عظمیٰ اقبال
رمضان المبارک اپنے اختتامی ایام کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس کا آخری عشرہ مسلمانوں کے لیے خصوصی روحانی اہمیت رکھتا ہے۔ ان دنوں میں عبادت، دعا اور استغفار کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے، اور مسلمان لیلۃ القدر کی تلاش میں طاق راتوں کو زیادہ سے زیادہ عبادت میں گزارتے ہیں۔
علمائے کرام کے مطابق اسلام میں بعض اوقات اور بعض مقامات کو خاص اہمیت دی گئی ہے، اور رمضان المبارک کا مہینہ اس حوالے سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔
سوات سے تعلق رکھنے والے مدرس جامعہ اسلامیہ تفہیم القرآن اوڈیگرام اور پیش امام جامع مسجد اتات خیل غالیگے، معاذ اللہ، کہتے ہیں کہ رمضان المبارک نہایت بابرکت مہینہ ہے اور اس کے آخری دس دن خصوصی فضیلت رکھتے ہیں۔
ان دنوں میں خاص طور پر طاق راتوں کو اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ انہی میں عظیم رات لیلۃ القدر شامل ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا۔
معاذ اللہ قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا، جو لوگوں کے لیے ہدایت اور حق و باطل میں فرق کرنے والی واضح دلیلیں فراہم کرتا ہے۔

احادیث میں بھی رمضان کے روزوں اور عبادات کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
معاذ اللہ کے مطابق رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں عبادت کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ جب آخری عشرہ آتا تو آپ ﷺ راتوں کو جاگتے، عبادت میں محنت کرتے اور اپنے گھر والوں کو بھی عبادت کے لیے بیدار کرتے تھے۔
موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال نے عبادات کے معمولات پر اثر ڈالا ہے۔ معاذ اللہ کے بقول، آج کل بہت سے لوگ قیمتی وقت عبادت کے بجائے موبائل فون پر گزارتے ہیں، حالانکہ رمضان کے یہ لمحات روحانی فائدہ حاصل کرنے کا بہترین موقع ہوتے ہیں۔

معاشرتی سطح پر بھی رمضان کے آخری عشرے کے انداز میں تبدیلی آئی ہے۔ سوات سے تعلق رکھنے والی ثانیہ کے مطابق ماضی میں رمضان کے آخری عشرے خصوصاً طاق راتوں میں عبادات کا خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا۔ مرد حضرات مساجد میں عبادت کے لیے جاتے تھے جبکہ خواتین گھروں میں نماز اور تلاوت کا اہتمام کرتی تھیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ ایک زمانہ تھا جب گاؤں کی خواتین ایک گھر میں جمع ہو کر تراویح ادا کرتی تھیں جہاں حافظہ قرآن خاتون موجود ہوتی تھیں۔ آخری ایام میں دینی محافل بھی منعقد ہوتی تھیں جن میں دور دراز علاقوں سے نعت خواں اور تبلیغی خواتین شرکت کے لیے آتی تھیں۔ ان محافل میں لوگوں کی شرکت کا جذبہ بھی نمایاں ہوتا تھا۔
ثانیہ کے مطابق آج کل نوجوان نسل کا زیادہ وقت موبائل فون اور سوشل میڈیا پر گزرتا ہے، جس کی وجہ سے عبادات میں پہلے جیسی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ پہلے میڈیا بھی رمضان کے احترام میں تفریحی پروگرام محدود کر دیتا تھا، جبکہ آج کل بعض اوقات تراویح کے دوران بھی مختلف پروگرام نشر ہوتے ہیں، جس کا اثر نوجوانوں پر پڑتا ہے۔
دوسری جانب مختلف شہروں میں کام کرنے والی ڈیجیٹل میڈیا مارکیٹر اور ٹریول ولاگر تحسین احسان کے مطابق ماضی میں لوگ رمضان کے آخری عشرے میں اپنی سرگرمیاں محدود کر دیتے تھے تاکہ زیادہ وقت عبادت کے لیے نکالا جا سکے۔
راتوں کو عبادت اور تہجد کا اہتمام کیا جاتا، جبکہ دن میں روزمرہ ذمہ داریوں میں مصروف ہوتے تھے۔ آج کل کے نوجوان دیر تک موبائل فون اور سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں اور دن کا زیادہ حصہ سوتے ہوئے گزارتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ رمضان کے بابرکت مہینے خصوصاً آخری عشرے میں اپنی مصروفیات کو متوازن رکھتے ہوئے عبادت، قرآن کی تلاوت اور دعا کے لیے وقت ضرور نکالیں۔
علمائے کرام کے مطابق رمضان المبارک کا آخری عشرہ انسان کے لیے اپنی اصلاح اور اللہ کی طرف رجوع کا بہترین موقع ہے۔ معاذ اللہ کہتے ہیں کہ احادیث میں اس شخص کے بارے میں سخت وعید بیان کی گئی ہے جو رمضان پانے کے باوجود مغفرت حاصل نہ کرے۔
ایک روایت میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ایسے شخص کے لیے بد دعا کی کہ وہ ہلاک ہو جائے، اور رسول اللہ ﷺ نے اس پر آمین فرمایا۔
ماہرین کے مطابق رمضان کا آخری عشرہ عبادت، دعا اور خود احتسابی کا اہم موقع ہے۔ اگر مسلمان ان بابرکت دنوں کو عبادت، قرآن کی تلاوت اور نیکیوں کے لیے وقف کرے تو یہ ایام ان کی روحانی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں، اور یہی رمضان المبارک کے اصل پیغام کی جھلک بھی ہے۔
