پولی سسٹک اووری سنڈروم (پی سی او ایس) ایک ایسی ہارمونل بیماری ہے جو خاموشی سے خواتین کی صحت کو متاثر کر رہی ہے۔ یہ مرض بیضہ دانی سے جڑا ہوا ہے، جس میں ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے اور بیضہ دانی میں چھوٹی چھوٹی رسولیاں بن جاتی ہیں۔

 

 ماہرین کے مطابق یہ بیماری صرف شادی شدہ خواتین تک محدود نہیں بلکہ کم عمر لڑکیوں میں بھی پائی جا رہی ہے، تاہم لاعلمی اور معاشرتی جھجھک کے باعث اس پر بروقت توجہ نہیں دی جاتی۔ پاکستان میں کی گئی مختلف تحقیقات کے مطابق ملک میں 20 سے 25 فیصد خواتین اس بیماری کا شکار ہیں، جبکہ بعض کیسز میں یہ مرض خطرناک پیچیدگیوں کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔

 

جب مسئلہ معمولی سمجھ لیا گیا

 

پشاور کے علاقے بڈھ بیر گاؤں سے تعلق رکھنے والی 35 سالہ آمنہ بتاتی ہیں کہ انہیں ابتدا میں ماہواری میں بے قاعدگی کا سامنا تھا اور وزن بھی بڑھنے لگا، مگر انہوں نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ آمنہ کے مطابق انہیں لگا شاید یہ حمل کی ابتدائی علامات ہیں، لیکن چند مہینوں بعد اچانک بہت زیادہ ماہواری شروع ہو گئی جس کی وجہ سے شدید کمزوری محسوس ہونے لگی۔

 

 چونکہ شادی کے باوجود ان کا حمل نہیں ٹھہر رہا تھا، اس لیے انہوں نے ہسپتال سے رجوع کیا، جہاں معائنے اور الٹراساؤنڈ کے بعد بتایا گیا کہ ان کی بیضہ دانی میں پولی سسٹک اووری بیماری موجود ہے۔

 

پولی سسٹک اووری سنڈروم 

کیا ہے؟

 

لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے شعبہ گائناکالوجی میں کام کرنے والی ماہر امراضِ نسواں پروفیسر مہناز بتاتی ہیں کہ پولی سسٹک اووری سنڈروم ایک ہارمونل بیماری ہے، جس میں مردانہ ہارمون اینڈروجن کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بیضہ دانی میں سسٹ بننے لگتے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے:  پاکستان میں منہ کے کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز اور وجوہات

 

 وہ وضاحت کرتی ہیں کہ بیضہ دانی میں رطوبت سے بھرے باریک تھیلے بنتے ہیں جنہیں فولیکلز کہا جاتا ہے، یہی فولیکلز انڈے رکھتے ہیں، لیکن پی سی او ایس میں یہ فولیکلز صحیح طریقے سے انڈا خارج نہیں کر پاتے۔

 

پاکستان میں صورتحال کیا ہے؟

 

لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں گزشتہ 20 برس سے خدمات انجام دینے والی ایسوسی ایٹ پروفیسر مہناز فیصل کے مطابق یہ بیماری زیادہ تر 18 سے 44 سال کی عمر کی خواتین میں پائی جاتی ہے، تاہم بعض کیسز میں مینوپاز کے بعد بھی سامنے آتی ہے۔

 

 ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس بیماری کے درست اعداد و شمار دستیاب نہیں، مگر روزانہ کی بنیاد پر متاثرہ خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 2025 میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کی تحقیق کے مطابق ملک میں تقریباً 20 سے 25 فیصد خواتین پی سی او ایس کا شکار ہیں۔

 

پولی سسٹ اووریسنڈروم  کی بڑی وجوہات

 

ماہرین کے مطابق اس بیماری کی بڑی وجوہات میں وزن کا زیادہ بڑھ جانا، غیر متوازن غذا، فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ کا زیادہ استعمال، ورزش کی کمی اور سست طرزِ زندگی شامل ہیں۔ بعض کیسز میں یہ بیماری جینیاتی بھی ہو سکتی ہے اور بہت کم عمر لڑکیوں میں بھی سامنے آتی ہے۔

 

کون سی علامات خطرے کی گھنٹی ہیں؟

 

پروفیسر مہناز کے مطابق پی سی او ایس کی تشخیص صرف ایک علامت کی بنیاد پر نہیں کی جاتی۔ ماہواری کی بے قاعدگی، جسم اور چہرے پر مردانہ انداز میں بال آنا، سر کے بالوں کا شدید گرنا، وزن کا غیر معمولی بڑھ جانا، کیل مہاسے اور بانجھ پن اس کی نمایاں علامات ہیں۔ بعض خواتین میں حمل ٹھہر بھی جائے تو اسقاط حمل کا خطرہ رہتا ہے۔

 

کم عمر لڑکیوں میں بڑھتا مسئلہ

 

19 سالہ رحیمہ کی والدہ بتاتی ہیں کہ ان کی بیٹی کے چہرے پر بال آنا شروع ہو گئے تھے، لیزر کے باوجود بال بڑھتے گئے۔ بعد ازاں گائناکالوجسٹ سے رجوع کرنے پر معلوم ہوا کہ رحیمہ پولی سسٹک اووری سنڈروم کا شکار ہے، جس نے انہیں ذہنی طور پر بھی متاثر کیا۔

 

تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

 

ماہرین کے مطابق ایسی خواتین جنہیں ماہواری، وزن اور حمل کے مسائل ہوں، ان کا الٹراساؤنڈ اور ہارمونز کے خون کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، جن سے بیماری کی تشخیص کی جاتی ہے۔

 

علاج میں تاخیر کے خطرات

 

پروفیسر مہناز کے مطابق اگر اس بیماری کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریاں، نیند کی کمی، نفسیاتی مسائل اور بیضہ دانی کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ غیر صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ جینیاتی پی سی او ایس میں 2 سے 3 فیصد خواتین کو کینسر ہو سکتا ہے۔

 

علاج اور احتیاطی تدابیر

 

گائناکالوجسٹ کے مطابق سب سے مؤثر علاج طرزِ زندگی میں تبدیلی ہے۔ باقاعدہ ورزش، وزن پر قابو، متوازن غذا اور ادویات کے ذریعے ہارمونز کو نارمل کیا جاتا ہے۔ بروقت علاج سے اکثر مریضات کو آپریشن کی ضرورت نہیں پڑتی۔

 

بروقت علاج کیوں ضروری ہے؟

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ پی سی او ایس میں 2 سے 3 فیصد تک کینسر کا خطرہ موجود ہے، اس لیے علامات ظاہر ہوتے ہی گائناکالوجسٹ سے رجوع کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ جان لیوا پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔