ایمان ظاہر شاہ 

 

ایک بچے کی پیدائش کو ہر ماں کی زندگی کا خوشی بھرا لمحہ سمجھا جاتا ہے، لیکن ہر ماں اس خوشی کو یکساں طور پر محسوس نہیں کرتی۔ بعض ماؤں کے لیے بچے کی پیدائش کے بعد کا وقت خوشی کے بجائے اداسی، بے چینی، خوف اور تنہائی میں گزرنے لگتا ہے۔ وہ اپنے ہی بچے کے ساتھ جذباتی تعلق قائم کرنے میں دشواری محسوس کرتی ہیں اور بعض اوقات خود کو ایک بری ماں سمجھنے لگتی ہیں۔

 

یہ کیفیت محض تھکن کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ بعد از زچگی ڈپریشن (پوسٹ پارٹم ڈپریشن، Postpartum Depression) بھی ہو سکتی ہے، جو ذہنی صحت کا ایک قابلِ علاج مسئلہ ہے۔

 

ماں کے لیے خوشی کے بجائے اداسی اور احساسِ جرم

 

بعد از زچگی ڈپریشن کا سامنا کرنے ماہم  اقبال نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بچے کی پیدائش کے بعد انہیں کن جذباتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس کیفیت نے ان کی زندگی کو کس طرح متاثر کیا۔

 

 

ضلع نوشہرہ کے گاؤں شیدو کی رہائشی 30 سالہ ماہم اقبال بتاتی ہیں کہ بیٹے کی پیدائش کے بعد وہ پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی کیفیت سے گزریں۔ ان کے مطابق وہ معمولی باتوں پر رونے لگتی تھیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر انہیں غصہ آتا تھا۔ بعض اوقات انہیں اپنے ہی بیٹے پر بھی غصہ آتا، جس کے بعد وہ مزید پریشان ہو جاتیں اور احساسِ جرم کا شکار رہتیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: لکی مروت: جوڈیشل کمپلیکس میں فائرنگ، زیرِ حراست ملزم جاں بحق، پیپلز پارٹی رہنما سمیت 2 افراد زخمی

 

ماہم کہتی ہیں کہ اس دوران انہیں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ جس تکلیف سے گزر رہی ہیں، اس کی وجہ ان کا بیٹا ہے۔ ان کے مطابق جب بچہ روتا تو بعض اوقات ان میں اسے چپ کرانے یا تسلی دینے کی بھی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ ان کے سسرال والے انہیں خود غرض قرار دیتے اور کہتے تھے کہ وہ اپنے بیٹے سے محبت نہیں کرتیں۔ اس رویے نے ان کے احساسِ جرم میں مزید اضافہ کیا۔

 

ماہم کے مطابق بعد ازاں انہوں نے گائناکالوجسٹ سے رجوع کیا، جنہوں نے انہیں بتایا کہ بچے کی پیدائش کے بعد بعض خواتین کو اس طرح کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ڈاکٹر نے انہیں اپنے لیے وقت نکالنے، پرسکون رہنے اور اس کیفیت سے باہر آنے کے لیے خود کو مناسب وقت دینے کا مشورہ دیا۔ ماہم کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی حالت میں بہتری آنے لگی۔

 

بعد از زچگی ڈپریشن کی علامات اور ماں، بچے کے تعلق پر اثرات

 

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نازش حیات نے بتایا کہ بعد از زچگی ڈپریشن (پوسٹ پارٹم ڈپریشن) ایک ذہنی کیفیت ہے جو بچے کی پیدائش کے بعد پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ کیفیت ماں اور بچے کے درمیان تعلق اور جذباتی وابستگی کو بھی بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔

 

ہارمونز میں تبدیلیاں زچگی کے بعد ڈپریشن کا سبب کیسے بنتی ہیں؟

 

ڈاکٹر نازش حیات نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ زچگی کے بعد ڈپریشن نسبتاً عام مسئلہ ہے اور بچے کی پیدائش کے بعد 10 فیصد سے زائد خواتین اس کیفیت سے متاثر ہوتی ہیں، تاہم مختلف آبادیوں میں اس کی شرح مختلف ہو سکتی ہے۔

 

 

انہوں نے بتایا کہ بچے کی پیدائش کے بعد خواتین کے جسم میں ایسٹروجن اور پروجیسٹرون جیسے ہارمونز کی سطح میں تیزی سے کمی آتی ہے، جس کے باعث جسم کو اچانک پیدا ہونے والی ہارمونی تبدیلیوں کے ساتھ مطابقت پیدا کرنا پڑتی ہے۔

 

ایسٹروجن اور پروجیسٹرون خواتین کے جسم میں پائے جانے والے اہم ہارمونز ہیں، جو حمل کے دوران جسم میں ہونے والی مختلف تبدیلیوں کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حمل کے دوران ان ہارمونز کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ جسم میں ہونے والی یہ بڑی ہارمونی تبدیلی بعض خواتین کے مزاج، جذبات اور ذہنی کیفیت کو متاثر کر سکتی ہے۔

 

ڈاکٹر نازش حیات کے مطابق جسمانی تھکن، نیند کی کمی، زچگی کے بعد صحت یابی کا عمل، درد اور بچے کو دودھ پلانے میں پیش آنے والی مشکلات بھی نئی ماں کے لیے اضافی چیلنجز پیدا کرتی ہیں، جو بعد از زچگی ڈپریشن کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔

 

کن خواتین میں بعد از زچگی ڈپریشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟

 

ڈاکٹر نازش کا کہنا ہے کہ جن خواتین کو پہلے سے ڈپریشن یا کسی دوسری ذہنی بیماری کی شکایت رہی ہو، یا جن کے خاندان میں اس طرح کی بیماری کی تاریخ موجود ہو، ان میں زچگی کے بعد ڈپریشن کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔

 

 

ان کے مطابق جن خواتین کو پہلے زچگی کے بعد ڈپریشن کا سامنا ہو چکا ہو، ان میں دوبارہ اس کیفیت سے متاثر ہونے کا خطرہ تقریباً 25 فیصد ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مالی مشکلات، ازدواجی یا خاندانی مسائل، سماجی اور خاندانی تعاون کی کمی، حمل یا زچگی کے دوران پیچیدگیاں، جڑواں یا اس سے زائد بچوں کی پیدائش، نیند کی کمی اور مسلسل ذہنی دباؤ بھی اس خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

 

بعد از زچگی ڈپریشن کی علامات اور ان کی پہچان

 

ڈاکٹر نازش حیات کے مطابق زچگی کے بعد ڈپریشن کی عام علامات میں مسلسل اداسی، ناامیدی، بار بار رونا، روزمرہ کی سرگرمیوں میں دلچسپی ختم ہونا، شدید تھکن، بھوک میں تبدیلی اور نیند کے معمولات میں خرابی شامل ہیں۔ تاہم، نیند کی یہ خرابی نومولود بچے کی دیکھ بھال کے باعث ہونے والی معمول کی نیند کی کمی سے مختلف ہوتی ہے۔

 

 

اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بچے کے ساتھ جذباتی وابستگی قائم کرنے میں دشواری، بے چینی، گھبراہٹ، ضرورت سے زیادہ فکر اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکل بھی اس کیفیت کی علامات ہو سکتی ہیں۔ خود کو یا بچے کو نقصان پہنچانے کے خیالات اس کی سنگین علامات میں شمار ہوتے ہیں۔

 

ڈپریشن کی تشخیص، دوبارہ لاحق ہونے کا خطرہ اور علاج میں تاخیر کے اثرات

 

ڈاکٹر نازش حیات نے وضاحت کی کہ زچگی کے بعد ڈپریشن بچے کی پیدائش کے ابتدائی چند ہفتوں میں شروع ہو سکتا ہے، تاہم زچگی کے تین سے چار ماہ بعد بھی خواتین کی اس حوالے سے اسکریننگ کی جانی چاہیے۔ بعض خواتین میں اس کی علامات فوری طور پر ظاہر ہو جاتی ہیں، جبکہ بعض میں یہ کیفیت بتدریج پیدا ہوتی ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ یہ ضروری نہیں کہ ہر حمل کے بعد خاتون کو ڈپریشن کا سامنا کرنا پڑے۔ پہلے اس کیفیت سے متاثر ہونے والی خواتین کے لیے زچگی کے بعد باقاعدہ طبی معائنہ اور فالو اَپ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

 

 

علاج میں تاخیر کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر اس کیفیت کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو اس کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ اس سے ڈپریشن یا بے چینی، بچے کے ساتھ جذباتی تعلق قائم کرنے میں مشکلات، ازدواجی اور خاندانی مسائل پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ معیارِ زندگی بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

 

ڈاکٹر نازش حیات نے نشاندہی کی کہ ماں کی ذہنی صحت متاثر ہونے کے اثرات بچے کی جذباتی، رویوں سے متعلق اور ذہنی نشوونما پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ ماں میں خود کو نقصان پہنچانے یا خودکشی کے خیالات کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

 

 

آخر میں انہوں نے زور دیا کہ زچگی کے بعد ڈپریشن ایک طبی مسئلہ ہے اور بہت سی ماؤں کو اس کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے بقول، جو خواتین مسلسل اداسی، ذہنی دباؤ یا بے بسی محسوس کرتی ہوں اور روزمرہ کے معاملات سنبھالنے میں دشواری کا سامنا کر رہی ہوں، انہیں کسی ماہرِ صحت، خاندان کے فرد یا قابلِ اعتماد شخص سے بات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔

 

بروقت مدد اور علاج کی اہمیت

 

ڈاکٹر نازش حیات کا کہنا تھا کہ بروقت مدد حاصل کرنے سے نمایاں فرق پڑ سکتا ہے۔ مناسب تعاون، سمجھ بوجھ اور ضرورت کے مطابق علاج کے ذریعے ماں اپنے بچے اور خاندان کے ساتھ صحت مند تعلق قائم کر سکتی ہے۔

 

بعد از زچگی ڈپریشن: ایک ماں کی مشکلات

 

صوابی کی رہائشی 26 سالہ لاریب حسین بتاتی ہیں کہ دوسری بیٹی کی پیدائش کے بعد ان کے رویے اور ذہنی کیفیت میں نمایاں تبدیلی آئی۔ وہ خاموش رہنے لگی تھیں اور بعض اوقات انہیں اپنے کانوں میں بچے کے رونے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ کمرے میں اکیلی بیٹھتیں تو انہیں محسوس ہوتا جیسے ہر طرف سے رونے کی آوازیں آ رہی ہوں۔ اس دوران وہ بہت کم بات کرتی تھیں اور اکثر صرف ہاں یا ناں میں جواب دیتی تھیں۔

 

 

لاریب کے مطابق بعض اوقات ان کے ذہن میں اپنی بچی کو مار دینے کے خیالات بھی آتے تھے۔ گھر والوں نے ان کی اس کیفیت کو ذہنی صحت کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے جنات کا اثر قرار دیا، جس کے باعث انہیں بروقت طبی یا نفسیاتی مدد حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

 

بعد از زچگی ڈپریشن کے چار اہم نفسیاتی اثرات

 

کلینیکل سائیکالوجسٹ اور پشاور میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک مینٹل ہیلتھ اینڈ بیہیویئرل سائنسز کی سربراہ ہما کنول نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعد از زچگی ڈپریشن صرف ماں کو اداس نہیں کرتا بلکہ اس کے اپنے آپ، بچے، رشتوں اور مستقبل کو دیکھنے کے انداز کو بھی متاثر کرتا ہے۔

 

 

خیبر پختونخوا میں خواتین کے ساتھ کلینیکل پریکٹس کے دوران اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے ہما کنول نے کہا کہ بعد از زچگی ڈپریشن بیک وقت چار اہم نفسیاتی پہلوؤں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ پہلو ایک دوسرے کے اثرات کو مزید بڑھاتے ہیں اور یوں ایک نقصان دہ چکر پیدا ہو سکتا ہے۔

 

ذہنی و فکری اثرات

 

ذہنی اور فکری سطح پر بعد از زچگی ڈپریشن ماں کی سوچ کو اس حد تک متاثر کر سکتا ہے کہ منفی خیالات بار بار ذہن میں آنے لگتے ہیں اور وہ انہیں اپنے قابو سے باہر محسوس کرتی ہے۔ اسے مسلسل یہ خیالات آ سکتے ہیں کہ ’’میں اپنے بچے کی اچھی دیکھ بھال نہیں کر رہی‘‘، ’’میں ایک اچھی ماں بننے کے قابل نہیں ہوں‘‘، ’’مجھ میں ہی کوئی بنیادی خرابی ہے‘‘ یا ’’میرے بچے کے لیے میرے بغیر رہنا بہتر ہوگا۔‘‘

 

 

یہ محض منفی سوچیں نہیں ہوتیں بلکہ بعض اوقات ایسے غیر ارادی خیالات ہوتے ہیں جو ماں کو بالکل سچ محسوس ہوتے ہیں، جس کے باعث وہ ان کے برعکس موجود شواہد کو بھی قبول نہیں کر پاتی۔ حتیٰ کہ اگر بچہ صحت مند ہو اور اس کی نشوونما بھی اچھی ہو رہی ہو، تب بھی ڈپریشن کا شکار ماں اسے اپنی اچھی ماں ہونے کی صلاحیت کے ثبوت کے طور پر نہیں دیکھ پاتی، کیونکہ یہ کیفیت مسلسل اس کی سوچ کو متاثر کر رہی ہوتی ہے۔

 

جذباتی اثرات

 

جذباتی سطح پر بعد از زچگی ڈپریشن صرف اس اداسی تک محدود نہیں ہوتا جس کا عام طور پر تصور کیا جاتا ہے۔ کلینیکل پریکٹس کے دوران بعض مائیں ایسی کیفیت کا اظہار کرتی ہیں جس میں وہ اپنے نومولود بچے کے لیے محبت محسوس کرنے سے قاصر ہوتی ہیں۔ یہ صورتِ حال انہیں خوف، شرمندگی اور شدید پریشانی میں مبتلا کر سکتی ہے۔

 

ماؤں کو توقع ہوتی ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد وہ اس کے لیے ایسی گہری محبت محسوس کریں گی جس کا ذکر معاشرے، خاندان اور ماں بننے سے متعلق روایات میں بار بار کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس کے برعکس وہ خود کو بے حس، لاتعلق، خوف زدہ یا چڑچڑا محسوس کر سکتی ہیں، جبکہ بعض مائیں گہری بے چینی کا شکار ہوتی ہیں جسے بیان کرنا بھی ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔

 

 

بعض مائیں مسلسل روتی رہتی ہیں، لیکن انہیں خود بھی سمجھ نہیں آتا کہ وہ کیوں رو رہی ہیں۔ اس کے برعکس بعض ماؤں کے لیے کسی بھی قسم کے جذبات محسوس نہ کر پانا زیادہ خوف ناک ہوتا ہے۔ انہیں یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ بچے کے لیے محبت محسوس نہ کر پانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان میں کوئی ایسی خرابی ہے جسے درست نہیں کیا جا سکتا۔

 

خود اعتمادی میں کمی

 

بعد از زچگی ڈپریشن ماں کا اپنی صلاحیتوں پر اعتماد بتدریج کم کر سکتا ہے۔ بچے کو دودھ پلانا، اسے پرسکون کرنا، نہلانا یا اس کے رونے پر ردِعمل دینا جیسے روزمرہ کے کام، جو عموماً سیکھنے اور تجربے کے ساتھ بہتر ہوتے ہیں، ماں کو اپنی ناکامی کی علامت محسوس ہونے لگتے ہیں۔

 

وہ بچے کی دیکھ بھال کے دوران پیش آنے والی ہر مشکل کو معمول کا چیلنج سمجھنے کے بجائے اپنی بنیادی نااہلی کا ثبوت تصور کرنے لگتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کا اعتماد اس حد تک کم ہو سکتا ہے کہ وہ ان کاموں کی کوشش کرنے سے بھی گریز کرنے لگتی ہے جنہیں وہ حقیقت میں اچھی طرح انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یوں اس میں بے بسی کا احساس پیدا ہو سکتا ہے، جو اس وقت مزید نقصان دہ ثابت ہوتا ہے جب اسے سب سے زیادہ اپنے آپ پر اعتماد اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔

 

مادری شناخت پر اثرات

 

بعد از زچگی ڈپریشن ماں کی شناخت کو بھی گہرائی سے متاثر کر سکتا ہے۔ ماں بننے کے لیے عورت کو اپنی شناخت میں ایک بڑی تبدیلی سے گزرنا پڑتا ہے۔ حمل سے پہلے وہ اپنی پیشہ ورانہ، سماجی اور ذاتی شناخت کے ساتھ زندگی گزار رہی ہوتی ہے، لیکن بچے کی پیدائش کے بعد اسے اپنی نئی شناخت، یعنی ماں کے کردار کو بھی اپنی شخصیت کا حصہ بنانا ہوتا ہے۔

 

 

ماہرِ نفسیات ڈینیئل اسٹرن نے اس تبدیلی کو ’’Motherhood Constellation‘‘ یعنی ’’مادری شناخت کی تشکیل‘‘ کے تصور کے ذریعے بیان کیا ہے۔ اس تصور کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد عورت کی نفسیاتی توجہ اور شناخت کا ایک بڑا حصہ اس کے نئے مادری کردار کے گرد منظم ہونے لگتا ہے۔

 

بعد از زچگی ڈپریشن شناخت کی تشکیل کے اس عمل میں شدید خلل ڈال سکتا ہے۔ ایک طرف ماں نئے کردار کی ذمہ داریوں کے باعث دباؤ کا شکار ہوتی ہے، تو دوسری طرف اسے مسلسل یہ احساس بھی رہتا ہے کہ وہ اس کردار کو درست طریقے سے نبھانے میں ناکام ہو رہی ہے۔

 

ایسی صورتِ حال میں وہ اپنی سابقہ شناخت کو بھی کھویا ہوا محسوس کر سکتی ہے، جس میں اس کی پیشہ ورانہ شناخت، رشتوں میں اس کا کردار اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد شامل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف وہ ابھی اپنی نئی مادری شناخت کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ بھی نہیں ہو پاتی۔ اس کے نتیجے میں شناخت کے حوالے سے گہری الجھن، بے چینی، غم اور ذہنی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے، جو عام اداسی سے کہیں زیادہ پیچیدہ کیفیت ہے۔

 

 

ہما کنول کے مطابق بعد از زچگی ڈپریشن میں احساسِ جرم اور اپنی ذات کو ناکافی سمجھنے کی کیفیت محض غیر منطقی ردِعمل نہیں ہوتی، بلکہ ثقافتی توقعات اور حقیقی زندگی کے تجربات کے درمیان فرق کے نفسیاتی طور پر قابلِ فہم نتائج ہوتے ہیں۔ اس دوران دماغ اور اعصابی نظام بھی نمایاں حیاتیاتی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

 

خیبر پختونخوا میں ماؤں کے ساتھ اپنے کلینیکل کام کے دوران، جس میں شیلٹر ہومز، صنفی بنیاد پر تشدد سے نمٹنے کے مراکز اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز بھی شامل ہیں، انہوں نے مشاہدہ کیا ہے کہ احساسِ جرم بیک وقت تین نفسیاتی عوامل کے زیرِ اثر کام کرتا ہے، جو ایک دوسرے کے اثرات کو مزید بڑھاتے ہیں۔

 

توقعات اور حقیقت کے درمیان فرق

 

احساسِ جرم کا پہلا اہم سبب ماں بننے سے وابستہ توقعات اور حقیقی تجربات کے درمیان فرق ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں عورت ماں بننے کے مرحلے میں داخل ہوتے وقت عموماً ایک مخصوص تصور رکھتی ہے کہ ایک اچھی ماں کیسی دکھائی دیتی ہے، کیا محسوس کرتی ہے اور کس طرح اپنے بچے کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ یہ تصور برسوں کی ثقافتی تربیت، مذہبی گفتگو، خاندانی روایات اور معاشرتی مشاہدے کے نتیجے میں تشکیل پاتا ہے۔

 

 

معاشرے میں ایک اچھی ماں کو ایسی خاتون تصور کیا جاتا ہے جو محبت کرنے والی، صابر، قدرتی طور پر بچے کی دیکھ بھال کی صلاحیت رکھنے والی، اپنی خواہشات قربان کرنے والی، ہر وقت جذباتی طور پر دستیاب اور بچے کی ہر ضرورت بغیر بتائے سمجھنے والی ہو۔

 

جب بعد از زچگی ڈپریشن کے باعث ماں خود کو بے حس، انتہائی تھکا ہوا، چڑچڑا، خوف زدہ یا اپنے بچے سے جذباتی طور پر دور محسوس کرتی ہے تو وہ اپنے حقیقی تجربے کا موازنہ ذہن میں موجود ماں کے مثالی تصور سے کرنے لگتی ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ اپنی کیفیت کو ڈپریشن کی ایک طبی علامت سمجھنے کے بجائے اپنی اخلاقی ناکامی تصور کرنے لگتی ہے۔

 

یہ سوچ کہ ’’میں وہ نہیں بن پا رہی جو ایک ماں کو ہونا چاہیے‘‘ بعد از زچگی ڈپریشن کی اہم نفسیاتی علامات میں شامل ہے۔ علاج کے دوران اس سوچ پر براہِ راست توجہ دینا ضروری ہوتا ہے تاکہ ماں خود کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے اپنی کیفیت کو سمجھ سکے۔

 

غیر ارادی اور پریشان کن خیالات

 

احساسِ جرم کا دوسرا اہم سبب غیر ارادی اور پریشان کن خیالات ہیں۔ بعد از زچگی ڈپریشن کا سامنا کرنے والی بہت سی ماؤں کے ذہن میں ایسے خیالات یا مناظر بار بار آ سکتے ہیں جن پر ان کا اختیار نہیں ہوتا اور جو انہیں شدید پریشانی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ان میں بچے کو نقصان پہنچنے کے خیالات، اپنی ذات کو ناکافی سمجھنے کا احساس یا یہ سوچ شامل ہو سکتی ہے کہ شاید بچے کے لیے ان کے بغیر رہنا بہتر ہوگا۔

 

 

یہ خیالات ماں کی اپنی خواہشات اور اقدار کے بالکل برعکس ہوتے ہیں، لیکن ان کا اچانک ذہن میں آنا بھی اسے اپنی اخلاقی کمزوری یا نااہلی کا ثبوت محسوس ہو سکتا ہے۔ وہ انہیں نفسیاتی یا حیاتیاتی کیفیت کی علامت سمجھنے کے بجائے اپنے کردار کے بارے میں ایک حقیقت تصور کرنے لگتی ہے۔

 

ہما کنول کے مطابق یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ ایسے خیالات سے ماں کا خوف زدہ اور پریشان ہونا اس بات کی علامت بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے بچے سے کتنی محبت کرتی ہے اور اسے محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔ تاہم، بعد از زچگی ڈپریشن میں سوچ کا انداز اس حقیقت کو الٹ کر پیش کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ماں کو اپنی محبت ہی خطرے کی علامت محسوس ہونے لگتی ہے۔

 

سماجی موازنہ اور احساسِ کمتری

 

احساسِ جرم کا تیسرا سبب سماجی موازنہ ہے، جو بعد از زچگی کے عرصے میں مسلسل اور تکلیف دہ انداز میں اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ڈپریشن کا سامنا کرنے والی ماں جب دوسری خواتین کو بظاہر اپنے حالات بہتر انداز میں سنبھالتے ہوئے دیکھتی ہے، تصاویر میں مسکراتے، بچے کو دودھ پلاتے ہوئے مطمئن دکھائی دیتے اور ان کے بچوں کو پرسکون دیکھتی ہے تو وہ اس موازنے کو اپنی نااہلی کی تصدیق سمجھنے لگتی ہے۔

 

 

تاہم، وہ دوسری ماؤں کی نجی زندگی اور مشکلات سے واقف نہیں ہوتی۔ وہ یہ بھی نظرانداز کر سکتی ہے کہ معاشرہ ماں سے ایک مخصوص قسم کی ’’مثالی کارکردگی‘‘ کی توقع رکھتا ہے، جس کا اظہار اکثر لوگ اپنی ظاہری زندگی میں کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بعد از زچگی کے تجربات میں انفرادی طور پر بہت فرق پایا جاتا ہے اور ہر ماں اس مرحلے سے ایک جیسے حالات اور جذبات کے ساتھ نہیں گزرتی۔

 

صحت یابی کے لیے انفرادی اور پیشہ ورانہ معاونت

 

ہما کنول کا کہنا ہے کہ اپنے طبی تجربے کی بنیاد پر وہ یہ بتا سکتی ہیں کہ بعد از زچگی ڈپریشن سے صحت یابی کے لیے کون سی مدد زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں انفرادی، خاندانی اور معاشرتی، تینوں سطحوں پر معاونت ضروری ہے۔

 

 

انفرادی سطح پر کاؤنسلنگ، بالخصوص ادراکی رویوں کی تھراپی (CBT)، ایک مؤثر طریقہ ہے۔ اس تھراپی کے ذریعے ماں کے ذہن میں پیدا ہونے والے منفی خیالات پر کام کیا جاتا ہے، مثلاً ’’میں ایک بری ماں ہوں‘‘ یا ’’میں اپنے بچے کو اچھی طرح نہیں سنبھال سکتی۔‘‘ ماں کو ان خیالات کو پہچاننے، ان کی وجوہات سمجھنے اور ان کے متبادل مثبت اور حقیقت پسندانہ سوچ اپنانے میں مدد دی جاتی ہے۔

 

اسی طرح ماں کو بتدریج ان سرگرمیوں کی طرف واپس لانا بھی مددگار ثابت ہوتا ہے جو اسے خوشی یا سکون فراہم کرتی ہیں۔ بعد از زچگی ڈپریشن میں اکثر ماں خود کو دوسروں سے الگ کر لیتی ہے اور روزمرہ کے کاموں میں اس کی دلچسپی کم ہو جاتی ہے، جس سے اس کی ذہنی کیفیت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ بامعنی اور پسندیدہ سرگرمیوں میں بتدریج واپسی اس منفی چکر کو توڑنے میں مدد دیتی ہے۔

 

 

اگر بعد از زچگی ڈپریشن درمیانے یا شدید درجے کا ہو تو بعض خواتین کو اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں ماں کی کیفیت اور دودھ پلانے کے عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے موزوں ادویات کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ ہما کنول کے مطابق ان کیسز میں ادویات کے ساتھ کاؤنسلنگ یا تھراپی بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

 

خاندانی تعاون اور شوہر کا کردار

 

ہما کنول کے مطابق خاندانی سطح پر ان کے طبی تجربے میں سب سے اہم عوامل میں سے ایک شوہر کو اس کیفیت سے آگاہ کرنا اور اسے علاج کے عمل میں شامل کرنا ہے۔ شوہر کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بعد از زچگی ڈپریشن نہ تو کردار کی کمزوری ہے، نہ بری ماں ہونے کی علامت اور نہ ہی روحانی کمی، بلکہ ایک قابلِ علاج طبی مسئلہ ہے۔

 

 

جب شوہر یہ سمجھ لیتا ہے کہ بیوی کا بار بار رونا، چڑچڑاپن، جذباتی طور پر دور رہنا اور خود پر شک کرنا بیماری کی علامات ہیں تو اس کا رویہ بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں وہ بیوی کو نظرانداز کرنے یا اس پر ناراض ہونے کے بجائے اس کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کرتا اور عملی مدد فراہم کرتا ہے۔ ان کے تجربے کے مطابق شوہر کی یہ حمایت بعض اوقات علاج کے دیگر طریقوں سے بھی زیادہ اہم ثابت ہوتی ہے۔

 

دوسری ماؤں کی معاونت اور تجربات کا تبادلہ

 

ہما کنول نے نشاندہی کی کہ دوسری ماؤں کی مدد اور ساتھ بھی صحت یابی کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے گروپس، جہاں بعد از زچگی ڈپریشن کا سامنا کرنے والی مائیں ایک دوسرے کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کرتی ہیں، شرمندگی اور تنہائی کے احساس کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

 

 

جب ایک ماں کو معلوم ہوتا ہے کہ دوسری خواتین بھی اسی طرح کے جذبات اور مشکلات سے گزر رہی ہیں تو اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ اس کیفیت کا سامنا کرنے میں اکیلی نہیں ہے۔ یہ احساس اسے ذہنی دباؤ اور شرمندگی سے نکلنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

 

ذہنی صحت سے متعلق آگاہی اور سماجی تعاون کی ضرورت

 

تاہم، سب سے اہم اور دیرپا فرق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک ماں اپنے تجربات کے بارے میں بلاخوف بات کر سکے۔ اسے یہ خدشہ نہ ہو کہ اگر وہ اپنی ذہنی کیفیت یا مشکلات کا اظہار کرے گی تو اس کی عزت، شادی، بچے یا خاندان میں اس کی حیثیت خطرے میں پڑ جائے گی۔

 

اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ خاندان کے افراد ماں کی بات بغیر تنقید کے سنیں، شوہر اسے سمجھنے اور سہارا دینے کی کوشش کرے، معاشرہ بعد از زچگی ڈپریشن کو کسی اخلاقی یا ذاتی ناکامی کے بجائے ایک طبی مسئلہ تسلیم کرے اور صحت کا نظام ماؤں کی ذہنی صحت کو بھی اتنی ہی اہمیت دے جتنی دوسری طبی پیچیدگیوں کو دی جاتی ہے۔