انڈر 21 گیمز میں صوبے کے ساتوں ریجنز اور 36 اضلاع سے 5 ہزار سے زائد مرد و خواتین کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں، جو ایونٹ کی اہمیت اور نوجوانوں میں کھیلوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کا واضح ثبوت ہے۔ 

 

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور اسپورٹس کمپلیکس کی پچ پر انڈر 21 خیبر پختونخوا گیمز کاافتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان گیمز کے انعقاد کا بنیادی مقصد نوجوان کھلاڑیوں کو مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کی فراہمی ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔ 

 

یہ بھی پڑھیے:  وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا نوجوانوں کے لیے اہم اعلان

 

وزیر اعلیٰ نے تمام اضلاع سے آئے ہوئے کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کھیلوں کے میدان ایک بار پھر آباد کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور خیبر پختونخوا کھیلوں کے شعبے میں پورے ملک کی قیادت کرے گا۔

 

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر برائے کھیل خیبر پختونخوا تاج محمد ترند نے کہا کہ طویل عرصے بعد صوبے میں اس نوعیت کے بڑے اسپورٹس ایونٹ کا انعقاد ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق انڈر 21 گیمز میں مردوں کے 38 جبکہ خواتین کے 18 مختلف کھیلوں کے مقابلے شامل ہیں، جن میں صوبہ بھر سے ہزاروں کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔

 

ڈائریکٹر جنرل آف سپورٹس خیبر پختونخوا تاشفین حیدر نے بتایا کہ انڈر 21 گیمز کا باقاعدہ آغاز پشاور سپورٹس کمپلیکس میں ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مردوں کے مقابلے پشاور، حیات آباد، کوہاٹ اور مردان اسپورٹس کمپلیکسز جبکہ خواتین کے مقابلے چارسدہ اور پشاور کے مختلف مقامات پر منعقد کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق گیمز کی اختتامی تقریب 7 فروری کو ہوگی اور خصوصی افراد کے مقابلے بھی ایونٹ کا حصہ ہوں گے۔