پچھلے تین دنوں سے پشاور میں اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کے دفتر کے سامنے پاکستانی اساتذہ کا دھرنا جاری ہے۔

 

 یہ وہ اساتذہ ہیں جنہوں نے کئی سال تک افغان مہاجرین کے بچوں کو انہی سکولوں میں تعلیم دی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان کے روزگار کا مسئلہ حل کیا جائے، انہیں دوبارہ انہی سکولوں میں پاکستانی بچوں کو پڑھانے کا موقع دیا جائے، نئے معاہدے کیے جائیں یا ان کے لیے کوئی ایسا راستہ نکالا جائے جس سے وہ دوبارہ روزگار حاصل کر سکیں۔

 

افغان مہاجرین کی پاکستان سے واپسی ایک ایسا معاملہ ہے جس کے بہت سے پہلو ہیں۔ ایک طرف وہ افغان خاندان ہیں جو کئی سال پاکستان میں رہنے کے بعد اپنے ملک واپس جا رہے ہیں، تو دوسری طرف ان لوگوں کا بھی ذکر ہونا چاہیے جن کی روزی روٹی ان مہاجرین سے جڑے اداروں اور خدمات سے وابستہ تھی۔

 

 

ان میں ایک بڑی تعداد ان پاکستانی اساتذہ کی ہے جنہوں نے افغان مہاجرین کے بچوں کو پڑھانے میں اپنی زندگی کے کئی سال گزار دیے۔

 

یہ بھی پڑھیے: گورنر کا چیف سیکریٹری، آئی جی کو طلب کرکے اجلاس کرانا غیر آئینی اور ڈرامہ ہے، سہیل آفریدی

 

 کچھ اساتذہ نے دس سال کام کیا، کچھ نے بیس سال اور کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے تیس سال تک انہی سکولوں میں خدمات انجام دیں۔آج جب افغان خاندان واپس جا رہے ہیں تو ان اساتذہ کے سامنے ایک بہت بڑا سوال کھڑا ہے: اب ہم کہاں جائیں؟

 

تیس سال کی ملازمت کے بعد اچانک بے روزگاری

 

یہ سوال صرف ایک ملازمت کا نہیں بلکہ ایک پورے گھر کا سوال ہے۔ اگر ہم کسی ایسے شخص کے بارے میں سوچیں جو تیس سال سے ایک ہی کام کر رہا ہو، اس کی عمر بڑھ چکی ہو، اس کے بچے بڑے ہو چکے ہوں، گھر کے اخراجات ہوں، بچوں کی تعلیم ہو، بجلی، گیس اور روزمرہ کی ضروریات پوری کرنی ہوں، تو اس کے لیے روزگار کا اچانک ختم ہو جانا کس قدر مشکل ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

 

 

اس شخص نے اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی ایک ادارے کو دے دی ہو اور پھر اچانک اسے بتایا جائے کہ اب کام نہیں رہا، نوکری نہیں رہی۔ یہ صورتحال کسی بھی انسان کے لیے بہت مشکل ہو سکتی ہے، خاص طور پر اس عمر میں جب نئی ملازمت تلاش کرنا آسان نہیں ہوتا۔

 

ایک نوجوان شاید دوبارہ کوئی ہنر سیکھ کر یا کسی دوسرے ادارے میں جا کر کام تلاش کر لے، لیکن ایک ایسا استاد جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایک مخصوص تعلیمی نظام میں گزارا ہو، اس کے لیے اچانک نئی جگہ تلاش کرنا آسان نہیں۔

 

یہی وجہ ہے کہ ان پاکستانی اساتذہ کے احتجاج کو صرف ملازمت کا مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

 

ایک استاد کی بے روزگاری، پورے خاندان کا مسئلہ

 

ایک استاد کی نوکری ختم ہوتی ہے تو صرف ایک شخص بے روزگار نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ ایک پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ اس کی تنخواہ سے گھر چلتا تھا، بچوں کی فیس ادا ہوتی تھی، والدین کی دوا آتی تھی، گھر کا راشن آتا تھا، کسی بیٹی کی شادی کے لیے پیسے جمع ہوتے تھے اور کسی بیٹے کی تعلیم جاری رہتی تھی۔

 

 

اب اگر آمدنی کا ذریعہ اچانک ختم ہو جائے تو اس خاندان کے لیے اگلا دن بھی ایک سوال بن جاتا ہے۔ اس لیے ان اساتذہ کی بات کو صرف احتجاج یا مطالبے کے طور پر نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

 

اداروں کی پالیسی اپنی جگہ، مقامی لوگوں کا مستقبل بھی اہم

 

یہ بھی حقیقت ہے کہ مہاجرین کے لیے کام کرنے والے ادارے اپنی پالیسیوں، بجٹ اور منصوبوں کے تحت کام کرتے ہیں۔ افغان مہاجرین کی واپسی کے بعد ان اداروں کے کچھ منصوبے ختم یا تبدیل ہونا ایک انتظامی عمل ہو سکتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اس پورے عمل میں ان مقامی لوگوں کا کیا ہوگا جو برسوں ان منصوبوں کا حصہ رہے؟

 

 

کیا کسی ایسے استاد کو صرف اس لیے نظر انداز کر دینا چاہیے کہ جن بچوں کو وہ پڑھاتا تھا، وہ اب واپس جا چکے ہیں؟ شاید اس مسئلے کا حل دونوں طرف کی ضرورت کو دیکھ کر نکالا جا سکتا ہے۔

 

انہی اساتذہ کو پاکستانی بچوں کے لیے موقع کیوں نہ دیا جائے؟

 

ایک راستہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جہاں یہ سکول موجود ہیں، وہاں پاکستانی بچوں کے لیے کمیونٹی سکول شروع کیے جائیں۔ اگر عمارت موجود ہے، استاد موجود ہے اور علاقے میں بچوں کی ضرورت موجود ہے تو پھر اس نظام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے اسے ایک نئے مقصد کے لیے استعمال کیوں نہ کیا جائے؟

 

 

یہ اساتذہ پہلے ہی تدریس کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انہیں کلاس روم کا ماحول معلوم ہے۔ انہیں بچوں کو پڑھانے، والدین سے رابطہ رکھنے اور سکول کے نظام کو چلانے کا تجربہ حاصل ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ انہیں نئے نظام میں شامل کرنے کا کوئی راستہ نکالا جائے۔

 

حکومت بھی روزگار کی بحالی میں کردار ادا کر سکتی ہے

 

یہ ذمہ داری صرف مہاجرین کے لیے کام کرنے والے اداروں پر ڈالنا بھی  مناسب نہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

 

اگر کسی استاد نے دس، بیس یا تیس سال تدریس کی ہے تو اس کے تجربے کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت ایسے اساتذہ کے لیے خصوصی پالیسی بنا سکتی ہے۔

 

 

 انہیں سرکاری سکولوں میں موجود خالی آسامیوں پر ترجیحی بنیادوں پر موقع دیا جا سکتا ہے یا کم از کم ان کے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے بھرتی کے عمل میں آسانی پیدا کی جا سکتی ہے۔اگر براہ راست مستقل ملازمت ممکن نہیں تو عارضی یا معاہدے کی بنیاد پر بھی انہیں سکولوں میں ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے۔

 

تجربہ کار اساتذہ کو دوبارہ کلاس روم تک لانے کی ضرورت

 

یہ معاملہ کسی ایک ادارے کو موردِ الزام ٹھہرانے کا نہیں۔ اصل ضرورت ایک ایسے حل کی ہے جس میں سب کی صورتحال کو دیکھا جائے۔ مہاجرین کے لیے کام کرنے والے اداروں کے بجٹ اور قواعد اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان اساتذہ کی برسوں کی خدمات بھی اپنی جگہ اہم ہیں۔

 

 

اگر اداروں کے پاس انہیں مستقل ملازمت دینے کا اختیار نہیں تو کم از کم ان کے لیے عبوری مالی مدد، مناسب معاوضے، دوسرے اداروں میں ملازمت یا دوبارہ روزگار کے کسی راستے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

 

حکومت، متعلقہ ادارے اور تعلیمی شعبے سے وابستہ لوگ مل کر ایک ایسا طریقہ نکال سکتے ہیں جس سے تجربہ کار اساتذہ سڑک پر نہ آئیں بلکہ دوبارہ کلاس روم میں واپس جائیں۔

 

آخرکار یہ لوگ صرف نوکری نہیں مانگ رہے۔ وہ اپنے خاندان کا مستقبل بچانے کا راستہ مانگ رہے ہیں۔ افغان بچوں کو پڑھانے والے یہ پاکستانی اساتذہ آج خود ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں انہیں کسی سہارے کی ضرورت ہے۔ ان کی برسوں کی خدمت کو اچانک ختم ہونے والی ملازمت سمجھ کر بھلا دینا مناسب نہیں۔

 

جو ہاتھ برسوں بچوں کو تعلیم دیتے رہے، ان ہاتھوں کو بے روزگاری کے حوالے کرنے کے بجائے دوبارہ کتاب اور تختی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش ہونی چاہیے۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔