خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندے آج اپنی چار سالہ مدت مکمل کرکے گھر لوٹ جائیں گے۔ تاہم ان چار سالوں میں بلدیاتی حکومتوں کے لیے جہاں اربوں روپے کے فنڈز مختص کیے گئے، وہیں اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر فنڈز بھی فراہم نہیں کیے گئے۔

 

محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا کی دستاویزات کے مطابق چار سالہ دور میں بلدیاتی حکومتوں کے لیے 156 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے، جن میں سے صرف 3 ارب 60 کروڑ روپے ہی جاری کیے جا سکے۔

 

مالی سال 2021-22 میں بندوبستی اضلاع کے لیے 15 ارب روپے رکھے گئے جن میں سے 2 ارب 40 کروڑ روپے جاری کیے گئے، جبکہ قبائلی اضلاع کے لیے 2 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے تاہم ایک پائی بھی جاری نہیں کی گئی۔

 

اسی طرح مالی سال 2022-23 میں بندوبستی اضلاع کے لیے 37 ارب روپے رکھے گئے جن میں سے 1 ارب 20 کروڑ روپے جاری کیے گئے، جبکہ قبائلی اضلاع کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے لیکن اس میں سے بھی ایک پائی جاری نہیں کی گئی۔

 

بلدیاتی حکومتوں کے لیے مالی سال 2023-24 میں بندوبستی اضلاع کے لیے 17 ارب 20 کروڑ روپے جبکہ قبائلی اضلاع کے لیے 5 ارب 20 کروڑ روپے رکھے گئے، تاہم ایک پائی بھی جاری نہ ہو سکی۔

 

اسی طرح مالی سال 2024-25 میں بندوبستی اضلاع کے لیے 24 ارب روپے جبکہ قبائلی اضلاع کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے گئے، تاہم یہ رقم بھی جاری نہ ہو سکی۔

 

دستاویز کے مطابق مالی سال 2025-26 میں بندوبستی اضلاع کے لیے 39 ارب روپے اور قبائلی اضلاع کے لیے 6 ارب 60 کروڑ روپے رکھے گئے، تاہم یہ سال بھی بغیر ترقیاتی فنڈز کے اجرا کے گزر گیا۔

 

بلدیاتی حکومتوں کے پہلے مرحلے میں ہونے والے انتخابات میں منتخب نمائندے آج اپنی مدت مکمل کر لیں گے، جبکہ دوسرے مرحلے کے بلدیاتی نمائندے جون میں اپنی مدت پوری کریں گے۔