آج کے دور میں شاید سب سے آسان کام دوسروں کے بارے میں فوراً رائے قائم کرنا بن چکا ہے۔سوشل میڈیا کھولیں، کسی کی تصویر دیکھیں اور لمحوں میں فیصلہ صادر کر دیں۔ یہ ٹھیک نہیں، وہ غلط ہے، اس نے یہ کیوں پہنا، اس نے وہ کیوں کیا۔ ہم چند سیکنڈز میں خود کو منصف، اخلاقیات کا محافظ اور حق و باطل کا پیمانہ سمجھنے لگتے ہیں۔

 

خاص طور پر جب بات کسی معروف شخصیت کی ہو تو رائے سازی اور حکم لگانے کا دائرہ اور بھی وسیع ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں مریم نواز کے بیٹے کی شادی اور اداکارہ حنا آفریدی کی شادی اسی رویے کی واضح مثال بن کر سامنے آئیں، جہاں خوشی کے لمحات کو بھی تنقید، طعنوں اور اخلاقی وعظ کا میدان بنا دیا گیا۔

 

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی شادی لاہور میں ہوئی، جس میں قریبی رشتہ دار، دوست احباب اور خاندان کے افراد شریک ہوئے۔ مہندی، بارات اور ولیمہ سمیت ہر تقریب کو خوبصورتی اور اہتمام کے ساتھ منعقد کیا گیا۔

 

مہندی کی تقریب میں مریم نواز نے معروف پاکستانی ڈیزائنر نومی انصاری کا شوخ پیلے رنگ کا دیدہ زیب لہنگا پہنا۔ اس نوعیت کے ڈیزائنر جوڑوں کی قیمت عموماً پانچ لاکھ روپے سے زائد ہوتی ہے۔ بارات کے دن انہوں نے مشہور ڈیزائنر اقبال حسین کا پریمیم برائیڈل جوڑا منتخب کیا، جس کی قیمت تقریباً دو سے چار لاکھ روپے کے درمیان بتائی جاتی ہے۔

 

شادی کی تقریبات سے وائرل ہونے والی تصاویر نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی۔ کئی صارفین نے لباس کی تعریف کی، جبکہ کچھ افراد نے دلہن کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہونے پر نکتہ چینی شروع کر دی۔

 

ایک اور بات جو خوب زیرِ بحث آئی وہ یہ تھی کہ شادی سے چند دن قبل وزیراعلیٰ پنجاب نے شادیوں میں ون ڈش قانون سے متعلق فیصلہ کیا تھا تاکہ فضول خرچی کم ہو۔ مگر جب ان کے بیٹے کی شادی میں کئی ڈشز نظر آئیں تو سوال اٹھایا گیا کہ “قانون تو ون ڈش کا تھا، پھر یہاں اتنی ڈشز کیوں؟”

 

یہ بات ماننے میں کوئی حرج نہیں کہ مریم نواز ایک عوامی عہدے پر فائز ہیں، اور ان کے حکومتی فیصلے اور پالیسیاں تنقید کے دائرے میں آتی ہیں۔ اگر ون ڈش قانون پر سوال اٹھایا جائے تو یہ بحث کسی حد تک درست ہو سکتی ہے، مگر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب بات ذاتی معاملات پر حکم لگانے تک پہنچ جائے۔

 

اسی طرح اداکارہ حنا آفریدی کی شادی بھی سوشل میڈیا پر موضوعِ گفتگو بنی۔ بارات کے دن انہوں نے روایتی سرخ رنگ کے بجائے سفید اور سنہری رنگ کا انتخاب کیا، جس پر کئی لوگوں نے حیرت اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

 

یہ بھی پڑھیں:   بیٹیوں کے گرد گھومتی روایتی زنجیریں

 

حقیقت یہ تھی کہ حنا آفریدی کی والدہ اس دنیا میں موجود نہیں، اور وہ اپنی والدہ کی جیولری پہننا چاہتی تھیں، جس کے ساتھ ہلکے رنگ زیادہ خوبصورت لگ رہے تھے۔

 

حنا آفریدی نے مایوں، ڈھولکی، مہندی اور ولیمہ میں بھی ہلکے رنگوں کا انتخاب کیا، جو ان کی ذاتی پسند اور جذبات کی ترجمانی کرتا تھا۔ یہ فیصلہ ان کا ذاتی حق تھا، مگر یہاں بھی لوگوں نے بغیر سمجھے رائے دینا ضروری سمجھا۔

 

ہمارے معاشرے میں ایک عجیب تضاد پایا جاتا ہے۔ہم دوسروں کے لباس، رنگ اور شادی کے انداز پر کھل کر بات کرتے ہیں، جیسے ہمیں یہ حق حاصل ہو کہ ہم ان کی زندگی پر فیصلے سنائیں۔ حالانکہ ہر انسان کی ایک ذاتی زندگی ہوتی ہے، اور اسے یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اپنی خوشی کیسے منائے۔

 

دلچسپ بات یہ ہے کہ شادیوں میں جہیز اور سونے کی رسم پر عموماً کوئی بات نہیں کرتا، بلکہ اس پر فخر محسوس کیا جاتا ہے۔ ان رویّوں پر نہ کوئی شور مچتا ہے، نہ انہیں غلط کہا جاتا ہے۔ مگر جیسے ہی بات کسی کے لباس یا رنگ پر آتی ہے، ہر شخص خود کو رائے دینے کا مجاز سمجھنے لگتا ہے۔

 

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم خود کو اخلاقیات کا علمبردار تو کہتے ہیں، مگر اصل سماجی برائیوں پر خاموش رہتے ہیں۔ ہم آسان موضوعات پر بولنا پسند کرتے ہیں، مگر حقیقت کا سامنا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

 

ہر انسان اپنی پسند، جذبات اور ثقافت کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ شادی، لباس، رنگ اور خوشی منانے کا انداز ذاتی انتخاب ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری پسند کا احترام کیا جائے، تو ہمیں دوسروں کی پسند کا احترام کرنا بھی سیکھنا ہوگا۔

 

سوشل میڈیا پر بیٹھ کر دوسروں کی خوشیوں پر رائے دینا آسان ہے، مگر اصل اخلاقیات یہ ہیں کہ ہم دوسروں کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہ کریں۔

 

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ شادی کے خوشی بھرے لمحات، کپڑوں کا انتخاب اور تقریبات ہر فرد کی ذاتی ترجیح ہوتی ہیں۔ اگر ہم دوسروں کی زندگیوں کا احترام کرنا سیکھ لیں تو نہ صرف تنقید کم ہوگی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی زیادہ مہذب بن جائے گا، اور ہر خوشی کا موقع واقعی خوشی ہی رہے گا۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔