کنزیومر پروٹیکشن کورٹ پشاور نے ایزی پیسہ کے خلاف شکایت پر فیصلہ سناتے ہوئے صارف کے اکاؤنٹ سے غیرمجاز طور پر منتقل کیے گئے 40 ہزار روپے واپس کرنے اور صارف کو 25 ہزار روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

 

عدالت نے ایزی پیسہ کو حکومت کو 25 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ یوں ایزی پیسہ کو مجموعی طور پر 90 ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے، جن میں 40 ہزار روپے صارف کو واپس، 25 ہزار روپے ہرجانہ اور 25 ہزار روپے حکومت کو جرمانے کی مد میں ادا کیے جائیں گے۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں خوارج کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 18 دہشتگرد ہلاک

 

صارف عدالت کے جج نصراللہ خان گنڈاپور نے 3 اکتوبر 2026 کو فیصلہ جاری کیا۔

 

درخواست گزار فہدالرحمان کے مطابق 12 فروری 2026 کو اس کے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے تین مختلف ٹرانزیکشنز کے ذریعے مجموعی طور پر 40 ہزار روپے منتقل کیے گئے۔ ان میں 10 ہزار روپے عمران ٹریڈرز، 22 ہزار روپے سوئفٹ کلیکٹ سسٹم جبکہ 8 ہزار روپے ایزی آن لائن سروس کو منتقل ہوئے۔

 

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ اس نے یہ ٹرانزیکشنز خود نہیں کیں اور نہ ہی کسی شخص کو رقم منتقل کرنے کی اجازت دی تھی۔

 

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ مالیاتی اور الیکٹرانک ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں پر مناسب احتیاط، معقول سکیورٹی اور صارفین کو مطلوبہ معیار کے مطابق خدمات فراہم کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

 

عدالتی فیصلے کے مطابق نوٹس کی تعمیل کے باوجود ایزی پیسہ کی جانب سے کوئی نمائندہ عدالت میں پیش نہیں ہوا، جس کے باعث کیس میں یکطرفہ کارروائی کی گئی۔

 

عدالت نے شکایت جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے ایزی پیسہ کو مذکورہ رقوم کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔