خولہ زرافشاں
میں اکثر سوچتی ہوں کہ ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کو تعلیم حاصل کرنے میں جن رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیا بیٹوں کو بھی ایسی ہی مشکلات پیش آتی ہیں یا ہماری معاشرتی اقدار صرف بیٹیوں کے گرد گھومتی ہیں۔
کیونکہ ہمارے معاشرے میں بیٹے کو جس قدر اہمیت دی جاتی ہے، بیٹی اکثر اتنی ہی نظر انداز کی جاتی ہے۔ پیدائش سے لے کر جوانی تک، بلکہ پوری زندگی، بیٹی ناانصافیوں اور پیشہ ورانہ رکاوٹوں کی زنجیروں میں جکڑی رہتی ہے۔
بیٹا اپنی مرضی کے مضامین پڑھ سکتا ہے اور اسے مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے، لیکن بیٹی کو زیادہ تر یہ حق نہیں دیا جاتا۔ اسے وہی مضامین پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے جو گھر اور خاندان والے پسند کریں۔ اکثر خاندان بیٹیوں کو تعلیم دلوانا غیر ضروری سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ یہ تو بیٹی ہے، اسے تعلیم کی کیا ضرورت۔ بیٹی پر خرچ کیا گیا پیسہ انہیں فضول خرچی محسوس ہوتا ہے۔
کچھ لوگ بیٹی کو دسویں جماعت کے بعد گھر بٹھا دیتے ہیں اور یہ کہہ کر کہ تمہیں گھر داری آنی چاہیے، پڑھ لکھ کر کون سی نوکری کرنی ہے۔ تم نے تو ہانڈی چولہا ہی سنبھالنا ہے، کل کو شادی ہو جائے گی، بچے ہوں گے، انہیں سنبھالنا ہوگا۔ مگر سوال یہ ہے کہ شادی صرف بیٹی کی ہی ذمہ داری کیوں سمجھی جاتی ہے۔ بیٹا بھی شادی کرتا ہے، وہ بھی بچوں کا باپ بنتا ہے، پھر پابندیاں صرف بیٹی پر ہی کیوں؟
بیٹا جہاں چاہے پیشہ ورانہ زندگی گزار سکتا ہے، لیکن بیٹی کے لیے محدود پیشے مقرر کر دیے جاتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ اسے استانی بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ عزت والی نوکری ہے۔ اکثر خاندانوں میں اگر قسمت سے بیٹی تعلیم حاصل بھی کر لے تو اسے نوکری کی اجازت نہیں دی جاتی۔
یہی کہا جاتا ہے کہ اب ہماری بیٹی نوکری کرے گی، لوگ کیا کہیں گے۔ ہم عزت دار لوگ ہیں۔ ہماری بیٹی باہر جائے گی تو مرد اسے دیکھیں گے۔
یوں ہم اپنی بیٹیوں کو کمزور بنا دیتے ہیں۔ وہ اپنی خواہشات دل میں دبا لیتی ہیں اور جو صلاحیتیں اللہ نے ان میں رکھی ہیں، ہم انہیں نکھارنے کے بجائے ہمیشہ کے لیے دباؤ میں دبا دیتے ہیں۔ نتیجتاً ایک باصلاحیت بیٹی دوسروں کی محتاج بن کر رہ جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں اگر کوئی بیٹی انجینئر، جرنلسٹ، کھلاڑی یا کسی اور شعبے میں آگے بڑھنے کی خواہش ظاہر کرے تو اسے طنز و تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسے یہ کہہ کر خاموش کر دیا جاتا ہے کہ ہم پٹھان ہیں، ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔ تم مردوں کے ساتھ میدان میں کھیلو گی، بغیر پردے کے باہر جاؤ گی، لوگ ہمیں کیا کہیں گے۔ یوں ایک بیٹی اپنے خواب کو تعبیر دینے سے پہلے ہی اپنے دل کے نہاں خانوں میں دفن کر دیتی ہے۔
زیادہ تر لوگ تعلیم یافتہ بیٹی یا بہو کے کام کرنے کو اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں۔جب میری شادی ہو رہی تھی تو میں نے پی ٹی سی کیا تھا اور ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتی تھی، لیکن شادی کے بعد جب میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ میں تدریس کے شعبے میں کام کرنا چاہتی ہوں، تو گھر والوں نے مجھے مختلف باتیں سنانا شروع کیں۔ نئی نویلی دلہن نوکری کرے گی، لوگ کیا کہیں گے، ہم لوگوں کے سوالوں کا کیا جواب دیں گے۔ کئی دن گھر میں کشیدگی رہی۔
بھلا آخر میں کتنی مزاحمت کرتی رہی، نئی دلہن ہونے کے ناطے کافی سوچ بچار کے بعد میں نے آخرکار اپنا فیصلہ بدل دیا اور ہتھیار ڈال دیے، کیونکہ روزانہ کی باتیں میرے ذہنی تناؤ میں اضافہ کر رہی تھیں۔
یہ سب کچھ ہونے کے بعد میں سوچ رہی تھی کہ آخر کب تک بیٹی کے ساتھ یہ ناانصافی جاری رہے گی؟ ایک بیٹی کب تک سمجھوتے کرتی رہے گی۔ بیٹی بھی انسان ہے، اسے بھی جینے کا حق ہے، اسے بھی خواب دیکھنے کا حق حاصل ہے، اسے آگے بڑھنے اور خودمختار بننے دو، اسے اپنے جذبوں اور صلاحیتوں کے مطابق زندگی جینے دو۔ کیونکہ اگر بیٹا نعمت ہے تو بیٹی بھی رحمت ہے۔
