وادیٔ تیراہ کے مکینوں کی حالیہ بے دخلی نے ایک بار پھر پاکستان میں بدامنی سے متاثرہ علاقوں کے نظم و نسق کا وہی پرانا مگر خطرناک ماڈل بے نقاب کر دیا ہے، جس میں قومی سلامتی سے متعلق فیصلے بند کمروں میں کیے جاتے ہیں، ان کے ممکنہ انسانی اور سیاسی نتائج کو نظرانداز کیا جاتا ہے، اور جب بحران شدت اختیار کر لے تو قومی ادارے ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

 

اس موسمِ سرما میں، جب برف سے ڈھکے پہاڑی درّوں نے تیراہ میں معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر دیا اور ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، اصل سوال یہ نہیں تھا کہ یہ بے دخلی رضاکارانہ تھی یا جبری، بلکہ یہ تھا کہ اس فیصلے کا اختیار کس کے پاس تھا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری کون قبول کرے گا۔

 

جنوری 2026 کے اوائل میں ہزاروں بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) شدید موسمی حالات میں پھنس گئے۔ بھاری برف باری، پھسلن زدہ راستے اور ٹریفک کے غیر متوازن دباؤ کے باعث سڑکیں بند ہو گئیں۔ امدادی اور ریسکیو سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں اور اطلاعات کے مطابق کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس سنگین انسانی بحران کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطے اور ہم آہنگی کا فقدان نمایاں رہا۔

 

وفاقی حکومت نے وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ذریعے تیراہ سے نقل مکانی کو “رضاکارانہ” قرار دیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ علاقے میں کسی فوجی آپریشن کے بجائے معمول کی انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ تاہم یہ مؤقف خیبر پختونخوا حکومت کے عملی اقدامات سے متصادم دکھائی دیا، جس نے آئی ڈی پیز کی امداد کے لیے تقریباً چار ارب روپے مختص کیے۔

 

 یہ فیصلہ درحقیقت اس امر کا اعتراف تھا کہ معاملہ محض موسمی نقل مکانی کا نہیں بلکہ ایک منظم اور غیر معمولی صورتحال کا نتیجہ تھا۔

یہ تضاد اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب وزیر دفاع خواجہ آصف نے تیراہ سے ہجرت کو ایک معمول کی روایت اور سخت موسمی حالات کا فطری نتیجہ قرار دیتے ہوئے 140 سال پرانی برطانوی نوآبادیاتی تحریروں کا حوالہ دیا۔ یہ استدلال زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

 

 نائن الیون سے قبل تیراہ کی دور افتادگی، بنیادی ڈھانچے کی عدم موجودگی اور خوراک و طبی سہولیات کی کمی کے باعث موسمِ سرما میں محدود پیمانے پر نقل مکانی ضرور ہوتی تھی، مگر یہ صرف ان خاندانوں تک محدود رہتی تھی جن کے متبادل ٹھکانے میدانی علاقوں میں موجود تھے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں سڑکوں کی تعمیر، سپلائی چینز کی بہتری اور مسلسل سیکیورٹی موجودگی نے اس طرزِ زندگی کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ آج تیراہ کے بیشتر مکین سال بھر وہیں مقیم رہتے ہیں۔

 

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ یہ بے دخلی اچانک نہیں ہوئی۔ گزشتہ ایک سال کے دوران مقامی عمائدین، سول انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان متعدد اجلاس منعقد ہوئے۔ ان اجلاسوں میں شریک مقامی افراد کے مطابق، مکینوں پر بارہا اپنے گھروں کو خالی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ اس کے خلاف عوامی احتجاج، سیاسی سرگرمیاں اور جلسے جلوس بھی ہوئے۔ اسی دوران انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں، جن میں مبینہ طور پر شہری ہلاکتیں ہوئیں، جس سے مقامی آبادی کی بے چینی اور مزاحمت میں اضافہ ہوا۔

 

بالآخر مختلف قبائل کی نمائندگی کرنے والی 24 رکنی قبائلی کمیٹی نے ضلعی انتظامیہ اور اعلیٰ فوجی حکام سے مذاکرات کیے۔ اطلاعات کے مطابق ایک غیر تحریری مفاہمت طے پائی، جس کے تحت مکین جنوری میں عارضی طور پر وادی خالی کریں گے اور اپریل تک باعزت واپسی کی ضمانت دی جائے گی۔ تاہم جب نقل مکانی کا عمل شروع ہوا اور بدانتظامی نے بحرانی شکل اختیار کی، اور قومی و بین الاقوامی میڈیا نے انسانی المیے کو نمایاں کیا، تو وفاقی حکومت نے جبری بے دخلی سے لاتعلقی اختیار کر لی اور ذمہ داری صوبائی حکومت پر ڈال دی۔

 

چونکہ یہ مفاہمت تحریری شکل میں نہیں تھی، اس لیے ذمہ داری کا تعین مزید پیچیدہ ہو گیا۔ اس کے باوجود سول انتظامیہ کے نمائندوں کی ان اجلاسوں میں موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ صوبائی حکومت اس پورے عمل سے مکمل طور پر لاتعلق نہیں تھی۔ قبائلی کمیٹی کے بعض ارکان منظرِ عام سے غائب رہے، جس سے اس خوف کی جھلک ملتی ہے کہ اصل فیصلہ سازوں کے نام سامنے لانے کی قیمت بھاری ہو سکتی ہے۔

 

اسی تناظر میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے جمرود میں منعقدہ ایک بڑے اجتماع میں، جسے جرگہ کہا گیا مگر جو عملی طور پر ایک سیاسی جلسہ تھا، مکینوں سے براہِ راست سوال کیا کہ آیا ان کی بے دخلی رضاکارانہ تھی۔ مجمع کی متفقہ آواز میں اسے جبری قرار دیا گیا، جس نے وفاقی بیانیے کو کھلے عام چیلنج کر دیا۔ تاہم اس جارحانہ مؤقف کے باوجود آئی ڈی پیز کی فوری اور محفوظ واپسی کے لیے کوئی واضح حکمتِ عملی سامنے نہیں آ سکی۔

 

وزیراعظم کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو ملاقات کی دعوت اور پھر اس ملاقات کا انعقاد اس بات کی علامت ہے کہ بالآخر تصادم کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کیا گیا۔ یہ پیش رفت تحریک انصاف کی جانب سے 8 فروری کو پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کے اعلان کے پس منظر میں بھی اہمیت رکھتی ہے، جس نے وفاقی حکومت کو نسبتاً مفاہمانہ رویہ اپنانے پر آمادہ کیا۔

 

تیراہ سے نقل مکانی پر بڑھتی ہوئی تنقید، بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور بلوچستان میں حالیہ حملے اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ انسدادِ دہشت گردی کی موجودہ پالیسیوں پر سنجیدہ نظرِ ثانی ناگزیر ہو چکی ہے۔ جمرود میں آئی ڈی پیز کے لیے عوامی چندہ مہم کی تجویز خیبر پختونخوا کی مالی کمزوری کی علامت ہے، جبکہ صوبائی حکومت کا یہ مؤقف کہ وفاق اس کے واجبات ادا نہیں کر رہا، مرکز اور صوبے کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کے بحران کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

 

تیراہ کی بے دخلی محض ایک انسانی سانحہ نہیں بلکہ ریاستی طرزِ حکمرانی کا ایک کڑا امتحان ہے۔ یہ واضح کرتی ہے کہ شفافیت کے بغیر کیے گئے فیصلے کس طرح عوامی اعتماد کو مجروح کرتے ہیں، اور سیاسی ابہام کس طرح انسانی المیوں کو جنم دیتا ہے۔ تیراہ کے عوام کا مطالبہ سادہ ہے: یہ وضاحت کہ بے دخلی کا فیصلہ کس نے کیا، اس پر جوابدہی، اور ایک ایسا سیکیورٹی فریم ورک جو انسدادِ شورش کے ساتھ ساتھ انسانی سلامتی کو بھی مرکزی حیثیت دے۔

 جب تک قومی سلامتی کے فیصلوں میں عوامی شمولیت اور سیاسی اتفاقِ رائے کو یقینی نہیں بنایا جاتا، بدامنی پر قابو پانا ایک مسلسل چیلنج ہی رہے گا۔