پشاور میں حیات آباد کے رہائشیوں کو درپیش قبرستان کی کمی کے مسئلے کے حل کے لیے کمشنر پشاور ڈویژن نے نئے قبرستان کے قیام کی ہدایت جاری کر دی۔

 

 اس مقصد کے لیے متعلقہ اداروں کو ایک ہفتے کے اندر مناسب اراضی کی نشاندہی کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور میں راتوں کو گونجتی عجیب آوازیں، “ششکا” (چڑیل) کی حقیقت کیا ہے؟

 

کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت اس حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر لینڈ پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے)، اسسٹنٹ کمشنر متنی، تحصیلدار متنی اور دیگر ریونیو افسران نے شرکت کی۔

 

اجلاس کو بتایا گیا کہ حالیہ دورۂ حیات آباد کے دوران مقامی رہائشیوں نے کمشنر کو آگاہ کیا تھا کہ حیات آباد کے لیے مختص موجودہ قبرستان میں تدفین کے لیے جگہ تقریباً ختم ہو چکی ہے، جس کے باعث اہل علاقہ کو اپنے مرحومین کو دفنانے کے لیے دور دراز علاقوں کے قبرستانوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

 

کمشنر پشاور ڈویژن نے ضلع انتظامیہ پشاور، پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور ریونیو حکام کو ہدایت کی کہ حیات آباد کے قریبی علاقوں اچنی بالا اور سنگو میں قبرستان کے قیام کے لیے مناسب اراضی کا انتخاب کیا جائے اور تمام قانونی و انتظامی تقاضے مکمل کر کے ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کی جائے۔

 

انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اراضی کی نشاندہی کے بعد پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی قبرستان کے اردگرد حفاظتی دیوار کی تعمیر اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

 

کمشنر ریاض خان محسود کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کا فوری حل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔