پشاور کے علاقے شاہ پور کاکاخیل ٹاؤن میں زہریلی مشروم کھانے سے دو بہنیں اور ان کا کمسن بھائی جاں بحق ہوگئے۔ متاثرہ خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) میں بیڈ نہ ملنے کے باعث انہیں بچوں کو نجی ہسپتال منتقل کرنا پڑا، جہاں تینوں بچے دم توڑ گئے۔

جاں بحق بچوں کے والد ظاہر شاہ نے بتایا کہ وہ کھیتوں سے بچوں کے لیے مشروم (خریٹری) گھر لائے تھے، جسے پکانے کے بعد کھانے سے ان سمیت ان کی اہلیہ اور بچوں کی طبیعت بگڑ گئی۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور: ڈاکٹر کے گھر چوری کی واردات میں ملوث دو ملزمان گرفتار، چوری شدہ مال برآمد
انہوں نے بتایا کہ رات تقریباً دو بجے ریسکیو اہلکار انہیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کرکے لائے، تاہم ان کے بقول وہاں دو سے تین گھنٹے گزرنے کے باوجود بچوں کو بیڈ نہ مل سکا، جس کے بعد وہ انہیں نجی ہسپتال لے گئے۔ وہاں یکے بعد دیگرے ان کے تینوں بچے، 11 سالہ عروج، فریال اور ان کا کمسن بیٹا دم توڑ گئے۔
متاثرہ خاندان کا تعلق مہمند قبیلے سے ہے اور وہ شاہ پور کاکاخیل ٹاؤن میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہے۔ اہل علاقہ کے مطابق خاندان انتہائی غربت کا شکار ہے اور اس کے پاس بچوں کے کفن دفن کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی رقم موجود نہیں تھی۔
مقامی افراد نے چندہ جمع کرکے بچوں کے کفن دفن کا انتظام کیا۔
