وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وادی تیراہ کی موجودہ صورتحال پر تین اہم اور واضح اعلانات کیے، جنہیں جرگے میں موجود ہزاروں شرکاء نے ہاتھ اٹھا کر متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
خیبر کے علاقے جمرود میں منعقدہ خیبر امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے واضح الفاظ میں کہا کہ وادی تیراہ سے عوام کی نقل مکانی رضاکارانہ نہیں بلکہ ایک جبری اور منظم منصوبے کے تحت کروائی گئی، جسے صوبائی حکومت کسی صورت تسلیم نہیں کرتی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ان کی بحالی، امداد اور مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، چاہے اس مقصد کے لیے چار ارب نہیں بلکہ سو ارب روپے تک کیوں نہ خرچ کرنے پڑیں۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر: سیاسی اتحاد باڑہ کا متاثرینِ تیراہ کے حق میں بڑا اعلان
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ خیبر خصوصاً وادی تیراہ سمیت تمام قبائلی اضلاع کے عوام کے آئینی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے صوبے بھر کے قبائلی اضلاع میں الگ الگ جرگے منعقد کیے جائیں گے۔ ان جرگوں کے بعد خیبر پختونخوا کی سطح پر ایک گرینڈ جرگہ بلا کر اسلام آباد جانے کی تاریخ دی جائے گی، جہاں پرامن مگر دوٹوک انداز میں قبائلی عوام کے حقوق کا مطالبہ کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے بلوچستان میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی نقل مکانیوں کے دوران کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد میں وفاقی حکومت مکمل طور پر ناکام رہی، اسی لیے اب پختونخوا کے عوام خود منظم ہو کر اپنی جدوجہد کریں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وادی تیراہ کے متاثرین کے لیے چار ارب روپے ایمرجنسی بنیادوں پر جاری کر دیے گئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر یہ رقم ایک سو ارب روپے تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اوورسیز پختونوں اور اندرون و بیرون ملک پاکستانیوں سے صوبائی سی ایم ریلیف فنڈ میں تعاون کی اپیل بھی کی، جس کے لیے باقاعدہ اکاؤنٹ قائم کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے جرگے کو بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں کل بروز پیر ملاقات کے لیے بلایا ہے، جہاں وہ قبائلی عوام کا مقدمہ پوری قوت کے ساتھ پیش کریں گے۔ جرگے میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ وادی تیراہ کے عوام کو جبراً بے دخل کیا گیا ہے اور واپسی سے قبل تمام تحفظات دور کیے جائیں گے۔
جرگے سے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی، رکن صوبائی اسمبلی و ڈیڈک چیئرمین خیبر عبدالغنی آفریدی، ایم این اے اقبال آفریدی، ایم پی اے علامہ عدنان قادری اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور تیراہ کے عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
تیراہ سیاسی اتحاد کے صدر زاہد خان آفریدی نے کہا کہ متاثرین شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ اب تک 70 فیصد متاثرین رجسٹریشن سے محروم ہیں، جس کا فوری اور مؤثر حل ناگزیر ہے۔
جرگے کے اختتام پر متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ تمام قبائلی اضلاع میں جرگوں کے انعقاد کے بعد خیبر پختونخوا کی سطح پر ایک بڑا گرینڈ جرگہ منعقد کیا جائے گا، جس میں اسلام آباد مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔
