زالان آفریدی 

 

ضلع خیبر کے علاقے لوئے شلمان میں محکمہ زراعت نے مقامی کسانوں کے تعاون سے 200 کنال بنجر زمین کو زیتون کے  پیداواری فارم میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں رواں سال 4 ہزار کلو گرام زیتون حاصل کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال یہ پیداوار 2 ہزار کلو گرام تھی۔ دوسری جانب تحصیل باڑہ میں بھی 30 ہزار جنگلی زیتون کے پودوں کی پیوند کاری مکمل کر لی گئی ہے۔

 

محکمہ زراعت کے مطابق لوئے شلمان میں زیتون کی کاشت کا منصوبہ 2021 میں شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت اٹلی سے زیتون کے پودوں کی تین اقسام درآمد کرکے مقامی کسانوں کے تعاون سے درمہ کورونہ، ولی محمد کورونہ اور وزیر کورونہ میں لگائی گئیں۔

 

 

انہوں نے بتایا کہ درآمد شدہ اقسام میں ایلویونا (Alovena)، اربیکوینا (Arbequina) اور جیملک (Gemlik) شامل ہیں، جنہیں لوئے شلمان کے موسمی حالات اور زمین کی ساخت کے لحاظ سے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ ان پودوں کی بہتر نشوونما اور پیداوار کے باعث مقامی کسانوں کی حوصلہ افزائی ہوئی، جو اپنی بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنا کر آمدنی کے نئے مواقع  پیدا کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: محنت وہی، راستے نئے: سوشل میڈیا نے خواتین کے کاروبار کو کیسے بدلا؟

 

اہلکار کے مطابق لوئے شلمان میں زیتون کی کاشت کے کامیاب تجربے کے بعد محکمہ زراعت مزید کسانوں کو بھی اپنی زمینوں پر زیتون کے پودے لگانے کی ترغیب دے رہا ہے تاکہ ضلع میں اس فصل کے زیرِ کاشت رقبے میں اضافہ کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں تحصیل باڑہ میں 30 ہزار جنگلی زیتون کے پودوں کی پیوند کاری کا عمل بھی مکمل کیا گیا ہے۔

 

 

دوسری جانب ایک مقامی کسان نے بتایا کہ زیتون کے پکے ہوئے پھل سے اچار تیار کیا گیا ہے، جبکہ اس سے تیل نکالنے کا بھی ارادہ ہے۔ ان کے مطابق پیداوار مقامی منڈیوں کے علاوہ پنجاب کی مارکیٹوں میں بھی بھیجی گئی ہے۔

 

کسان کا کہنا تھا کہ زیتون کی کاشت سے روایتی موسمی فصلوں اور سبزیوں کے ساتھ آمدنی کا ایک اضافی ذریعہ میسر آئے گا، جس سے مقامی کاشت کاروں کی معاشی حالت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

 

تاہم انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو اعلیٰ معیار کے زیتون کے پودے فراہم کیے جائیں اور فارمز کے گرد حفاظتی باڑ لگائی جائے تاکہ جانوروں سے پودوں کو نقصان نہ پہنچے اور زیتون کی کاشت کے منصوبے کو مزید وسعت دی جا سکے۔