو سکی، جس پر صحافتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
چارسدہ پریس کلب کے اراکین گزشتہ دو ماہ سے ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور پولیس کے رویے کو مبینہ طور پر غیر سنجیدہ قرار دے رہے ہیں۔
“تمہارا ٹھکانہ باچا خان چوک ہوگا”
دو دسمبر 2025 کی شام صحافی رفاقت اللہ رازڑوال چارسدہ پریس کلب میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ موجود تھے کہ ان کے موبائل فون پر ایک وائس میسج موصول ہوا۔ پیغام بھیجنے والے نے خود کو ایک کالعدم مسلح تنظیم کا نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے دھمکی دی“تمہیں چارسدہ کے باچا خان چوک میں بم دھماکے کا نشانہ بنایا جائے گا۔”
رفاقت اللہ رازڑوال گزشتہ 13 برسوں سے صحافت سے وابستہ ہیں اور اس وقت ٹرائبل نیوز نیٹ ورک کے لیے بطور رپورٹر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ دھمکی کی مبینہ وجہ وہ ویڈیوز ہیں جو انہوں نے عوامی مسائل پر بنائیں اور اپنے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کیں۔
ان کے مطابق انہوں نے صحافتی اصولوں اور ضابطہ اخلاق کا مکمل خیال رکھا تھا، تاہم اس ایک پیغام نے نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ زندگی بلکہ ان کے پورے خاندان کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا۔
ان دھمکیوں کا سامنا صرف رفاقت اللہ ہی کو نہیں بلکہ چارسدہ کے سینئر صحافی سید شاہ رضا کو بھی ہے۔ 63 سالہ شاہ رضا گزشتہ 39 برسوں سے صحافت سے وابستہ ہیں اور اس وقت ’ریڈیو امید چارسدہ‘ اور اپنے یوٹیوب چینل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، “میرا ایمان ہے کہ موت مقررہ وقت پر آتی ہے، لیکن شکوہ یہ ہے کہ ہماری ایف آئی آر آج تک درج نہیں ہوئی۔”
ایف آئی آر درج کیوں نہ ہو سکی
رفاقت اللہ رازڑوال کے مطابق سنگین دھمکی کے بعد انہیں توقع تھی کہ فوری قانونی کارروائی کی جائے گی، لیکن جب وہ سٹی تھانے پہنچے تو ایس ایچ او نے ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے روزنامچہ میں اندراج کیا اور انہیں احتیاط برتنے اور اسلحہ ساتھ رکھنے کا مشورہ دیا۔
یہ بھی پڑھیے: قبائلی اضلاع میں صحافت: خطرات، دباؤ اور خاموشی کی قیمت
چارسدہ پریس کلب کے صدر سبز علی خان، جو 2019 سے اس عہدے پر فائز ہیں، کہتے ہیں کہ پولیس کی جانب سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ سے ملاقات کی تو انہوں نے اس معاملے سے لاعلمی کا اظہار کیا، جو انتہائی مایوس کن تھا۔
دوسری جانب ایس ایچ او سٹی تھانہ کا مؤقف ہے کہ دھمکی ملنے کے بعد وہ ڈی ایس پی کے ہمراہ پریس کلب گئے تھے اور چونکہ معاملہ دہشت گردی سے متعلق تھا، اس لیے ابتدائی رپورٹ تیار کر کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو ارسال کی گئی۔
تاہم سی ٹی ڈی حکام کے مطابق پولیس کی رپورٹ میں تکنیکی خامیاں تھیں، جس کے باعث فائل ایک ہفتہ قبل دوبارہ سٹی تھانے واپس بھیج دی گئی۔
سید شاہ رضا کا الزام ہے کہ آواز اٹھانے پر انہیں سکیورٹی فراہم کرنے کے بجائے پریس کلب پر تعینات دو پولیس اہلکار بھی واپس بلا لیے گئے۔ ان کے بقول، ڈی پی او انتظامی کارروائیاں کر رہے ہیں، جس کی ایک وجہ ایف آئی آر کے لیے احتجاج اور دوسری وجہ بجلی چوری سے متعلق ایک خبر ہے جس پر واپڈا نے کارروائی کی تھی۔
کشیدہ ماحول اور پیشہ ورانہ خطرات
خیبر پختونخوا جیسے شورش زدہ اور تنازعات سے متاثرہ خطے میں صحافت کرنا محض خبر دینا نہیں بلکہ بقا کی جنگ لڑنے کے مترادف ہے۔ یہاں صحافی دوہری دباؤ کا شکار ہوتے ہیں: ایک جانب ریاست اور سکیورٹی اداروں کی حساسیت، اور دوسری جانب کالعدم تنظیموں کا خطرہ۔
اس پرتشدد ماحول میں معلومات تک رسائی محدود ہے اور معمولی غلطی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ حساس موضوعات پر رپورٹنگ کے دوران صحافیوں کو نہ صرف اپنی بلکہ اپنے اہلِ خانہ کی سلامتی بھی مدنظر رکھنا پڑتی ہے۔
کئی مواقع پر انہیں سچ بیان کرنے سے پہلے اپنی حفاظت کا حساب لگانا پڑتا ہے، جو آزادیِ اظہار پر ایک غیر اعلانیہ دباؤ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
صحافیوں کے تحفظ سے متعلق فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ
صحافتی تنظیم فریڈم نیٹ ورک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا صحافیوں کے لیے ملک کا دوسرا خطرناک ترین صوبہ بن چکا ہے۔ مئی 2024 سے اپریل 2025 کے دوران ملک بھر میں پانچ صحافی قتل ہوئے، جن میں سے دو کا تعلق اسی صوبے سے تھا۔
گزشتہ برس جولائی میں حسن زیب، جون میں خلیل جبران اور مئی میں کامران داوڑ کو قتل کیا گیا۔ یہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دھمکیاں اکثر حقیقی خطرات میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
سید شاہ رضا کے مطابق، "خیبر پختونخوا صحافیوں کے لیے جہنم بنتا جا رہا ہے۔ ذہن میں کوئی خبر کا آئیڈیا آتا ہے تو کام شروع کرنے سے پہلے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کیا میں زندہ گھر واپس جا سکوں گا یا نہیں؟" ان کے بقول سینئر صحافی کسی حد تک ڈٹ جاتے ہیں، لیکن جونیئر صحافی مایوسی کے باعث پیشہ چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
احتجاج کا عندیہ، حکومتی دعوے برقرار
چارسدہ پریس کلب کے صدر سبز علی خان نے اعلان کیا ہے کہ اگر فوری طور پر ایف آئی آر درج نہ کی گئی تو وہ پشاور میں ریجنل پولیس آفیسر کے دفتر کے سامنے احتجاج کریں گے۔ ان کے مطابق، “جب ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم نہ کر سکے تو یہ آزادیِ صحافت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔”
صوبائی حکومت کے مشیرِ اطلاعات شفیع جان کا کہنا ہے کہ حکومت صحافیوں کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے اور کسی بھی دھمکی کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ تاہم متعلقہ صحافیوں کی ایف آئی آر کا تاحال درج نہ ہونا حکومتی دعوؤں پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
صحافت یا بقا کی جنگ؟
رفاقت اللہ رازڑوال آج بھی فیلڈ میں رپورٹنگ کر رہے ہیں، لیکن ہر قدم پر انہیں وہ وائس میسج یاد آتا ہے جس میں انہیں باچا خان چوک پر نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔ چارسدہ اور پشاور کے صحافتی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ریاستی ادارے اپنے ان شہریوں کو موثر تحفظ فراہم کر سکیں گے، یا احتجاج ہی وہ واحد راستہ رہ جائے گا جو حکام کو سنجیدہ اقدام پر مجبور کرے؟
