حالیہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں منہ کے کینسر کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گلوبوکین 2025 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 195,000 نئے کینسر کے کیسز سامنے آتے ہیں، جن میں سے تقریباً 8.6 فیصد سے 10 فیصد کیسز منہ کے کینسر سے متعلق ہوتے ہیں۔
یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ منہ کے کینسر کا شکار ہونے والوں میں اکثریت مردوں کی ہے، خصوصاً کراچی اور حیدرآباد کے رہائشی۔ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور کراچی کینسر رجسٹری کے مطابق ان شہروں میں منہ کے کینسر کی شرح دنیا کے کئی ممالک سے زیادہ ہے۔
اس کی بنیادی وجہ گٹکا، پان، ماوا، مین پوری، چھالیہ اور دیگر تمباکو مصنوعات کا بے دریغ استعمال ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں نسوار اس مرض کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔ اس کے علاوہ دانتوں اور منہ کی صفائی کا خیال نہ رکھنا بھی خطرے میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان سے پولیو کا نیا کیس رپورٹ, صوبے میں تعداد کتنی ہو گئی؟
اعداد و شمار کے مطابق کینسر سے ہونے والی سالانہ اموات میں ایک بڑی تعداد منہ کے کینسر کے باعث ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ عام عادت بن چکی ہے کہ معمولی تکلیف کو گھریلو ٹوٹکوں یا فارمیسی سے لی گئی خود ساختہ ادویات سے ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اور جب تک بیماری ناقابلِ علاج نہ ہو جائے، ڈاکٹر سے رجوع نہیں کیا جاتا۔ حتیٰ کہ اگر ڈاکٹر کے پاس چلے بھی جائیں تو ٹیسٹوں کے اخراجات سے بچنے کے لیے فالو اَپ نہیں کیا جاتا۔
آغا خان یونیورسٹی ہسپتال اور ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے کینسر وارڈز کے اعداد و شمار اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ تقریباً 70 فیصد مریض اس وقت ہسپتال پہنچتے ہیں جب کینسر تیسرے یا چوتھے مرحلے میں داخل ہو چکا ہوتا ہے، جہاں بچنے کی شرح صرف 30 فیصد رہ جاتی ہے۔
گھر پر منہ کے کینسر کی جانچ
منہ کے کینسر کی ابتدائی علامات کو گھر پر بھی پہچانا جا سکتا ہے۔ مہینے میں 1 بار آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر تیز روشنی میں اپنے منہ کے اندرونی حصوں، زبان کے دونوں اطراف اور گالوں کا بغور معائنہ کریں۔ اگر کوئی سفید یا سرخ دھبہ، سخت گلٹی یا ایسا زخم نظر آئے جو 2 ہفتے تک ٹھیک نہ ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر یا دانتوں کے معالج سے رجوع کریں۔
اسی طرح گردن کے اطراف انگلیوں سے محسوس کریں کہ کہیں کوئی غیر معمولی سوجن یا گٹھلی تو موجود نہیں۔ کیونکہ منہ کے کینسر کی سب سے عام علامت منہ یا زبان پر ایسا زخم یا چھالا ہے جو 2 ہفتوں سے زیادہ عرصے تک ٹھیک نہ ہو۔
دیگر علامات میں زبان، مسوڑھوں یا گالوں کے اندر سفید یا سرخ دھبوں کا نمودار ہونا، منہ کے اندر گلٹی یا سوجن محسوس ہونا، نگلنے یا جبڑے کو حرکت دینے میں دشواری، آواز کا بیٹھ جانا، زبان یا ہونٹوں کا سن ہو جانا شامل ہیں۔ بعض اوقات بغیر کسی واضح وجہ کے منہ سے خون آنا یا دانتوں کا اچانک ڈھیلا ہو جانا بھی اس مرض کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
بروقت تشخیص زندگی بچا سکتی ہے
جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) اور شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے ماہر کینسر سرجنز کے مطابق پاکستان میں منہ کے کینسر سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ تشخیص میں تاخیر ہے۔ اگر منہ میں کوئی زخم یا سفید و سرخ دھبہ 2 ہفتوں سے زیادہ برقرار رہے تو اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہونے کی صورت میں علاج کی کامیابی کے امکانات 90 فیصد تک ہوتے ہیں۔
تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اب یہ بیماری 20 سے 30 سال کے نوجوانوں میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ان کیسز میں ہر بار تمباکو یا گٹکا ہی وجہ نہیں بنتا بلکہ بعض اوقات ایچ پی وی (ہیومن پیپیلوما وائرس) بھی اس مرض کا سبب بنتا ہے، جو غیر محفوظ جنسی رویّوں کے باعث حلق، ٹانسلز اور زبان کے پچھلے حصے کے کینسر کی وجہ بن سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق پاکستان میں منہ کے کینسر میں اضافے کی بنیادی وجہ اب بھی تمباکو اور گٹکا ہی ہیں، جبکہ ایچ پی وی ایک اضافی عنصر ہے۔
جنسی صحت اور انفیکشنز کا خطرہ
ڈبلیو ایچ او اور سی ڈی سی کی رپورٹس کے مطابق اگر کسی جنسی ساتھی کو ہیپاٹائٹس اے یا ہیپاٹائٹس بی ہو تو یہ وائرس خون، تھوک اور منہ کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے، اور بعض صورتوں میں یہ دیگر وائرسز کے مقابلے میں 50 سے 100 گنا زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ اگر منہ میں زخم ہوں، مسوڑھوں سے خون آتا ہو یا کوئی کٹ لگا ہو تو انفیکشن منتقل ہونے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ گٹکا، چھالیہ اور تمباکو مصنوعات کی فروخت پر سخت پابندی عائد کی جائے، تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات چلائی جائیں، اور ہر 6 ماہ بعد دانتوں کا باقاعدہ معائنہ کروایا جائے۔
اگر ہم منہ کی صفائی کا خیال رکھیں، ازدواجی تعلقات کو اپنے شریکِ حیات تک محدود رکھیں اور غیر محفوظ رویّوں سے بچیں تو منہ کے کینسر سمیت کئی خطرناک بیماریوں سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
