دنیا بھر میں جب بھی کوئی خبر سامنے آتی ہے تو اسے عوام تک پہنچانے کے لیے کسی صحافی کو اپنی جان، آزادی اور پیشہ ورانہ تحفظ تک داؤ پر لگانا پڑتا ہے۔ لیکن آج صحافت کو صرف میدان میں درپیش خطرات ہی کا سامنا نہیں، بلکہ میڈیا کی بدلتی ہوئی دنیا میں صحافیوں کا روزگار اور پیشہ ورانہ مستقبل بھی ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔

 

2 نومبر کو دنیا بھر میں صحافیوں کے خلاف جرائم پر سزا سے استثنیٰ کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2013 میں اس دن کو منانے کا اعلان کیا تھا۔ اس تاریخ کا انتخاب 2 نومبر 2013 کو مالی میں قتل ہونے والے دو فرانسیسی صحافیوں کی یاد میں کیا گیا تھا۔ 

 

یونیسکو کے مطابق 2006 سے 2025 تک دنیا بھر میں 1600 سے زائد صحافی قتل کیے جا چکے ہیں، جبکہ ان میں سے تقریباً سات میں سے چھ مقدمات تاحال عدالتی طور پر حل نہیں ہو سکے۔ صرف 2024 اور 2025 کے دوران 189 صحافی پرتشدد واقعات میں مارے گئے۔

 

پاکستان میں بھی صحافیوں کو قتل، دھمکیوں، ہراسانی، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور ملازمتوں کے خاتمے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

 انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی 2025-26 کی رپورٹ کے مطابق مئی 2025 سے اپریل 2026 تک پاکستان میں  تین صحافیوں کو ان کے کام کے باعث قتل کیا گیا۔ اسی رپورٹ میں میڈیا اداروں میں بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

 

لیکن صحافت کے لیے ایک اور بڑا چیلنج ڈیجیٹل میڈیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا ہے، جس نے نہ صرف خبروں کی تیاری اور ترسیل کے طریقے تبدیل کیے ہیں بلکہ صحافیوں کی ملازمتوں، پیشہ ورانہ شناخت اور صحافت کی تعلیم کی اہمیت پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

 

یہی سوالات گزشتہ دنوں یونیورسٹی آف سوات کے داخلہ ڈیسک پر بھی زیرِ بحث آئے، جہاں صحافت میں داخلوں کے سلسلے میں موجودگی کے دوران پروفیسروں اور طلبہ کے ایک گروپ کے درمیان گفتگو شروع ہو گئی۔

 

 بحث کا موضوع یہ تھا کہ جب آج معلومات سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر ہر جگہ دستیاب ہیں اور ہر شخص اپنے موبائل فون سے ویڈیو بنا کر لوگوں تک پہنچا سکتا ہے تو پھر صحافت کی ڈگری حاصل کرنے کی ضرورت کیا رہ گئی ہے؟

 

گفتگو میں بعض معروف صحافیوں کی مثالیں بھی دی گئیں جو گزشتہ 20 سے 25 برسوں سے بڑے عہدوں پر کام کر رہے ہیں، لیکن ان کے پاس صحافت کی باقاعدہ ڈگری نہیں۔ اس بنیاد پر یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا مستقبل میں صحافت کی ڈگری کی اہمیت باقی رہے گی یا یونیورسٹیوں میں اس شعبے کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا؟

یہ بحث دراصل اس بڑے بحران کی عکاسی کرتی ہے جس کا سامنا آج صحافت اور اس سے وابستہ افراد کو ہے۔ بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی محب خان بھی روایتی اور ڈیجیٹل میڈیا کے اس سفر کو قریب سے دیکھ چکے ہیں۔

 

 

محب خان کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا نے صحافت کے طریقہ کار کو آسان اور تیز بنایا ہے۔ پہلے صحافی کسی علاقے میں رپورٹنگ اور کوریج کرنے کے بعد دفتر واپس آتے، خبر کا مسودہ تیار کرتے اور پھر اس کی تدوین ہوتی تھی، جس میں کافی وقت صرف ہوتا تھا۔ 

 

اب ایک صحافی اپنے علاقے میں رہتے ہوئے بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے خبر تیار کرکے فوری طور پر عوام تک پہنچا سکتا ہے۔ان کے بقول روایتی میڈیا میں خبروں کے لیے وقت اور جگہ محدود ہوتی تھی اور ٹیلی ویژن پر  رپورٹ کو صرف 90 سیکنڈ میں مکمل کرنا پڑتا تھا، جبکہ ڈیجیٹل میڈیا میں مواد کے دورانیے اور جگہ کی ایسی پابندی نہیں ہوتی۔

 

تاہم ان کے نزدیک اس آسانی کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے۔ اب کوئی بھی شخص ویڈیو بنا کر مصنوعی ذہانت کی مدد سے چند جملے لکھتا ہے اور سوشل میڈیا پر شائع کرکے خود کو صحافی کے طور پر پیش کر دیتا ہے۔

 بعض اوقات میڈیا ادارے بھی ایسی غیر مصدقہ معلومات اپنے پلیٹ فارمز پر نشر کر دیتے ہیں، حتیٰ کہ پرانی خبروں کو موجودہ واقعات سمجھ کر پیش کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

 

محب خان کے مطابق اس رجحان نے پیشہ ور صحافیوں کی شناخت اور ملازمتوں کو متاثر کیا ہے۔ برسوں کا تجربہ رکھنے والے صحافیوں سے بعض ادارے ان کی رپورٹنگ کے بارے میں پوچھنے کے بجائے سوشل میڈیا پر دستیاب مواد کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ اس طرح ان صحافیوں کی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیت نظر انداز ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں پولیو کا نیا کیس سامنے آگیا، رواں سال تعداد 6 ہوگئی

وہ کہتے ہیں کہ اس صورت حال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ روایتی میڈیا کے بعض صحافی نئے ڈیجیٹل طریقہ کار کے مطابق خود کو ڈھال نہیں سکے، جبکہ بعض صحافی ڈیجیٹل میڈیا میں رائج یک طرفہ رپورٹنگ کے رجحان سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق روایتی صحافت میں مختلف فریقوں کا مؤقف حاصل کرنے اور متوازن رپورٹنگ کو اہمیت دی جاتی تھی، لیکن ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اکثر ایسی خبریں سامنے آتی ہیں جن میں دوسرے فریق کا مؤقف شامل نہیں ہوتا۔

 

محب خان کا خیال ہے کہ آنے والے دو برسوں میں مرکزی دھارے کے روایتی میڈیا کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق آج نئے صحافیوں کے لیے بھی ڈیجیٹل دور میں مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ ہر کوئی خود کو صحافی کے طور پر پیش کر رہا ہے اور بعض میڈیا ادارے یہ تحقیق بھی نہیں کرتے کہ کسی شخص کے پاس صحافت کی ڈگری یا متعلقہ مہارت موجود ہے یا نہیں۔ اس صورت حال میں ایک عام شخص کو مواقع مل جاتے ہیں، جبکہ صحافت کی ڈگری اور پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے نوجوان، جنہیں خبر کی نوعیت اور صحافتی اصولوں کا علم ہوتا ہے، نظر انداز ہو جاتے ہیں۔

 

ان کے مطابق پاکستان کے میڈیا اداروں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر مقبولیت کو ہی قابلیت کا معیار نہ بنائیں بلکہ صحافت کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو ان کی مہارتوں، تحقیق اور ذرائع کی بنیاد پر روزگار کے مواقع فراہم کریں۔یہ صورت حال صرف تجربہ کار صحافیوں تک محدود نہیں بلکہ صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان بھی اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔

 

یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ صحافت و ابلاغِ عامہ کی طالبہ ملیحہ مشتاق کے مطابق آج عام سوشل میڈیا صارف اور پیشہ ور صحافی کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک عام صارف اکثر اپنی ذاتی رائے یا مشاہدے کو معلومات کے طور پر پیش کرتا ہے اور بعض اوقات بغیر تحقیق کے ایسی خبریں بھی شیئر کر دیتا ہے جن کی حقیقت واضح نہیں ہوتی۔ملیحہ کے مطابق پیشہ ور صحافی خبر شائع کرنے سے پہلے اس کی تحقیق اور تصدیق کرتا ہے، مختلف فریقوں کا مؤقف لیتا ہے اور حقائق کو سامنے رکھتا ہے۔ ان کے نزدیک سوشل میڈیا پر موجود ہر شخص کو صحافی قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ صحافت کے اپنے اصول اور ذمہ داریاں ہیں۔

 

روزگار کے حوالے سے ملیحہ کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا نے بہت سے روایتی کام آن لائن منتقل کر دیے ہیں، جس سے وقت اور وسائل کی بچت ہوئی اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ تاہم اس تبدیلی نے بعض روایتی کاموں سے وابستہ افراد، خصوصاً اخبارات کی ترسیل اور فروخت سے وابستہ لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ وہ بطور طالبہ ابھی اپنے مستقبل کے پیشہ ورانہ راستے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کر سکیں۔

 

دوسری جانب پشاور یونیورسٹی کے پانچویں سمسٹر کی طالبہ حالہ نور سمجھتی ہیں کہ ڈیجیٹل میڈیا کے باوجود پیشہ ور صحافیوں کی اہمیت ختم نہیں ہو سکتی بلکہ ان کی ذمہ داری مزید بڑھ جائے گی۔ان کے مطابق موبائل فون سے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا صحافت نہیں، کیونکہ ایک صحافی کو خبر کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے، اس کی تصدیق کرنے اور متعلقہ فریقوں کا مؤقف حاصل کرنے کی ذمہ داری بھی ادا کرنا ہوتی ہے۔حالہ نور کا کہنا ہے کہ صحافت کی ڈگری اور عملی مہارتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔

 

 

 یونیورسٹی کی تعلیم صحافتی اصولوں، تحقیق اور اخلاقیات کی بنیاد فراہم کرتی ہے، جبکہ ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیجیٹل رپورٹنگ، کیمرہ ورک اور سوشل میڈیا کے استعمال جیسی مہارتیں جدید میڈیا میں کام کرنے کے لیے ضروری ہو چکی ہیں۔ان کے نزدیک مستقبل میں وہی نوجوان صحافت میں آگے بڑھ سکیں گے جو اپنی تعلیمی قابلیت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے تقاضوں کو بھی سمجھیں گے۔

دوسری جانب یونیورسٹی آف سوات کے شعبہ صحافت کے گریجویٹ، گولڈ میڈلسٹ اور روز نیوز، اردو پوائنٹ، شمال نیوز اور جی جی ایس نیوز کے رپورٹر غفران اللہ کے مطابق مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز صحافت کی تعلیم کی اہمیت ختم نہیں کریں گے بلکہ اس کی نوعیت تبدیل کریں گے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی آف سوات میں جدید میڈیا سے متعلق مضامین پڑھائے جا رہے ہیں، تاہم طلبہ کو جدید آلات، میڈیا لیبارٹریز، عملی رپورٹنگ اور میڈیا اداروں میں انٹرن شپ کے مزید مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

 

 

غفران اللہ کے مطابق صحافت کے طلبہ کو صرف ڈگری پر انحصار کرنے کے بجائے موبائل جرنلزم، ویڈیو ایڈیٹنگ، کیمرہ ورک، سوشل میڈیا مینجمنٹ اور ڈیجیٹل مواد کی تیاری جیسی مہارتیں بھی حاصل کرنی چاہئیں۔ ان کے نزدیک مستقبل ان صحافیوں کا ہوگا جو صحافت کے بنیادی اصولوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر سکیں گے۔

 

لیکن صحافیوں کی ملازمتوں کے خاتمے کی وجوہات کو صرف ڈیجیٹل میڈیا تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ میڈیا اداروں کو درپیش معاشی مشکلات، بڑھتے ہوئے اخراجات اور آمدنی میں کمی بھی اس بحران کا اہم حصہ ہیں۔

 

پشاور سے شائع ہونے والے روزنامہ پختونخوا بلیٹن کے مدیر محمود اقبال، جو اس سے قبل انگریزی روزنامہ ڈان سے بھی وابستہ رہے ہیں، کے مطابق صحافیوں کی ملازمتیں ختم ہونے کی بنیادی وجوہات میں مجموعی معاشی بحران، اشاعتی اداروں کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور انتظامی کمزوریاں شامل ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا نے اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز کے کاروباری طریقوں، آمدنی اور قارئین و ناظرین کی عادات کو ضرور متاثر کیا ہے، لیکن ملازمتوں کے خاتمے کی واحد وجہ ڈیجیٹل میڈیا نہیں۔

 

 ملک کی مجموعی معاشی مشکلات اور میڈیا اداروں کی کمزور مالی منصوبہ بندی بھی اس صورت حال میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔محمود اقبال کے مطابق میڈیا اداروں کو ڈیجیٹل تبدیلی سے گھبرانے کے بجائے اسے نئے مواقع کے طور پر دیکھنا چاہیے، آمدنی کے نئے ذرائع تلاش کرنے چاہئیں اور صحافیوں کے روزگار کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔صحافت کی ڈگری کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ باقاعدہ تعلیم صحافتی اخلاقیات، پیشہ ورانہ ذمہ داری، تحقیق، خبر کی تصدیق اور درست تجزیے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ 

 

 

تاہم صرف ڈگری کافی نہیں، ایک کامیاب صحافی کے لیے عملی تجربہ اور جدید ڈیجیٹل مہارتیں بھی ضروری ہیں۔محمود اقبال کے مطابق آج نیوز رومز اور اشاعتی اداروں کو تربیت یافتہ رپورٹرز، ایڈیٹرز، تحقیقاتی صحافیوں اور حقائق کی جانچ کرنے والے افراد کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے، کیونکہ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے معلومات کی تیز رفتار ترسیل نے غیر مصدقہ خبروں کے پھیلاؤ کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔ 

 

عام ڈیجیٹل تخلیق کار مواد تو تیار کر سکتے ہیں، لیکن تحقیق، تصدیق، غیر جانب داری اور صحافتی اخلاقیات کو یقینی بنانا تربیت یافتہ صحافی کی ذمہ داری ہے۔ان کے نزدیک جامعات کو بھی صحافت کے شعبوں کو بند کرنے کے بجائے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا چاہیے۔ پشاور اور سوات کی جامعات میں ڈیجیٹل صحافت، تحقیقاتی رپورٹنگ، حقائق کی جانچ اور ملٹی میڈیا رپورٹنگ کی عملی تربیت بڑھانے کے ساتھ میڈیا اداروں میں انٹرن شپ کے مواقع بھی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

 

 

ملازمتوں کے خاتمے کی اس صورت حال کی ایک واضح مثال انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی پاکستان سے متعلق 2025-26 کی رپورٹ میں بھی ملتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نومبر 2025 میں ڈیجیٹل ادارے نکتہ کے کم از کم 37 ملازمین کو ملازمت سے فارغ کیا گیا، جبکہ ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کی بندش کے نتیجے میں 12 ملازمتیں ختم ہوئیں۔ اسی دوران سما ٹی وی میں تنخواہوں میں 30 فیصد کمی کے باعث ملازمین کے استعفوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

 

 نیوز ون ٹی وی کے ملازمین کو بھی برطرفیوں کا سامنا کرنا پڑا۔یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا روزگار حقیقی دباؤ کا شکار ہے۔ ایک طرف روایتی میڈیا کے کاروباری ماڈل میں تبدیلی آ رہی ہے تو دوسری طرف ڈیجیٹل ادارے بھی معاشی مشکلات سے محفوظ نہیں۔ اس صورت حال میں سب سے زیادہ متاثر وہ صحافی ہو سکتے ہیں جن کے پاس تجربہ، تعلیم اور پیشہ ورانہ صلاحیت تو موجود ہے، لیکن انہیں کام کے مواقع میسر نہیں آ رہے۔

 

اب سوال یہ ہے کہ اگر صحافت کی ڈگری حاصل کرنے والے نوجوانوں کو میڈیا اداروں میں ملازمتیں نہیں ملیں گی، اگر تجربہ کار صحافیوں کو ڈیجیٹل تبدیلی کے نام پر نظر انداز کیا جائے گا اور اگر سوشل میڈیا پر مقبولیت کو پیشہ ورانہ قابلیت پر ترجیح دی جائے گی تو مستقبل میں معیاری صحافت کیسے برقرار رہے گی؟

 

پاکستان کے میڈیا اداروں کو چاہیے کہ وہ صحافت کی باقاعدہ تعلیم کو اہمیت دیں، ڈگری ہولڈر نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کے لیے مواقع فراہم کریں اور انہیں عملی تربیت، انٹرن شپ اور باقاعدہ ملازمتوں کے ذریعے صحافت کا حصہ بنائیں۔

 اسی طرح تجربہ کار صحافیوں کو بھی ڈیجیٹل تبدیلی کے دوران نظر انداز کرنے کے بجائے نئے تقاضوں کے مطابق کام کرنے کے مواقع دیے جائیں۔کیونکہ صحافت صرف موبائل فون سے ویڈیو بنانے، چند جملے لکھنے اور سوشل میڈیا پر خبر شائع کرنے کا نام نہیں۔ 

 

اس کے پیچھے تحقیق، برسوں کی محنت، ذرائع سے رابطے، حقائق کی تصدیق اور عوام کے سامنے جواب دہی کی ایک پوری ذمہ داری موجود ہے۔ ٹیکنالوجی بدل سکتی ہے، خبر پہنچانے کے ذرائع تبدیل ہو سکتے ہیں، لیکن اگر صحافیوں کا روزگار، تعلیم اور پیشہ ورانہ شناخت ہی محفوظ نہیں رہے گی تو ذمہ دارانہ صحافت کا مستقبل بھی ایک بڑا سوال بن کر رہ جائے گا۔