خیبر میں تحریک متاثرین تیراہ کے ترجمان صحبت آفریدی نے باڑہ پریس کلب کے سینئر صحافی قاضی راؤف آفریدی اور دیگر صحافیوں کو مبینہ طور پر ماورائے قانون حراست میں لینے اور ان پر تشدد کیے جانے کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

 

اپنے بیان میں صحبت آفریدی نے کہا کہ صحافیوں کو کئی گھنٹوں تک حبسِ بے جا میں رکھنا اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کرنا نہ صرف قابلِ مذمت بلکہ ایک شرمناک عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک متاثرین تیراہ اس واقعے کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور اسے آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیتی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: لوئر دیر: سینئر صحافی محمد اسرار پر حملہ، زخمی حالت میں ہسپتال منتقل

 

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز ڈی پی او خیبر آفس کے سامنے ہونے والے احتجاج کی کوریج کے بعد سی ٹی ڈی اہلکاروں نے سینئر صحافی قاضی راؤف آفریدی سمیت دیگر صحافیوں کو حراست میں لے لیا تھا اور انہیں کئی گھنٹوں تک اپنے پاس رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔

 

صحبت آفریدی کے مطابق صحافی معاشرے کی آواز ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ اس طرح کا رویہ قانون شکنی کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی ضلع خیبر کا یہ اقدام نہ صرف قابلِ افسوس ہے بلکہ آزادیٔ صحافت پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

 

انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ اس غیر قانونی اقدام کا فوری نوٹس لیا جائے اور واقعے میں ملوث اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔