مشیر گورنر خیبر پختونخوا برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ ثمر ہارون بلور نے مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ میں صوبے کے مالیاتی نظام سے متعلق اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کے انکشافات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری اخراجات، ترقیاتی بجٹ اور اندرونی و بیرونی قرضوں کے حسابات میں سامنے آنے والے اعتراضات کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داری کا تعین ضروری ہے۔
ثمر ہارون بلور کے مطابق پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں صوبائی خزانے سے کیے گئے اربوں روپے کے اخراجات کی مکمل تصدیق نہ ہوسکی۔ آڈٹ رپورٹ میں 72 ارب 46 کروڑ روپے کے سرکاری اخراجات کی مکمل تصدیق نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے، جو مالیاتی نظام میں شفافیت اور جوابدہی سے متعلق اہم سوالات اٹھاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا کے 27 اضلاع میں انسداد پولیو مہم آج سے شروع
انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبائی اسمبلی سے منظور شدہ بجٹ کے مقابلے میں 104 ارب 26 کروڑ روپے کے اضافی اندراجات کس بنیاد پر کیے گئے؟ اسی طرح ترقیاتی اخراجات کی مد میں 153 ارب 68 کروڑ روپے غلط حساباتی مد میں ظاہر کیے گئے، جبکہ ترقیاتی بجٹ میں بھی 20 ارب 20 کروڑ روپے کے اضافی اندراجات سامنے آئے ہیں، جن کی وضاحت ضروری ہے۔

مشیر گورنر نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹ میں 39 ارب 58 کروڑ روپے کا منفی بیلنس بھی مالیاتی نظم و ضبط پر سوالیہ نشان ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق 98 ارب 89 کروڑ روپے کے بیرونی قرضوں کا حساباتی ریکارڈ نامکمل ہے، جبکہ غیر ملکی قرضوں اور ان کے سود کی مد میں 51 ارب 85 کروڑ روپے کی ادائیگیوں کی بھی مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔
ثمر ہارون بلور نے مزید کہا کہ صوبائی اندرونی قرضوں کا ریکارڈ مالی سال 2017-18 کے بعد اپ ڈیٹ نہ ہونا مالیاتی نگرانی میں خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ وفاقی حکومت سے حاصل کردہ قرضوں کا ریکارڈ بھی 2013-14 کے بعد اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا۔
آڈٹ رپورٹ میں صحت، تعلیم، پولیس، شاہراہوں اور دیگر اہم محکموں کے بجٹ میں بھی اربوں روپے کے اضافی اندراجات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ثمر ہارون بلور کا کہنا تھا کہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والا ایک ایک روپیہ قومی امانت ہے اور اس کا مکمل حساب دینا ضروری ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والے تمام اعتراضات کی شفاف جانچ پڑتال، مالی بے ضابطگیوں کی وجوہات معلوم کرنے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی وسائل کا تحفظ، مالی شفافیت اور جوابدہی یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
