ایک تلخ جملہ، معمولی سا اختلاف یا چند لمحوں کی انا ایسے نتائج پیدا کر تی ہے جن کا ازالہ ممکن نہیں رہتا۔ پاکستان میں سامنے آنے والے متعدد حالیہ واقعات نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا معاشرے میں غصہ اور جھنجھلاہٹ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ معمولی تنازع بھی تشدد کی شکل اختیار کر لیتا ہے؟

 

 

ذرا تصور کیجیے، آپ سڑک پر گاڑی چلا رہے ہیں، پیچھے سے کوئی ہارن بجاتا ہے، آپ راستہ نہیں دیتے یا کسی بات پر دوسرے شخص سے اختلاف کر لیتے ہیں۔ یہ حالات چند لمحوں کی بات ہونی چاہیے، لیکن اگر جواب میں گالی، دھمکی، تعاقب یا تشدد شروع ہو جائے تو یہ صرف دو افراد کا جھگڑا نہیں رہتا بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں پر ایک بڑا سوال بن جاتا ہے۔

 

 آخر ہم معمولی باتوں کو اپنی انا کا مسئلہ کیوں بنا لیتے ہیں؟ دوسروں کی بات سننے، اختلاف برداشت کرنے اور غصے پر قابو پانے کی صلاحیت ہم  کہاں کھوتے جا رہے ہیں؟

 

 

پاکستان میں اکتوبر 2026 کے دوران سامنے آنے والے چند واقعات نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت پر کئی سوالات اٹھائے۔ ملتان میں 15 سالہ یتیم وسیم عباس کو مبینہ طور پر کام کی جگہ سے جانے کے بعد مالک  نے گاڑی سے کچل کر بچے سے جان لے لی۔ پولیس کے مطابق واقعے سے پہلے لڑکا کام چھوڑ کر جا رہا تھا اور ملزم  نے گاڑی میں اس کا تعاقب کیا۔ 

 

کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں دو گاڑیوں کے درمیان معمولی ٹکر کے بعد پیدا ہونے والے تنازع کے دوران فائرنگ سے ایک محنت کش زخمی ہوگیا، جو اس جھگڑے میں شریک بھی نہیں تھا۔

 

 

 ٹھٹھہ میں موبائل فون کے تنازع پر 14 سالہ لڑکے پر اپنے 58 سالہ والد کو قتل کرنے کا الزام سامنے آیا، تاہم مقتول کے بھائی نے اس واقعے میں مخالفین کے ملوث ہونے کا الزام بھی لگایا، جس کی تحقیقات جاری ہے۔ 

 

اسی دوران لاہور کے مزنگ لنک روڈ پر ٹریفک کے معمولی تنازع کے دوران ایک موٹر سائیکل سوار نے اسکوٹی پر سوار خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان واقعات کے حالات مختلف تھے، لیکن ہر واقعہ غصے اور تنازعات کے سنگین نتائج پر غور کرنے کی ضرورت اجاگر کرتا ہے۔

 

 

یہ مسئلہ صرف سڑکوں یا گھروں تک محدود نہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، معاشی غیر یقینی، خاندانی دباؤ، مستقبل کی پریشانیاں اور مسلسل ذہنی تھکن بھی لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہیں۔ 

 

بعض اوقات انسان چھوٹی سی بات پر بھی شدید ردعمل دیتا ہے، لیکن معاشی یا ذہنی دباؤ کسی کو دوسرے پر تشدد کرنے کا جواز فراہم نہیں کرتا۔ سوال یہ ہے کہ ہم اختلاف کو بات چیت سے حل کرنے کے بجائے اسے انا کی جنگ کیوں بنا دیتے ہیں؟

 

 

بطور صحافی میرا اپنا تجربہ بھی اس صورتِ حال کا ایک پہلو سامنے لاتا ہے۔ 2024 میں، جب میرا صحافتی کیریئر ابھی پہلے ہی سال میں تھا، میں نے سوات میں خواتین کو وراثت میں جائیداد کا حصہ نہ ملنے کے مسئلے پر ایک رپورٹ تیار کرنے کی کوشش کی۔ اس رپورٹنگ کے دوران ایک شخص نے مجھ پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ وہ بار بار دھمکی دیتا تھا کہ اگر میں نے یہ رپورٹ کی تو وہ مجھے دکھائے گا کہ معاشرے میں میری کیا قبولیت ہے۔ 

 

اس نے مجھے چند دن کے لیے اغوا کرکے گھر سے باہر رکھنے کی دھمکی بھی دی اور کہا کہ اس کے بعد دیکھے گا کہ گھر اور معاشرے میں میری کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ اس نے مجھے تیزاب کی بوتل کی تصویر بھی بھیجی اور دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ یہ مجھ جیسی خواتین کو راہِ راست پر لانے کے لیے ہے۔

 

میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ میری صحافت کا مقصد تنازعات کو بڑھانا نہیں بلکہ مسائل کی نشاندہی کرنا اور ان کے حل کی گنجائش پیدا کرنا ہو۔ لیکن اس واقعے نے میرے لیے حالات انتہائی مشکل بنا دیے۔ میری حفاظت کے پیشِ نظر گھر والوں نے میرے سوشل میڈیا کے تمام اکاؤنٹس کے استعمال پر پابندی لگا دی۔

 

 

 آج تک میرا کوئی سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں ہے۔ تقریباً چھ ماہ تک میری والدہ روزانہ مجھے یونیورسٹی چھوڑنے اور واپس لانے جاتی رہیں۔ روایتی معاشرتی ماحول میں انہیں بھی لوگوں کے اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا۔ اس دباؤ کے باعث مجھے تقریباً پانچ ماہ تک صحافتی کام روکنا پڑا۔ یہ میرے لیے صرف ایک دھمکی نہیں تھی بلکہ اپنے پیشے کے ابتدائی دور کا ایسا تجربہ تھا جس نے میرے کام اور خاندان، دونوں کو متاثر کیا۔

 

حال ہی میں میری ایک خاتون دوست نے اسلام آباد سے سوات کے سفر کا واقعہ بتایا۔ ان کے مطابق بس ڈرائیور بار بار ایک نقاب پوش خاتون کو اگلی نشست پر بیٹھنے کے لیے مجبور کر رہا تھا، حالانکہ پیچھے نشستیں خالی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اس خاتون کی حمایت کی تو ڈرائیور بس سے نیچے اترا اور انہیں تھپڑ مار دیا۔ بعد میں دیگر مسافروں نے بیچ بچاؤ کرایا۔

 

 اسی طرح میرے ایک کلاس فیلو نے بتایا کہ سڑک کے درمیان گاڑی کھڑی ہونے پر ہارن دینے کے بعد ایک شخص نے اس کی گاڑی کا تعاقب شروع کر دیا۔ وہ کبھی آگے اور کبھی پیچھے گاڑی لاتا رہا، جس کے باعث  میں تین مرتبہ حادثے سے بال بال بچا۔

ہمارے معاشرے میں اختلاف یا انکار کو ذاتی توہین سمجھنے کا رویہ دوسروں کے لیے خوف اور عدم تحفظ پیدا کرتا ہے۔

 

پاکستان میں ذہنی صحت کے حوالے سے ستمبر 2026 میں طبی تحقیقی جریدے ’’بی ایم جے پبلک ہیلتھ‘‘ میں شائع ہونے والا پہلا قومی سطح کا ذہنی صحت کا سروے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ 

 

 

اس تحقیق میں 2019 سے 2022 کے دوران چاروں صوبوں کے 17 ہزار 773 بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق 32.3 فیصد افراد میں ذہنی یا رویّاتی عوارض کی موجودہ تشخیص کے معیار پورے ہوئے۔ سروے کے نتائج کے مطابق تقریباً ہر تین میں سے ایک بالغ فرد اس زمرے میں شامل تھا۔

 

جارحانہ رویوں پر پاکستان سوشل سائنسز ریویو میں جون 2020 میں شائع ہونے والی تحقیق بھی قابلِ توجہ ہے۔ اس میں پاکستان اور آسٹریلیا کی جامعات کے 374 طلبہ شامل تھے، جن میں 292 پاکستانی اور 82 آسٹریلوی طلبہ تھے۔

 

 

 تحقیق کے مطابق پاکستانی طلبہ میں سے 86 فیصد میں جارحیت کی درمیانی سے بلند سطح دیکھی گئی، جبکہ آسٹریلوی طلبہ میں یہ شرح 41 فیصد تھی۔ محققین نے مایوسی کو طلبہ میں جارحانہ رویوں کی اہم وجوہات میں سے ایک قرار دیا۔ 

 

نفسیاتی تحقیق میں جذباتی ذہانت اور جارحیت کے تعلق کو بھی جانچا گیا ہے۔ ’’جرنل آف ایگریشن، مسٹریٹمنٹ اینڈ ٹراما‘‘ میں 2020 میں شائع ہونے والی تحقیق میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد اور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد سے وابستہ 100 طلبہ (50 مرد اور 50 خواتین) کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج میں جذباتی ذہانت اور جارحیت کے درمیان منفی تعلق سامنے آیا۔

 

 

معاشرتی عدم برداشت کا ایک سنگین پہلو خواتین کے خلاف تشدد بھی ہے۔ پاکستان کے 2017-18 کے قومی آبادی اور صحت کے سروے کے مطابق 42 فیصد شادی شدہ خواتین اور 40 فیصد شادی شدہ مردوں نے کم از کم ایک صورت میں بیوی پر شوہر کے تشدد کو جائز سمجھا۔

 

 ان صورتوں میں شوہر سے بحث کرنا، اسے بتائے بغیر گھر سے باہر جانا، بچوں کی دیکھ بھال میں غفلت برتنا، کھانا جلانا اور ازدواجی تعلق سے انکار کرنا شامل تھے۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اختلاف کو تشدد کا جواز سمجھنے والی سوچ کس قدر تشویش ناک ہے۔

 

 

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے 2026 کے صنفی اعدادوشمار کے مجموعے میں وزارتِ انسانی حقوق کے فراہم کردہ اعداد کے مطابق 2025 میں تیزاب گردی کے 55 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 29 تھی۔

 

ماہرینِ نفسیات کی تحقیقات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ جذباتی تربیت، غصے پر قابو پانے کی صلاحیت، مشاورت اور ذہنی صحت کی سہولتیں اہم ہیں۔

 

 ماہرینِ سماجیات کے نزدیک تعلیم، خاندانی ماحول، معاشی حالات اور تشدد کو معمول سمجھنے والے رویوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معمولی تنازعات سے پیدا ہونے والے تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کے واقعات پر مؤثر کارروائی کرنی چاہیے۔

 

 

آخر سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسے معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں کسی کو راستہ نہ دینا، کسی بات سے اختلاف کرنا یا اپنی مرضی سے انکار کرنا بھی دوسرے کی انا کو ٹھیس پہنچانے کے لیے کافی ہے؟

 

کیا ہم نے اختلاف کو دشمنی اور غصے کو اپنی بات منوانے کا ذریعہ بنا لیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں صرف دوسروں کے رویوں پر انگلی اٹھانے کے بجائے اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، سڑکوں اور معاشرتی تربیت کا بھی جائزہ لینا ہوگا، کیونکہ ایک بہتر معاشرہ وہ نہیں جہاں اختلاف نہ ہو بلکہ وہ ہے جہاں اختلاف کے باوجود انسان دوسرے کی عزت اور زندگی کا احترام کرنا جانتا ہو۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔