سید ندیم مشوانی 

 

نوشہرہ کے علاقے امان گڑھ سے 17 سالہ تمنا جاوید کی گمشدگی کے مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم واجد عباسی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی عدالت نے توثیق کردی، جبکہ مغویہ کے والد نے عدالت میں تحریری بیان جمع کراتے ہوئے ملزم کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا نام مقدمے میں غلطی سے شامل ہوا۔

 

 

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج/ماڈل کرائمنل کورٹ نوشہرہ ماجد خان کی عدالت میں مغویہ تمنا جاوید کے والد نے بیان دیا کہ ان کی بیٹی بالغ تھی اور اپنی مرضی سے گھر سے نکلی اور لاپتہ ہوگئی، جبکہ مرکزی ملزم واجد عباسی کا تمنا جاوید کی گمشدگی سے کوئی تعلق نہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی لانگ مارچ کی عبوری ریلیف کی درخواست مسترد کردی

 

مدعی مقدمہ کے بیان کے بعد عدالت نے واجد عباسی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی توثیق کردی۔ ایس پی شعبہ تفتیش نوشہرہ احسان شاہ کے مطابق تمنا جاوید کے والد نے مرکزی ملزم کے ساتھ تحریری راضی نامہ بھی عدالت میں پیش کیا ہے۔

 

پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد ملزم واجد عباسی کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے اور وہ تمنا جاوید کی گمشدگی کے روز ہی سعودی عرب سے ڈی پورٹ ہو کر اسلام آباد پہنچا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واجد عباسی غیر قانونی ویزے کے معاملے میں گرفتار ہو کر تقریباً دو ماہ سعودی عرب کی جیل میں قید رہا تھا۔

 

نوشہرہ پولیس کی جانب سے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جی آئی ٹی) کی تفتیش کے مطابق واجد عباسی نہ تمنا جاوید کو جانتا تھا، نہ کبھی نوشہرہ آیا اور نہ ہی اس نے تمنا جاوید کو دیکھا یا اس سے بات کی۔

 

پولیس نے بتایا کہ تمنا جاوید 12 اگست کو امان گڑھ سے پراسرار طور پر لاپتہ ہوئی تھی، جس کے بعد اس کے والد، جو رکشہ ڈرائیور ہیں، نے تھانہ اضاخیل میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 365-B کے تحت مقدمہ درج کرایا اور واجد عباسی کو نامزد کیا۔

 

 

تمنا جاوید کی گمشدگی اس وقت قومی سطح پر نمایاں ہوئی جب اس کے والد جاوید اقبال نے سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی کم عمر بیٹی کو اغوا کیا گیا ہے اور پولیس ان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی۔ ویڈیو کے بعد پولیس نے جی آئی ٹی تشکیل دے کر معاملے کی تفتیش شروع کی۔

 

پولیس کے مطابق تمنا جاوید کی تلاش کے لیے خیبرپختونخوا اور پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں، دارالامان اور خیراتی مراکز سے بھی مدد طلب کی گئی، جبکہ نوشہرہ پولیس نے اس کی تصویر کے ساتھ تلاشِ گمشدہ کا اشتہار بھی جاری کیا ہے۔

 

اشتہار میں کہا گیا ہے کہ تمنا جاوید سے متعلق اطلاع دینے والے شخص کو نقد انعام دیا جائے گا اور اس کی شناخت صیغۂ راز میں رکھی جائے گی۔ اشتہار میں ڈی ایس پی کینٹ سرکل نوشہرہ، ایس ایچ او تھانہ اضاخیل، محرر تھانہ اور تفتیشی افسر کے رابطہ نمبرز بھی درج کیے گئے ہیں۔

 

نوشہرہ پولیس کے مطابق مدعی مقدمہ کے تحریری بیان کے بعد مقدمے سے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 365-B خارج کرنے پر بھی اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔