وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کمیٹی کے اجلاس میں انٹیگریٹڈ ٹورازم زون ٹھنڈیانی کے کنسیشن ایگریمنٹ کی منظوری دی گئی۔ یہ ملک کا پہلا انٹیگریٹڈ ٹورازم زون ہے جو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت قائم کیا جا رہا ہے۔
منصوبے کا مقصد نجی سرمایہ کاری کے ذریعے صحت افزا مقام ٹھنڈیانی کو ماحول دوست سیاحت کے ایک جدید اور پائیدار مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ منصوبہ چار زونز اور تین پیکیجز پر مشتمل ہے، جو ہر عمر کے سیاحوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت تین پیکیجز میں 14 ممکنہ سیاحتی منصوبے شامل ہیں، جن میں تین نئے ہوٹلز یا کنڈوٹلز اور مجموعی طور پر 263 ہوٹل و ریزارٹ کیز شامل ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیے: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا اعلان: صوبے کے صحت مراکز میں نئی ڈاکٹرز کی آسامیاں
اس کے علاوہ سروس اپارٹمنٹس، تفریحی مقامات، شاپنگ مالز، کمرشل کمپلیکس، تفریحی پارکس، فلاح و بہبود کے احاطے، فیملی سروس اپارٹمنٹس اور پارکنگ جیسی سہولیات بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ مانسہرہ میں 480 کنال پر گنول، سوات میں 754 کنال پر منکیال اور چترال میں 540 کنال پر محیط مداکلشت انٹیگریٹڈ ٹورازم زونز پر کام جاری ہے، جن کی مجموعی لاگت 12.3 ارب روپے ہے۔
اجلاس کے دوران محکمہ سیاحت اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ کے حکام نے وزیراعلیٰ اور کمیٹی کے شرکا کو منصوبے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی کہ منصوبے پر عمل درآمد سے کم از کم 23 ارب روپے سے زائد آمدن متوقع ہے، جبکہ آمدن کی کوئی بالائی حد مقرر نہیں کی گئی۔ ٹھنڈیانی انٹیگریٹڈ ٹورازم زون 400 کنال رقبے پر محیط ہوگا اور یہ صوبے میں مجموعی طور پر چوتھا انٹیگریٹڈ ٹورازم زون ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اجلاس میں متعلقہ نجی شراکت دار کے ساتھ کنسیشن معاہدے پر دستخط کر کے منصوبے پر عملی پیش رفت کی ہدایت کی۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق سیاحت کو معاشی استحکام کی بنیاد بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیگریٹڈ ٹورازم زونز سیاحت کے شعبے کے فلیگ شپ منصوبے ہیں اور ان کی تکمیل ماحول دوست اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ اداروں کو منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
