مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بدلتا، نکھرتا اور مضبوط خیبرپختونخوا کا مشن لے کر آئی ہے۔ صوبے بھر میں 4 ہزار 49 اسکول مرمت کے قابل ہیں، جن کی تعمیرِ نو اور بحالی کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

 

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر اطلاعات نے کہا کہ دیر کالونی میں اسکول کے واقعے کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں، جبکہ صوبے کے متاثرہ اسکولوں کی کم سے کم وقت میں مرمت یقینی بنائی جائے گی۔

 

انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا پولیس کو 8 نئی بکتر بند گاڑیاں فراہم کر دی گئی ہیں، جبکہ آئندہ چند ہفتوں میں پولیس کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

 

یہ بھی پڑھیے: لکی مروت: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس کانسٹیبل ممتاز شہید، دو مبینہ ٹارگٹ کلرز ہلاک

 

صحت کے شعبے سے متعلق ثمر ہارون بلور کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ میں مبینہ اندرونی بدعنوانیوں کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئیز) کے نظام اور ہسپتالوں کے بورڈز میں شامل افراد کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ صحت کارڈ پروگرام بند نہیں کیا جا رہا۔

 

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن سے متعلق انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ شہر میں ٹریفک اور سیوریج کا نظام بہتر بنانے کے لیے تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگلے مرحلے میں ان علاقوں کو خوبصورت بنایا جائے گا۔

 

 انہوں نے بتایا کہ واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی (ڈبلیو ایس ایس پی) اب رات کے اوقات میں بھی کام کر رہی ہے، جبکہ مین ہولز کے ڈھکنوں کی چوری روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

 

سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے مشیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور حفاظتی تحویل میں ہیں، تاہم یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ وہ پشاور میں ہیں یا شہر سے باہر ہیں۔

 

ثمر ہارون بلور نے سہیل آفریدی پر مختلف منصوبوں میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن اور کان کنی کے شعبے میں بڑے اسکینڈلز میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے۔

 

مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی گفتگو میں غصہ، خوف اور جھنجھلاہٹ نظر آتی ہے۔ ان کے بقول، پی ڈی ایم کے دورِ حکومت میں بدعنوانی کے شواہد ملے ہیں، جبکہ موجودہ دور میں مشاورت نہ ہونے پر مولانا فضل الرحمان ناراض ہیں۔

 

مشیر اطلاعات نے مزید کہا کہ جہاں بھی بے ضابطگیاں سامنے آئیں گی، حکومت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مولانا فضل الرحمان کی اچھی تجاویز سے سیکھنے کے لیے تیار ہے، تاہم اسے کمزور نہ سمجھا جائے۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی میں کسی کی سفارش قبول نہیں کی جائے گی۔ اگر مفتی محمود مرکز بھی سرکاری زمین پر قائم ہے تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔