آج ہماری روزمرہ زندگی میں کچھ جملے اس قدر عام ہو چکے ہیں کہ جہاں بھی جائیں، وہی سننے کو ملتے ہیں۔ کسی شادی کی محفل ہو، دوستوں کی بیٹھک ہو، بس اسٹاپ ہو یا محلے کی گلی، نوجوانوں کی گفتگو میں ایک ہی بات بار بار سنائی دیتی ہے۔

 

“میرے پاس 13 پرو میکس ہے”، “میں نے 16 لے لیا ہے”، اور فخر سے کہا جاتا ہے، “17 پرو میکس مارکیٹ میں آ گیا ہے۔” یوں لگتا ہے جیسے نوجوان موبائل فون کے ماڈل نہیں گن رہے بلکہ اپنے بارے میں یہ بتا رہے ہوں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور کیا حاصل کر چکے ہیں۔

 

اب موبائل فون صرف بات کرنے یا پیغام بھیجنے کی چیز نہیں رہا۔ نوجوانوں کے لیے یہ ایک ایسی چیز بن چکا ہے جسے دیکھ کر دوسرے لوگ ان کے بارے میں رائے بنا لیتے ہیں۔ فون دیکھ کر اندازہ لگایا جاتا ہے کہ سامنے والا نوجوان کس طرح کی زندگی گزار رہا ہے اور معاشرے میں اسے کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے:  سرحد بدلتے ہی غیرت کیوں بدل جاتی ہے؟

 

آج نوجوان موبائل خریدتے وقت یہ کم سوچتے ہیں کہ انہیں واقعی اس مہنگے فون کی ضرورت ہے یا نہیں۔ زیادہ تر توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ کون سا فون ہاتھ میں زیادہ اچھا لگے گا اور کون سا دوسروں کی نظر میں زیادہ نمایاں نظر آئے گا۔ 

 

آئی فون کا کیمرہ اور ڈیزائن اپنی جگہ، مگر اکثر نوجوان اسے اپنی آسانی کے لیے نہیں بلکہ دکھانے کے لیے لیتے ہیں، تاکہ تصویریں اور ویڈیوز دیکھنے والے یہی سمجھیں کہ وہ ایک اچھی اور خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔

 

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سے نوجوان پہلے ہی اچھے اینڈرائیڈ فون استعمال کر رہے ہوتے ہیں جو ان کے روزمرہ کے تمام کام آسانی سے کر دیتے ہیں۔ اس کے باوجود دل میں یہ خواہش پیدا ہو جاتی ہے کہ آئی فون ہونا چاہیے، کیونکہ دوستوں، ساتھیوں اور مشہور شخصیات کے ہاتھ میں وہی نظر آتا ہے۔ آہستہ آہستہ نوجوانوں کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جاتی ہے کہ اگر ان کے پاس آئی فون نہیں تو وہ پیچھے رہ جائیں گے۔

 

اس صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اب نوجوان بلاک آئی فونز بھی فخر کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے فون جن میں سم نہیں چلتی، نہ کال ہو سکتی ہے اور نہ پیغام، پھر بھی نوجوان انہیں خریدتے ہیں اور ہاتھ میں پکڑ کر گھومتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا جائے کہ بلاک فون کیوں لیا ہے تو جواب ملتا ہے کہ “آئی فون ہونا چاہیے، ہاتھ میں اچھا لگتا ہے۔”یعنی اب فون کا چلنا ضروری نہیں رہا، بس اس کا نظر آنا اہم ہو گیا ہے۔

 

یہ مقابلے کی دوڑ نوجوانوں پر صرف پیسوں کا نہیں بلکہ ذہنی دباؤ بھی ڈال رہی ہے۔ نوجوان اپنی اصل ضرورتوں کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں، مگر فون کی قسط وقت پر ادا کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بے چینی اور پریشانی بڑھتی جا رہی ہے۔

 

سوشل میڈیا نے اس رجحان کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ نوجوانوں کی ویڈیوز، سیلفیز اور ریلس میں فون کو خاص طور پر دکھایا جاتا ہے، جس سے یہ خیال مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ مہنگے فون کے بغیر نہ کوئی اسٹائل ہے اور نہ کوئی اہمیت۔

 

اب نوجوان ایک دوسرے کو ان کی سوچ، محنت یا رویے سے نہیں بلکہ فون کے ماڈل سے جانچنے لگے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ موبائل چھیننے جیسے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں اور کئی نوجوان اس نمائش کے شوق میں خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

اصل مسئلہ آئی فون نہیں بلکہ ہماری سوچ ہے۔ اصل عزت اور کامیابی کسی فون میں نہیں بلکہ نوجوانوں کی محنت، رویے اور سوچ میں ہے۔ فون بدلتے رہیں گے، نئے ماڈل آتے رہیں گے۔

 

ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان یہ بات سمجھیں اور ایک دوسرے کو بھی سمجھائیں کہ فون سہولت کے لیے ہوتے ہیں، دکھاوے اور مقابلے کے لیے نہیں۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔