28 فروری سے جاری ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جنگ میں اب تک ہزاروں افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس جنگ سے معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور خاص طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پوری دنیا میں بڑھ رہی ہیں۔

 

اس جنگ میں مختلف قسم کے میزائلوں، جدید ڈرونز اور دیگر بارودی مواد کے استعمال سے نہ صرف جانی اور مالی نقصان ہو رہا ہے بلکہ فضا بھی آلودہ ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف بیماریوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

 

 9 مارچ کو ایران میں آئل کی تنصیبات پر بمباری کے بعد گہرے کالے بادل چھا گئے اور آسمان سے کالے پانی کی بارش ہوئی، جس پر شہریوں کو خبردار کیا گیا۔

 

ادھر پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں بھی جھڑپیں جاری ہیں اور دونوں جانب سے حملے کیے جا رہے ہیں۔

 ان کارروائیوں میں توپوں، آرٹلری، جدید ڈرونز اور دیگر اسلحے کا استعمال ہو رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بارودی مواد سے ماحول کس طرح متاثر ہو رہا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔

 

دھماکوں کے دھوئیں میں کونسی زہریلی گیسیں شامل ہیں؟

 

کلائمیٹ چینج ایکسپرٹ حمیرا قاسم کے مطابق بارود کے دھماکوں کے دوران کیمیائی ردعمل کے نتیجے میں مختلف گیسیں اور ذرات فضا میں خارج ہوتے ہیں جو ماحول اور انسانی صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔

 

بارود بنیادی طور پر پوٹاشیم نائٹریٹ، گندھک اور کاربن پر مشتمل ہوتا ہے۔ جب یہ دھماکے کے ساتھ جلتا ہے تو کاربن ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن آکسائیڈز جیسی گیسیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ باریک ٹھوس ذرات اور دھواں بھی فضا میں خارج ہوتا ہے۔

 

 

یہ گیسیں فضائی آلودگی میں اضافہ کرتی ہیں اور تیزابی بارش کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے مٹی، آبی حیات اور عمارتوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ موسمیاتی تبدیلی میں کردار ادا کرتی ہے، جبکہ کاربن مونو آکسائیڈ اور باریک ذرات سانس کی بیماریوں، آنکھوں میں جلن اور پھیپھڑوں کے مسائل کا باعث بنتے ہیں۔

 

آئل ٹینکوں کی آگ: ماحول اور صحت پر سنگین اثرات

 

تیل کے ذخائر یا آئل اسٹوریج ٹینکوں میں آگ لگنے کی صورت میں بڑی مقدار میں زہریلی اور آلودگی پیدا کرنے والی گیسیں خارج ہوتی ہیں۔ تیل کے جلنے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ، مختلف ہائیڈروکاربن گیسیں، نائٹروجن آکسائیڈز، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور پولی سائکلک ایرو میٹک ہائیڈروکاربنز فضا میں خارج ہوتے ہیں۔

 

اس کے علاوہ وولیٹائل آرگینک کمپاؤنڈز بھی پیدا ہوتے ہیں جو باریک معلق ذرات کو شدید آلودہ کر دیتے ہیں۔ یہ فضائی آلودگی، سموگ اور تیزابی بارش کا سبب بن سکتے ہیں اور دیگر گرین ہاؤس گیسیں موسمیاتی تبدیلی کو تیز کر سکتی ہیں۔ باریک ذرات اور زہریلے مرکبات سانس کی بیماریوں، پھیپھڑوں کے امراض، آنکھوں اور جلد کی جلن اور بعض اوقات سرطان کے خطرات بھی بڑھا سکتے ہیں۔

 

کیا پاکستان  ماحولیاتی خطرے سے محفوظ ہے؟

 

کلائمیٹ چینج ریسرچر حمیرا قاسم کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور پاکستان و افغانستان جیسے خطوں میں جنگ کے دوران بارود، بموں اور دیگر دھماکہ خیز مواد کے بڑے پیمانے پر استعمال سے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

دھماکوں اور فوجی سرگرمیوں کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ، وولیٹائل آرگینک کمپاؤنڈز، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن آکسائیڈز فضا میں خارج ہوتے ہیں، جو فضائی آلودگی، معلق ذرات، سموگ، تیزابی بارش اور گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

 

پاکستان اس لیے بھی متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ خطے کی جغرافیائی قربت، فضائی گردش اور سرحد پار آلودگی آلودہ ذرات اور گیسوں کو ایک ملک سے دوسرے ملک تک منتقل کر سکتی ہے۔

 

 اگر بڑے پیمانے پر دھماکے یا آئل تنصیبات میں آگ لگے تو دھوئیں کے بادل ہوا کے بہاؤ کے ساتھ پاکستان تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے فضائی معیار متاثر ہو سکتا ہے، صحت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں اور موسمیاتی اثرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

 

تاریخ کے شواہد: جنگ نے ماحول کو کیسے متاثر کیا؟

 

جامعہ پشاور کے شعبہ ماحولیات کے پروفیسر ڈاکٹر نفیس کے مطابق تاریخ میں جنگی کارروائیوں کے باعث ماحول پر شدید اثرات کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

 

6 اگست 1945 کو دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر دنیا کا پہلا ایٹم بم گرایا، جس سے بے پناہ تباہی ہوئی اور تابکاری پھیل گئی۔ اس دھماکے میں 80 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے اور دسیوں ہزار بعد میں تابکاری کے اثرات کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

 

1991 میں عراق اور کویت کی جنگ کے دوران آئل ریفائنریوں پر حملوں کے بعد فضا میں سیاہ دھوئیں کے بادل چھا گئے اور بعض علاقوں میں سیاہ بارش کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

 

 

کالی اور تیزابی بارش کیا ہوتی ہیں اور یہ کتنی خطرناک ہے؟

 

پروفیسر نفیس کے مطابق جنگی حملوں یا تیل کے بڑے پیمانے پر جلنے سے فضا میں زہریلی گیسیں شامل ہو جاتی ہیں جو بعد میں تیزابی بارش کا سبب بنتی ہیں۔ یہ گیسیں فضا میں موجود پانی کے بخارات کے ساتھ مل کر سلفیورک ایسڈ اور نائٹرک ایسڈ بناتی ہیں، جس سے کالی یا تیزابی بارش ہوتی ہے۔

 

یہ بارش انسانوں، جانوروں، درختوں اور فصلوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے اور سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے سے روک کر ماحولیاتی نظام پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔