وزیر اعلیٰ  سہیل آفریدی نے نوجوانوں کے لیے اہم اعلانات کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کے لیے بلا سود قرضوں کی رقم 3 ارب روپے سے بڑھا کر 5 ارب روپے کر رہی ہے، جبکہ نوجوانوں کی تنظیم کے لیے 20 لاکھ روپے کی مدد بھی دی جائے گی۔
 

پشاور نشتر ہال میں نوجوانوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اصل بڑا انسان وہ ہوتا ہے جس کی سوچ بڑی ہو، صرف ڈگریاں اور دولت انسان کو بڑا نہیں بناتیں۔ انہوں نے کہا کہ قومیں اسی وقت آگے بڑھتی ہیں جب لوگوں کے دل میں اپنے ملک کا درد ہو۔

 

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 2018 میں قبائلی اضلاع کو صوبے میں شامل تو کر لیا گیا مگر اب تک انہیں مالی طور پر مکمل حقوق نہیں دیے گئے، جو آئین کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو اس کا جائز حق نہیں دیا جا رہا جبکہ وفاقی سطح پر 5300 ارب روپے کی کرپشن ہو چکی ہے۔

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت وفاق خیبر پختونخوا کا 4758 ارب روپے کا مقروض ہے، لیکن اس کے باوجود صوبائی حکومت محدود وسائل میں بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے۔

 

نوجوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اصل بڑا انسان وہ ہوتا ہے جس کی سوچ بڑی ہو، صرف ڈگریاں اور دولت انسان کو بڑا نہیں بناتیں۔ انہوں نے کہا کہ قومیں اسی وقت آگے بڑھتی ہیں جب لوگوں کے دل میں اپنے ملک کا درد ہو۔

 

انہوں نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک جعلی وزیر اعظم کسی بھی صورت خوددار قوم کی نمائندگی نہیں کر سکتا، اور غیر ملکی دوروں میں ایسے رویے خودداری کے خلاف ہیں۔

 

وزیر اعلیٰ نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سیاسی آزادی ختم کی جا چکی ہے اور عملی طور پر سول مارشل لا جیسی صورتحال ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب میں ان کی جماعت کے رہنماؤں کے محافظوں سے اسلحہ لیا جا رہا ہے اور گاڑیوں کے نمبرز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جا رہی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ بزرگ سیاستدانوں اور عمران خان کی اہلیہ کو ناحق قید کیا گیا، جو انتقامی سیاست کی واضح مثال ہے، جبکہ عمران خان کی بہنوں کو بھی ہراساں کیا گیا۔

 

دہشت گردی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس مسئلے کا مستقل حل صرف ایک واضح اور متفقہ پالیسی میں ہے۔ عارضی فیصلے اور سیاسی بیان بازی دہشت گردی ختم نہیں کر سکتی۔ انہوں نے وفاق اور تمام متعلقہ اداروں سے مل کر مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔

 

آخر میں وزیر اعلیٰ نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں اور صوبے کے مفاد کے خلاف فیصلوں کی مخالفت کریں۔ انہوں نے کہا کہ جنازے اٹھانے سے بہتر ہے کہ زندہ قوم بن کر کھڑا ہونا ہوگا۔