ضلع خیبر کے علاقے وادی تیراہ سے جاری نقل مکانی کا عمل اختتامی مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک 95 فیصد نقل مکانی مکمل ہو گئی ہے۔ 

 

اسسٹنٹ کمشنر باڑہ طلحہ رفیق کے مطابق مجموعی طور پر 26 ہزار 962 متاثرہ گھرانوں کی رجسٹریشن مکمل کی جا چکی ہے، جنہیں ٹرانسپورٹ کی مد میں مالی معاونت فراہم کر دی گئی ہے، جبکہ مزید امدادی ادائیگیوں کا سلسلہ جلد شروع کیا جائے گا۔

 

انتظامیہ کے مطابق وادی تیراہ کے متاثرین کی رجسٹریشن کے لیے پانچ مختلف مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں نادرا کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق اور نجی کمپنیوں کے ذریعے سمز کے اجرا کا عمل جاری ہے۔

 

 اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ رجسٹرڈ افراد کی ازسرنو جانچ کے لیے کمیٹی بھی کام کر رہی ہے تاکہ غیر مقامی یا غلط اندراجات کی نشاندہی کی جا سکے۔ ان کے بقول، یہ عمل شفافیت یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے اور کسی بے ضابطگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

 

یہ بھی پڑھیے:  خیبر پختونخوا میں بگڑتا امن و امان: تین اضلاع میں ہنگامی اقدامات ناگزیر

 

نادرا ذرائع کے مطابق پائندی چینہ رجسٹریشن پوائنٹ پر 11 ہزار 472، ناویہ ملک دین خیل میں 5 ہزار 79، قمبر آباد میں 2 ہزار 412، الحاج مارکیٹ میں 4 ہزار 120 جبکہ تکیہ مرکز قمبر خیل میں 3 ہزار 879 خاندانوں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔

 

دوسری جانب سابق وفاقی وزیر حمیداللہ جان آفریدی کی سربراہی میں وادی تیراہ متاثرین کے مسائل کے حل کے لیے قومی جرگہ منعقد ہوا، جس میں مختلف سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔

 

 جرگے کے اعلامیے میں صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ 24 رکنی تیراہ کمیٹی سے طے شدہ معاہدوں پر فوری عمل درآمد کیا جائے، متاثرین کی بحالی اور واپسی کے اعلان کردہ شیڈول پر مکمل طور پر عمل نہ ہونے کی صورت میں آفریدی اقوام خود واپسی کا فیصلہ کریں گی۔

 

دوسری جانب ذرائع کے مطابق وادی تیراہ کے بعد قبیلہ اکاخیل تیراہ سے تعلق رکھنے والے مقامی افراد کی نقل مکانی رواں ہفتے شروع ہونے کا امکان ہے۔ تحصیل باڑہ چیئرمین مفتی کفیل آفریدی کے مطابق اکاخیل قبیلے کے متاثرین کی رجسٹریشن کے لیے پوائنٹس کے قیام پر کام جاری ہے اور اندازاً چار ہزار سے زائد افراد نقل مکانی کریں گے۔

 

سیاسی سطح پر بھی رجسٹریشن کے عمل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر عبدالرزاق آفریدی نے باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران الزام عائد کیا کہ خیبر ہاؤس میں قائم کمیٹی رجسٹرڈ گھرانوں کی جانچ کے دوران تقریباً 50 فیصد متاثرین کی رجسٹریشن منسوخ کر رہی ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔

 

 ان کا کہنا تھا کہ پولیو ڈیٹا کی بنیاد پر رجسٹریشن کے باعث وہ خاندان متاثر ہو رہے ہیں جن کے ہاں بچے نہیں، حالانکہ وہ وادی تیراہ کے مستقل رہائشی ہیں۔

 

دوسری جانب متاثرین نے “تحریک تیراہ متاثرین” کے نام سے ایک باقاعدہ تحریک کا آغاز کر دیا ہے اور باڑہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ قائم کر دیا گیا ہے۔ تحریک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن پوائنٹس پر عملے کی کمی اور سست روی کے باعث مشکلات بڑھ رہی ہیں، لہٰذا حکومت فوری طور پر کاؤنٹرز اور عملے کی تعداد میں اضافہ کرے۔

 

اسی تناظر میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے قمبر آباد باڑہ میں متاثرین میں امدادی پیکج تقسیم کرنے کے بعد کہا کہ اے این پی متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی آواز ہر فورم پر بلند کرتی رہے گی۔

 

 اس موقع پر خدائی خدمتگار آرگنائزیشن کی جانب سے 50 لاکھ روپے مالیت کے امدادی پیکجز کے پہلے مرحلے میں 150 خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا، جبکہ مزید امداد مرحلہ وار دیگر علاقوں تک پہنچائی جائے گی۔

 

مجموعی طور پر وادی تیراہ کی صورتحال ایک سنگین انسانی اور انتظامی چیلنج کی عکاس ہے، جہاں ایک طرف انتظامیہ شفافیت اور نظم و ضبط پر زور دے رہی ہے، تو دوسری جانب سیاسی جماعتیں اور متاثرین رجسٹریشن اور امدادی طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ بروقت امداد، شفاف رجسٹریشن اور سیاسی ہم آہنگی ہی اس بحران کے مؤثر حل کی کنجی قرار دی جا رہی ہے۔