منگل کو پولیس حکام نے تصدیق کی کہ لکی مروت کے علاقے نصر خیل میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے پولیس اہلکار دستگیر کے گھر پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ شہید ہو گئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملے کے دوران دہشت گردوں نے پولیس اہلکار کے اہل خانہ پر تشد کیا اور انہیں دباؤ میں لانے کی کوشش کی تاکہ پولیس اہلکار کو ان کے حوالے کیا جا سکے۔ اہل خانہ کی مزاحمت پر، حملہ آوروں نے اہلکار کو اغوا کیا اور بعد میں انہیں شہید کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے: لکی مروت: وانڈہ جوگی کے قریب فائرنگ، پولیس اہلکار شہید
اس دوران حملہ آوروں نے رہائشی کمرے میں آگ لگا دی، جس سے املاک کو نقصان پہنچا اور مقامی رہائشیوں میں تشویش پھیل گئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد دہشت گردوں نے تمام پولیس ملازمین کو دھمکیاں دی اور پورے لکی مروت میں مسلح گشت کیا۔ رہائشیوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ اپنی ملازمتیں چھوڑ دیں یا علاقے کو ترک کر دیں۔ اس کے علاوہ، عسکریت پسندوں نے لڑکیوں کے اسکول بند کرنے کی دھمکی بھی دی، جس سے تعلیم اور بنیادی انسانی حقوق پر خطرہ ظاہر ہوتا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے حکام نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لکی مروت میں حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ واقعہ پولیس اہلکاروں کی قربانی اور شہریوں کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
