جمعے کے روز طالبان نے مبینہ طور پر چھوٹے بغیر پائلٹ والے ڈرونز (SUV ڈرون) استعمال کرتے ہوئے کوئٹہ، کوہاٹ، راولپنڈی اور اسلام آباد میں پاکستان کی سرکاری اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق یہ ڈرون اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی روک کر مار گرائے گئے، جس سے کسی بڑے نقصان سے بچاؤ ہو گیا۔ تاہم گرنے والے ملبے سے ان شہروں میں پانچ شہری زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

 

 اس سے پہلے بھی صوابی اور دیگر علاقوں میں ایسے ہی ڈرون مار گرائے جا چکے ہیں۔ ان واقعات کے بعد پاکستان نے فوری طور پر ملک بھر میں تمام ڈرون پروازوں پر پابندی عائد کر دی۔

 

یہ واقعہ طالبان کی حکمتِ عملی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماضی میں طالبان زیادہ تر گوریلا جنگ اور زمینی حملوں کے لیے جانے جاتے تھے، لیکن اب وہ اہم اہداف، خاص طور پر فوجی چھاؤنیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔

 

طالبان کے پاس روایتی فضائی طاقت موجود نہیں۔ ان کے پاس نہ لڑاکا طیارے ہیں، نہ جدید فضائی جنگ کی تربیت اور نہ ہی جدید فضائی آپریشنز کا ڈھانچہ۔ اس صورتِ حال میں اہم سوال یہ ہے کہ یہ سستے ڈرون کہاں سے آ رہے ہیں اور طالبان نے محدود ٹیکنالوجی اور فوجی تجربے کے باوجود انہیں استعمال کرنے کی صلاحیت کیسے حاصل کی؟

 

بعض ماہرین اور پاکستانی فوج کے حکام کا کہنا ہے کہ ممکن ہے یہ ڈرون بھارت کے ذریعے اسرائیل سے فراہم کیے گئے ہوں، کیونکہ ان کی شکل و ساخت گزشتہ سال پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دوران بھارت کے استعمال کردہ ڈرونز سے ملتی جلتی بتائی جاتی ہے۔ اسلام آباد پہلے بھی نئی دہلی پر الزام لگا چکا ہے کہ وہ طالبان کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔

 

اگر اسرائیل کے ممکنہ کردار کی بات درست ہو تو اس سے بھارت، پاکستان اور افغانستان کے درمیان علاقائی کشیدگی مزید خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ماضی قریب میں دورۂ اسرائیل کے دوران بھارتی وزیر اعظم اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ کو دوست قرار دیا اور گروپ کی حمایت کا اظہار کیا۔

 

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بھی خراب ہوئے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان حکومت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے، جنہیں پاکستان متعدد دہشت گرد حملوں کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ سرحد پار کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے اور افغانستان میں مبینہ عسکریت پسند ٹھکانوں پر پاکستانی فضائی حملوں کے بعد مبینہ طور پر درجنوں طالبان اور عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

 

گزشتہ سال کے آخر میں کشیدگی کم کرنے کے لیے قطر اور ترکی کی ثالثی میں مذاکرات بھی ہوئے، لیکن یہ مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے۔ اس کے بعد سرحد پار حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان افغانستان میں اہم فوجی تنصیبات، خصوصاً کابل اور قندھار کے علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ پاکستان کو نسبتاً جدید فضائیہ، بہتر تربیت اور دور تک مار کرنے والی میزائل ٹیکنالوجی کی وجہ سے افغان طالبان پر فضائی جنگ میں واضح برتری حاصل ہے۔

 

 پاک فضائیہ کی جدت کا اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہےُکہ گزشتہ سال بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان نے بھارت کے سات طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کا ذکر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کئی بار کیا ہے۔

 

افغانستان کے پاس مؤثر فضائی دفاعی نظام نہیں، جس کی وجہ سے وہ پاکستان کے فضائی حملوں سے کافی خوفزدہ ہے اورانُکو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔  اس کے جواب میں پاکستان کو خدشہ ہے کہ افغانستان کی طرف سے زمینی دراندازی کی کوششیں ہو سکتی ہیں، اس لیے سکیورٹی فورسز ہائی الرٹ پر ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ ٹی ٹی پی کے عناصر پاکستان کے اندر خودکش حملے بڑھا سکتے ہیں۔

 

پاکستانی انٹیلی جنس اداروں نے ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور متعدد دہشت گردوں کو ہلاک یا گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود طالبان کی جانب سے ایسے ڈرونز کا استعمال جو حساس تنصیبات تک پہنچ سکتے ہیں، مثلاً راولپنڈی میں فوج کا جنرل ہیڈکوارٹر اور کوہاٹ میں فوجی تنصیبات، دفاعی ماہرین کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

 

سستے ڈرونز کی بڑھتی ہوئی دستیابی جنگ کے انداز کو تبدیل کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر جاری جنگ میں ایران نے سستے شاہد ڈرونز کے ذریعے اسرائیل اور امریکا کو خاصا نقصان پہنچایا ہے، جو جدید فضائی دفاعی نظام کو بھی چکمہ دینے میں کامیاب رہے۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکا اور اسرائیل نے یوکرین کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ یوکرین نے کم لاگت والے ایسے نظام تیار کیے ہیں جو ان ڈرونز کو مار گرا سکتے ہیں۔

 

 پاکستان کے دفاعی نظام کا انحصار زیادہ تر چینی اور امریکی ٹیکنالوجی پر ہے جو بنیادی طور پر میزائلوں اور طیاروں کو روکنے کے لیے بنائے گئے تھے، اس لیے کم قیمت ڈرونز کو روکنا ایک نیا چیلنج بن رہا ہے۔

 

اگر طالبان کو اسرائیل اور بھارت کی حمایت جاری رہی تو پاکستان کی فوجی تنصیبات اور شہری علاقوں پر ڈرون حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے سکیورٹی خدشات بڑھیں گے اور شہریوں میں خوف پھیل سکتا ہے۔

 

آج کی جنگیں تیزی سے بدل رہی ہیں۔ اب کم قیمت اور جدید ٹیکنالوجی بھی طاقتور فوجی نظاموں کو چیلنج کر سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ڈرون کے خلاف مؤثر دفاعی نظام تیار کرے اور انٹیلی جنس کارروائیوں کو مزید مضبوط بنائے تاکہ بدلتے ہوئے خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

 

پاکستان کو چاہیے کہ وہ طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ طالبان کے ساتھ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھے، کیونکہ افغانستان میں صرف فوجی طاقت کے ذریعے مسائل کبھی مستقل طور پر حل نہیں ہوئے۔