وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں عالمی بینک کے صدر اجے بنگا سے ملاقات کی، جس میں صحت، تعلیم و ہنر، معدنیات، توانائی اور کلائمیٹ رزیلینس کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت عالمی بینک کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، کیونکہ صوبہ اس وقت صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ جیسے اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر اصلاحات اور سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت اور تعلیم صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں اور ان شعبوں میں خطیر وسائل مختص کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر: جمرود امن جرگہ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے وادی تیراہ سے متعلق تین اہم اور فیصلہ کن اعلانات
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ صوبائی حکومت پرائمری ہیلتھ کیئر کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہے تاکہ عوام کو دہلیز پر معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔ انہوں نے ’’احساس ماں‘‘ پروگرام کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے تحت حمل سے لے کر بچے کی پیدائش تک ماں اور بچے کی مکمل دیکھ بھال حکومت کی ذمہ داری ہوگی، جبکہ بچی کی پیدائش کی صورت میں خاندان کو تین ماہ کی اضافی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے کی سو فیصد آبادی کو یونیورسل ہیلتھ کوریج فراہم کی جا رہی ہے، جو عوامی فلاح و بہبود کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے قدرتی آفات کے باعث خیبر پختونخوا کو ہونے والے شدید نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کلائمیٹ رزیلینس میں سرمایہ کاری بڑھا رہی ہے تاکہ مستقبل کے خطرات سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔
معدنیات کے شعبے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کے وژن کے مطابق اس شعبے میں مقامی آبادی کے مفادات کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے کو غذائی لحاظ سے خود کفیل بنانے کے لیے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات جاری ہیں، جبکہ جنوبی اضلاع میں بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔
ملاقات میں مشیر خزانہ مزمل اسلم، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
