نوشہرہ میں دریائے سندھ میں غیرقانونی سونے کی کان کنی اور ریت بجری نکالنے کے معاملے پر حکومت خیبرپختونخوا نے کارروائی کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر جہانگیرہ سمیت گریڈ 18 کے ایک اور گریڈ 17 کے تین افسران کو معطل کر دیا، جبکہ ڈی ایس پی آکوڑہ خٹک سرکل اور ڈی ایس پی رسالپور سرکل سمیت چھ تھانوں کے ایس ایچ اوز کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے : کوہاٹ: سونے کی کان بیٹھ گئی، 7 مزدور جاں بحق، ایک زخمی
ذرائع کے مطابق نظام پور کے مقام پر دریائے سندھ میں غیرقانونی سونے کی کان کنی اور مصری بانڈہ میں ریت بجری کی غیرقانونی کان کنی کے باعث قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ اس معاملے میں مبینہ مجرمانہ غفلت برتنے پر فوری ایکشن لیا گیا۔
معطل کیے جانے والے افسران میں اسسٹنٹ کمشنر جہانگیرہ انس الرحمان، اسسٹنٹ کمشنر کوہاٹ III مسز انعم محمود، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر لاچی کوہاٹ، محکمہ معدنیات نوشہرہ کے اے ڈی عارف اللہ اور محکمہ معدنیات کوہاٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد اعجاز شامل ہیں۔
دوسری جانب محکمہ پولیس نے بھی کارروائی کرتے ہوئے ڈی ایس پی آکوڑہ خٹک سرکل جواد خان اور ڈی ایس پی رسالپور سرکل سمیت چھ تھانوں کے ایس ایچ اوز کو تبدیل کر دیا۔
حکومت نے انسداد رشوت ستانی کے ادارے کو بھی واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاکہ ذمہ داران کا تعین کر کے مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
