باجوڑ کے علاقے زگئی ماموند تحصیل میں اقوامِ ماموند سے تعلق رکھنے والی قوم ملاخیل اور قوم یوسف خیل کا ایک مشترکہ گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں شادی بیاہ، نکاح، جہیز، تعزیت اور دیگر سماجی رسومات سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ جرگے کا بنیادی مقصد موجودہ دور کی شدید مہنگائی، بالخصوص سونے کی غیر معمولی قیمتوں کے تناظر میں معاشرے میں سادگی کو فروغ دینا اور غیر ضروری اخراجات کا خاتمہ قرار دیا گیا۔

 

جرگے میں قبائلی عمائدین،مشران اور علماء کرام نے شرکت کی، جبکہ مفتی رحمت اللہ کو متفقہ طور پر جرگے کا نمائندہ نامزد کیا گیا، جنہوں نے میڈیا کے سامنے جرگے کے متفقہ فیصلوں سے آگاہ کیا۔

 

مہر، جہیز اور شادی کی تقریبات سے متعلق فیصلے

 

جرگے میں فیصلہ کیا گیا کہ نکاح میں مہر صرف ایک تولہ سونا مقرر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی اضافی شرائط، مثلاً نقد رقم، گاڑی، فرنیچر، برقی سامان یا دیگر مطالبات کو ناجائز اور قابلِ اعتراض قرار دیا گیا۔ جرگے کے مطابق مہر نکاح کے وقت طے کیا جائے گا اور دلہا اپنی استطاعت کے مطابق خود ادا کرے گا۔

 

جہیز کے حوالے سے جرگے نے واضح کیا کہ جہیز فرض نہیں ہے، تاہم اگر لڑکی کے والدین اپنی خوشی اور حیثیت کے مطابق ضرورت کا سامان دینا چاہیں تو یہ جائز ہوگا، لیکن جہیز کو شرط یا دباؤ کا ذریعہ بنانا سختی سے منع ہوگا۔

 

شادی کی تقریبات کے بارے میں جرگے نے فیصلہ کیا کہ رقص و موسیقی، ڈھول  شور شرابا، آتش بازی، ہوائی فائرنگ اور خواتین کی غیر شرعی محفلوں پر مکمل پابندی ہوگی۔

 

 شادی کی تمام تقریبات سادگی اور شریعتِ اسلامی کے مطابق ہوں گی اور شرکت کو صرف قریبی عزیز و اقارب تک محدود رکھا جائے گا۔

 

جرگے کے مطابق ولیمہ بھی سادہ ہوگا اور میزبان کی استطاعت کے مطابق کیا جائے گا، جبکہ غیر ضروری نمود و نمائش اور بڑے دعوتی انتظامات کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسی طرح علیحدہ علیحدہ خاص دعوتوں سے بھی اجتناب کرنے کی ہدایت کی گئی۔

 

یہ بھی پڑھیے:  جب عمل نہیں تو قانون بے معنی ہے

 

فوٹوگرافی، تشہیر اور تعزیت سے متعلق فیصلے

 

جرگے نے شادی یا غم کے مواقع پر فوٹوگرافی اور ویڈیوگرافی، سیاسی یا مذہبی شخصیات کی تصاویر کی نمائش اور سوشل میڈیا پر تشہیر کو بھی ممنوع قرار دیا۔

 

تعزیت کے حوالے سے جرگے نے فیصلہ کیا کہ جنازے سے قبل بار بار تعزیت کے لیے جانا ناجائز ہوگا۔ تعزیت زیادہ سے زیادہ تین دن تک محدود رہے گی، جبکہ فون کال کے ذریعے تعزیت کو جائز قرار دیا گیا۔ غم کے موقع پر مٹھائی، بسکٹ یا بڑے پیمانے پر مہمان داری کے انتظامات سے بھی منع کیا گیا۔

 

عیادتِ مریض اور فیصلوں پر عملدرآمد

 

جرگے نے مریض کی عیادت کو باعثِ اجر و ثواب قرار دیا، تاہم طویل قیام اور غیر ضروری ہجوم سے اجتناب پر زور دیا گیا۔ جرگے نے واضح کیا کہ یہ تمام فیصلے قرآن و سنت کے مطابق ہیں اور علاقے کے تمام قبائل، خاندانوں اور افراد پر ان پر عملدرآمد لازم ہوگا۔ خلاف ورزی کی صورت میں معاملہ دوبارہ جرگے کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

 

خواتین اور سماجی حلقوں کا ردِعمل

 

ایک مقامی خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شادیوں میں سادگی اور فضول خرچی کے خاتمے کا فیصلہ بلاشبہ مثبت ہے، تاہم حقِ مہر عورت کا شرعی اور قانونی حق ہے، جسے کسی اجتماعی فیصلے کے تحت محدود کرنا درست نہیں۔ ان کے مطابق مہر کی مقدار فریقین کی باہمی رضامندی سے طے ہونی چاہیے تاکہ خواتین کا معاشی تحفظ متاثر نہ ہو۔

 

خواتین کی ایک منظم تنظیم “خویندو ٹولگی” کی سربراہ  ڈاکٹر سادیہ انوار نے بھی جرگے کے بعض فیصلوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے بہن بیٹی کو جائیداد میں حصہ دینے پر بار بار زور دیا ہے، مگر بدقسمتی سے باجوڑ میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ کئی نامور اور بااثر مذہبی شخصیات بھی اس بنیادی اسلامی حکم پر عمل سے کتراتی ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف عملی طور پر خواتین کو جائیداد میں حصہ نہیں دیا جاتا بلکہ اکثر منبروں سے بھی اس فرض کی تلقین نہیں کی جاتی، حالانکہ اسلام میں بہن اور بیٹی کو وراثت میں حصہ دینا ہم سب پر فرض ہے۔ خواتین کے مطابق چونکہ مہر عورت کا بنیادی انسانی اور اسلامی حق ہے، اس لیے بعض حلقوں کی جانب سے اجتماعی فیصلوں کے ذریعے مہر کو محدود یا کم کرنے کی کوششیں تشویشناک ہیں۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ طرزِ عمل خواتین کو ایک اور حق سے محروم کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے، جبکہ حالیہ فیصلے بعض حوالوں سے عدالتی نظائر اور مروجہ عدالتی فیصلوں سے بھی متصادم نظر آتے ہیں، جس پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے تمام معاملات میں قانونی تقاضوں اور آئینی لوازمات کو پورا کیا جائے اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

 

خواتین کی نمائندگی ضروری 

 

سماجی کارکن طاہر خان کا کہنا تھا کہ اگرچہ شادی بیاہ میں غیر ضروری رسومات کے خاتمے کا اقدام قابلِ تعریف ہے، تاہم ایسے فیصلوں میں خواتین کی نمائندگی اور رائے کو شامل کرنا بھی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اصلاحات اسی وقت مؤثر ثابت ہوں گی جب وہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ متوازن ہوں۔

 

جرگے کے فیصلے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں بعض صارفین اس اقدام کو معاشرتی اصلاح قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر حلقے اسے خواتین کے حقِ مہر کو محدود کرنے کے مترادف قرار دے کر جرگہ ممبران پر تنقید کر رہے ہیں۔