صوابی میں ایس ایچ او عبدالعلی نے شادی میں موسیقی اور خواتین کے اکیلے بازار جانے کے بارے میں متنازع بیانات دیے تھے اور ساتھ ہی اپنے واٹس ایپ پروفائل پر افغان وزیر دفاع کی تصویر بھی لگائی ہوئی تھی۔

 

 ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے انہیں واٹس ایپ پروفائل تصویر ہٹانے کے احکامات جاری کیے، تاہم ایس ایچ او نے ان احکامات پر عمل کرنے سے انکار کر دیا۔ ویڈیوز وائرل ہونے اور احکامات نہ ماننے کے بعد پولیس حکام نے انہیں عہدے سے ہٹا کر پولیس لائنز رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

 

یہ بھی پڑھیے:  بیٹیوں کے گرد گھومتی روایتی زنجیریں

 

پولیس ذرائع کے مطابق چند دن قبل ایس ایچ او کی کھلی کچہری کی ویڈیوز بھی وائرل ہوئی تھیں، جن میں وہ کہتے سنے گئے کہ صوابی میں شادی میں موسیقی کی اجازت نہیں ہوگی اور اگر کسی خاتون کو بازار میں خریداری کرنی ہو تو مرد کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔

 

پولیس ذرائع نے مزید بتایا کہ ایس ایچ او عبدالعلی نے اپنے واٹس ایپ پروفائل پر افغان وزیر دفاع کی تصویر بھی لگا رکھی تھی، جس پر بھی انہیں ہٹانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ تاہم عبدالعلی نے متعلقہ افسران کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا۔

 

احکامات نہ ماننے اور متنازع بیانات دینے پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر صوابی نے ایس ایچ او کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ پولیس حکام نے واضح کیا کہ یہ کارروائی ضابطے اور قوانین کے مطابق کی گئی ہے۔

 

اس معاملے پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی ایس ایچ او کے بیان کی مذمت کی تھی۔