پشاور کے ایڈیشنل سیشن جج رفیع اللہ نے توہین رسالت کے الزام میں گرفتار افغان شہری ملادین کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ عدالت نے حکم دیا کہ مجرم کو قانون کے مطابق پھانسی دی جائے، جبکہ جرمانے کی عدم ادائیگی پر اسے مزید چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی۔

 

استغاثہ کے مطابق ملادین ساکن افغانستان کے خلاف الزام تھا کہ اس نے 5 اگست 2022 کو تھانہ حیات آباد کی حدود میں توہین رسالت پر مبنی نازیبا الفاظ ادا کیے تھے۔ واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور زلمی مدرسہ لیگ کا فائنل، کس ٹیم نے ٹائٹل اپنے نام کرلیا؟

 

پولیس نے ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ملزم کے خلاف چالان متعلقہ عدالت میں جمع کرایا گیا، جس کے بعد مقدمے کی باقاعدہ سماعت اور ٹرائل شروع ہوا۔

 

دورانِ ٹرائل استغاثہ نے گواہوں کے بیانات اور دیگر شواہد عدالت میں پیش کیے۔ مقدمے کا ٹرائل مکمل ہونے پر عدالت نے شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں ملزم کو جرم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

 

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ مجرم کو پھانسی پر اس وقت تک لٹکایا جائے جب تک اس کی موت واقع نہ ہو جائے۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں مجرم کو مزید چھ ماہ قید بھی بھگتنا ہوگی۔