وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے گورنر  خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے گزشتہ روز چیف سیکریٹری اور آئی جی سمیت دیگر حکام کے اجلاس کو ’’ڈرامہ‘‘ اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود ہے اور اسمبلی، کابینہ اور حکومت اپنا کام کر رہی ہے۔

 

صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ گورنر کی جانب سے چیف سیکریٹری اور آئی جی کو طلب کرکے اجلاس منعقد کرنا غیر آئینی اور جمہوری نظام پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی تاکہ گورنر کے گزشتہ روز کے اجلاس کی آئینی حیثیت واضح ہوسکے۔

 

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر کسی کو وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانا ہے تو اس کے لیے آئین میں طریقہ کار موجود ہے اور وزیراعلیٰ کو عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے ہی ہٹایا جاسکتا ہے۔ ان کے بقول گورنر کی حالیہ سرگرمیوں کا مقصد صوبائی حکومت کو اشتعال دلانا ہے، تاہم حکومت پرامن رہے گی اور آئین و قانون کے مطابق اپنا مؤقف پیش کرے گی۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے غیرمجاز رقم منتقلی کا معاملہ، صارف کی شکایت پر عدالت نے کیا حکم دیا؟

 

محمد سہیل آفریدی نے پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مشرقی پاکستان اور بنگلہ دیش کے قیام کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو توڑنے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

 

وزیراعلیٰ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اور پولیس دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کسی کی ذاتی ملازم نہیں بلکہ ایک ریاستی ادارہ ہے اور پولیس اہلکار امن کے قیام کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔

 

انہوں نے بتایا کہ 15 اکتوبر 2025 کو حلف اٹھانے کے بعد پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور اسپیشل برانچ کو مزید مضبوط کیا گیا جبکہ پولیس کو جدید اسلحہ اور ضروری سامان بھی فراہم کیا گیا۔

 

وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت پر خیبر پختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 2018 میں قبائلی اضلاع کے انضمام کے باوجود ان علاقوں کو اب تک ان کے مکمل مالی حقوق نہیں دیے گئے۔

 

ان کے مطابق 2024 سے اب تک وفاقی حکومت کی جانب سے فوجی آپریشنز کیے گئے، جن سے متاثر ہونے والے افراد کو مکمل معاوضہ نہیں دیا گیا اور متاثرین کے تقریباً 100 ارب روپے کے معاوضے اب بھی واجب الادا ہیں۔

 

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو فی گھر صرف 4 لاکھ روپے دیے گئے، جبکہ دوسری جانب حکومتی عہدیداروں کی بیویوں کے مہنگے پرس خریدنے پر بڑی رقوم خرچ کی جاتی ہیں۔

 

انہوں نے بکا خیل کیمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیمپ کے لیے ماہانہ 37 سے 38 کروڑ روپے فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم وعدے کے مطابق رقم فراہم نہیں کی گئی۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اب تک بے گھر افراد کے لیے 21 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔ ان کے مطابق فوجی آپریشنز اور ڈرون حملوں سے ہونے والے نقصانات کے اخراجات بھی صوبائی حکومت برداشت کر رہی ہے۔

 

انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا کا این ایف سی حصہ بڑھایا جائے اور صوبے کے واجبات ادا کیے جائیں۔ ان کے مطابق صوبے کے تقریباً سوا ارب روپے کے واجبات باقی ہیں۔

 

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ 22 سال کے دوران خیبر پختونخوا میں 14 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) اور 22 بڑے فوجی آپریشنز کیے گئے، تاہم اس کے باوجود صوبے میں مکمل امن قائم نہیں ہوسکا۔

 

ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، لیکن امن کا مسئلہ اب بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

 

وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ اگر تمام متعلقہ فریق صوبائی حکومت کی تجویز کردہ پالیسی پر عمل کریں تو خیبر پختونخوا میں 100 دن کے اندر امن قائم کیا جاسکتا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر فضل شکور خان کو مبینہ طور پر اٹھایا گیا، جبکہ وزیرستان میں پارٹی کارکنوں کو زخمی کیا گیا۔ ان کے مطابق شکیل خان پر فائرنگ کی گئی۔

 

محمد سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ اس طرح کے واقعات صوبائی حکومت کو اشتعال دلانے کے لیے کیے جا رہے ہیں، تاہم حکومت آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن طریقے سے اپنا کام جاری رکھے گی۔

 

انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان کے سپاہی ہیں اور آئین و قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کریں۔

 

وزیراعلیٰ نے پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاروں کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے اداروں کو اپنی ذمہ داریاں قانون کے مطابق ادا کرنا ہوں گی۔

 

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ساؤتھ وزیرستان اور اپر وزیرستان میں اگر پولیس نے کسی کے ذاتی نوکر بن کر فائرنگ کی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

 

انہوں نے لاچی کے ایس ایچ او کے خلاف بھی فوری انکوائری کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ لاچی کا ایس ایچ او پولیس افسر نہیں بلکہ غنڈہ بنا ہوا تھا۔وزیراعلیٰ نے لاچی کے ایس ایچ او پر بندوق کی نوک پر لوگوں سے پیسے لینے کے الزامات کی انکوائری کرنے اور اسے عہدے سے ہٹانے کی ہدایت بھی کی۔