سوال کی قیمت: ہسپتال میں مبینہ تشدد کا واقعہ

 

نومبر 2022 میں ضلع باجوڑ کے ایک سرکاری ہسپتال میں جاری تعمیراتی کام کے فنڈز سے متعلق سوال اٹھانا ایک صحافی کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن گیا۔ صحافی زاہد جان کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا پر یہ سوال کیا کہ تعمیراتی منصوبے کے لیے مجموعی طور پر کتنا بجٹ جاری ہوا ہے، جس پر ہسپتال انتظامیہ ناراض ہو گئی۔

 

اسی دوران ہسپتال میں ایک متوفی شخص کے ورثاء احتجاج کر رہے تھے، جن کا مؤقف تھا کہ ان کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا جا رہا۔ زاہد جان لواحقین کا مؤقف ریکارڈ کر رہے تھے کہ مبینہ طور پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے آ کر ان پر تشدد کیا اور ان کا موبائل فون چھین لیا۔

 

انتظامیہ نے الزام عائد کیا کہ صحافی مردہ خانے کے اندر جا کر رپورٹنگ کر رہے تھے، تاہم زاہد جان کے مطابق وہ باہر لواحقین کے ساتھ موجود تھے۔

 

انتظامی دباؤ اور انصاف تک رسائی میں رکاوٹیں

 

واقعے کے بعد جب صحافیوں نے احتجاج کیا تو ہسپتال انتظامیہ نے ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ زاہد جان کے مطابق پولیس نے ان کی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھی دباؤ ڈالا گیا۔

 

“مجھے کہا گیا کہ اگر صحافی خاموش رہیں تو میرے خلاف مقدمہ درج نہیں ہوگا، جس کے بعد مجھے مجبوراً صلح کرنا پڑی۔”

 

خاموشی پر مجبور صحافت: عوامی مسائل سے پسپائی

 

زاہد جان کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ نہ عوام، نہ ادارے اور نہ ہی میڈیا تنظیمیں صحافیوں کے ساتھ کھڑی ہیں۔“اب میں عوامی مسائل پر کم رپورٹنگ کرتا ہوں کیونکہ سچ لکھنے کی قیمت بہت زیادہ ہے۔”یہ صورتحال صرف ایک صحافی تک محدود نہیں بلکہ باجوڑ اور دیگر قبائلی اضلاع میں متعدد صحافی اسی نوعیت کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

حساس رپورٹنگ کے نتائج

 

صحافی فضل الرحمان گزشتہ آٹھ برسوں سے باجوڑ میں صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم، صحت اور غیرت کے نام پر قتل جیسے حساس موضوعات پر رپورٹنگ کی، جس کے نتیجے میں انہیں متعدد بار دھمکیاں دی گئیں۔

 

وہ بتاتے ہیں کہ 2021 میں غیرت کے نام پر قتل سے متعلق اسٹوری شائع ہونے کے بعد انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملیں۔“وہ وقت میرے لیے انتہائی مشکل تھا، میں نے گھر والوں کو بھی اس بارے میں نہیں بتایا۔ بعد میں علاقے کے مشران نے مداخلت کر کے معاملہ حل کیا۔”

 

2007 کے بعد کے حالات اور صحافیوں کو لاحق مستقل خطرات

 

فضل الرحمان کے مطابق 2007 کے بعد سے یہ خطہ مسلسل کشیدہ حالات کا شکار رہا ہے۔“یہاں رپورٹنگ کو ذاتی مسئلہ بنا لیا جاتا ہے۔ صحافی کو باور کرایا جاتا ہے کہ اس کے خاندان کو جانا جاتا ہے۔”

 

خواتین صحافی: سکیورٹی اور ثقافتی رکاوٹوں کا دوہرا دباؤ

 

خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع میں خواتین صحافیوں کو مرد صحافیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ سکیورٹی خدشات کے ساتھ ساتھ ثقافتی رکاوٹیں بھی ان کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ بعض خواتین صحافی شناخت ظاہر کیے بغیر کام کرنے پر مجبور ہیں۔

 

قبائلی اضلاع میں خواتین کی آواز کیوں کمزور ہے؟

 

صحافی خالدہ نیاز کے مطابق قبائلی اضلاع میں خواتین صحافیوں کی تعداد نہایت کم ہے۔“کئی علاقوں میں خواتین صحافیوں کا جانا ممکن نہیں ہوتا، جبکہ بعض خواتین کو گھر کی اجازت کے بغیر اپنے نام سے لکھنے کی اجازت بھی نہیں۔”

ان کے مطابق خواتین تعلیم، صحت اور جائیداد جیسے بنیادی مسائل کا شکار ہیں، مگر ان کی آواز بننے والی خواتین صحافی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

 

فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ: خیبرپختونخوا سب سے خطرناک صوبہ

 

صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا صحافیوں کے لیے پاکستان کا سب سے خطرناک صوبہ قرار دیا گیا ہے، جہاں صحافیوں کو حملوں، گرفتاریوں، سنسرشپ اور قانونی پابندیوں کا سامنا ہے۔

 

اعداد و شمار جو صحافیوں کے لیے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں

 

مئی 2024 سے اپریل 2025 کے دوران ملک بھر میں پانچ صحافی قتل ہوئے، جن میں سے دو کا تعلق خیبرپختونخوا سے تھا، جبکہ کم از کم 82 صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو مختلف نوعیت کے خطرات لاحق رہے۔اسی عرصے میں خیبرپختونخوا میں صحافیوں کے خلاف 22 مقدمات درج کیے گئے۔

 

قبائلی اضلاع اور شہری صحافت کے درمیان فرق

 

باجوڑ پریس کلب کے رکن صحافی محمد عاصم کے مطابق قبائلی اضلاع کے صحافی انتہائی دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔“قبائلی اضلاع خیبرپختونخوا میں ضم ہو چکے ہیں، لیکن اب بھی ادارہ جاتی رویوں میں ایف سی آر دور کے اثرات موجود ہیں۔ قبائلی اضلاع اور پشاور کی صحافت میں واضح فرق ہے۔”

 

مسلح گروہ، کرپٹ عناصر اور آزاد صحافت

 

ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے صدر حسبان اللہ کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع میں صحافیوں کو ایک طرف مسلح گروہوں اور دوسری طرف کرپٹ عناصر کا سامنا ہے۔

“یہاں صحافیوں سے مرضی کی رپورٹنگ کا تقاضا کیا جاتا ہے، آزاد صحافت سب سے بڑا خطرہ سمجھی جاتی ہے۔”

حسبان اللہ کے مطابق موجودہ حالات میں صحافیوں کو اپنی جان و سلامتی کو اولین ترجیح دینی چاہیے اور پرخطر رپورٹنگ سے گریز کرنا چاہیے۔