ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ویکسین سرویکل کینسر سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والی اہم ویکسین ہے۔ سرویکل کینسر خواتین میں رحم کے منہ کو متاثر کرنے والا کینسر ہے، جس کی بڑی وجوہات میں ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) کا انفیکشن بھی شامل ہے۔ اسی بیماری سے بچاؤ کے لیے ملک کے مختلف علاقوں میں بچیوں کے لیے ایچ پی وی ویکسینیشن مہم چلائی جا رہی ہے۔

 

تاہم کمیونٹی میں اس ویکسین کے حوالے سے صرف طبی معلومات ہی زیرِ بحث نہیں۔ والدین کے ذہن میں اس کے فوائد، ضرورت، ممکنہ مضر اثرات اور مستقبل میں اس کے اثرات سے متعلق مختلف سوالات اور خدشات بھی موجود ہیں۔

 

سرویکل کینسر اور ایچ پی وی کا تعلق

 

مردان سے تعلق رکھنے والی گائناکالوجسٹ ڈاکٹر کائنات، جو مردان کے ایک نجی اسپتال میں خدمات انجام دے رہی ہیں، کے مطابق سرویکل کینسر بچہ دانی کے منہ کا کینسر ہے۔ بچہ دانی کے منہ کو طبی اصطلاح میں سروکس کہا جاتا ہے۔

 

 

گائناکالوجسٹ ڈاکٹر کائنات کے مطابق سرویکل کینسر کی ایک اہم وجہ ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) کا انفیکشن ہے۔ ایچ پی وی ایک ایسا وائرس ہے جو جلد سے جلد کے رابطے کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے، جبکہ جنسی رابطہ بھی اس کے پھیلاؤ کا ایک ذریعہ ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں آج سے بارشوں کا نیا سلسلہ، کب تک جاری رہنے کا امکان؟

 

ان کے مطابق ایچ پی وی کی بعض اقسام سرویکل کینسر کے خطرے سے منسلک ہیں۔ اسی لیے ایچ پی وی سے بچاؤ اور اس بارے میں آگاہی سرویکل کینسر کی روک تھام میں اہمیت رکھتی ہے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ سرویکل کینسر کی روک تھام میں آگاہی، بروقت اسکریننگ اور ایچ پی وی ویکسین اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سرویکل کینسر سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن اور اسکریننگ دونوں اہم ہیں۔

 

 

ڈاکٹر کائنات نے مزید بتایا کہ ایچ پی وی ویکسین کا مقصد بیماری کا علاج کرنا نہیں بلکہ مستقبل میں سرویکل کینسر کے خطرے کو کم کرنے کے لیے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اسی لیے بچاؤ کے اقدامات بیماری ظاہر ہونے سے پہلے اہمیت رکھتے ہیں۔

 

کم عمری میں ویکسینیشن کی اہمیت

 

 ڈاکٹر کائنات کے مطابق ایچ پی وی ویکسین کے لیے 9 سے 14 سال کی بچیوں کو ہدف بنانے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ اس عمر میں ویکسین ایچ پی وی سے ممکنہ ایکسپوژر سے پہلے دی جا سکتی ہے۔ اس عمر میں ویکسین دینے کا مقصد یہ ہے کہ بچیوں کو مستقبل میں ایچ پی وی کے ممکنہ انفیکشن سے پہلے ہی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

 

ان کے مطابق اس عمر میں جسم ویکسین کے خلاف مضبوط مدافعتی ردِعمل پیدا کرتا ہے اور اینٹی باڈیز بنانے کی صلاحیت بھی اچھی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے کم عمری میں ویکسین دینے سے مستقبل میں ایچ پی وی کے خلاف بہتر تحفظ حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

 

 

وہ بتاتی ہیں کہ 9 سے 14 سال کی عمر کو ترجیح دینے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے بعد ایچ پی وی ویکسین کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔ تاہم صحتِ عامہ کی مہم میں 9 سے 14 سال کی بچیوں کو بنیادی ہدف اس لیے بنایا جاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچیوں کو ایچ پی وی سے ممکنہ ایکسپوژر سے پہلے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

 

ویکسین کے بعد بھی اسکریننگ کیوں ضروری ہے؟

 

گائناکالوجسٹ ڈاکٹر کائنات کا کہنا ہے کہ  9 سے 14 سال کی عمر میں ایچ پی وی ویکسین لگوانے کے بعد بھی سرویکل کینسر سے بچاؤ کا عمل ختم نہیں ہو جاتا۔ ویکسینیشن اور اسکریننگ سرویکل کینسر سے بچاؤ کی جامع حکمتِ عملی کے دو اہم حصے ہیں۔

 

ان کے مطابق بڑی عمر میں سرویکل کینسر کی اسکریننگ اس لیے اہم ہے کہ اس کے ذریعے سروکس میں پیدا ہونے والی قبل از سرطان تبدیلیوں کی بروقت شناخت کی جا سکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

 

 

وہ واضح کرتی ہیں کہ ایچ پی وی ویکسین بیماری کا علاج نہیں بلکہ بچاؤ کا ذریعہ ہے، جبکہ اسکریننگ کا مقصد بیماری یا قبل از سرطان تبدیلیوں کو بروقت شناخت کرنا ہے۔ اس لیے مناسب عمر میں ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ بعد کی زندگی میں سرویکل کینسر کی اسکریننگ بھی ضروری ہے۔

 

وہ یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ ویکسین کے بارے میں کسی بھی سوال یا خدشے کا جواب مستند طبی ذرائع سے حاصل کرنا چاہیے، نہ کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے غیر مصدقہ پیغامات سے۔

 

ویکسین سے متعلق والدین کے خدشات

 

“ہم اپنے بچوں کو یہ ویکسین نہیں لگوائیں گے، اس سے بانجھ پن ہوتا ہے۔”

کمیونٹی آؤٹ ریچ ورکر کو فیلڈ وزٹ کے دوران ملنے والا یہ پہلا جواب اس مہم کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک کی عکاسی کرتا ہے۔ گھر کے دروازے پر موجود صحت کارکن کے پاس ویکسین سے متعلق معلومات تھیں، لیکن سامنے موجود خاندان کے ذہن میں اس حوالے سے سوالات، خدشات اور سنی سنائی باتیں تھیں۔

 

 

کمیونٹی آؤٹ ریچ ورکر جب گھر گھر جا کر سرویکل کینسر سے بچاؤ کے لیے ایچ پی وی ویکسین کے بارے میں بات کرتا ہے تو ہر گھر کا ردعمل ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کسی گھر میں والدین فوری طور پر آمادہ ہو جاتے ہیں، کسی جگہ ویکسین کے بارے میں مزید معلومات طلب کی جاتی ہیں، جبکہ بعض گھروں میں پہلے سے موجود خدشات سامنے آتے ہیں۔

 

آؤٹ ریچ ورکر کے تجربے کے مطابق بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو ویکسین نہیں لگوائیں گے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس کے نتیجے میں مستقبل میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

یہی وہ موقع ہے جہاں صحت کارکن کے لیے صرف ویکسین لگوانے کی ترغیب دینا کافی نہیں رہتا۔ اسے پہلے لوگوں کی بات سننا پڑتی ہے اور پھر ان کے سوالات کے جواب دینا ہوتے ہیں۔

 

بات صرف یہ نہیں تھی کہ ویکسین کیوں دی جا رہی ہے۔ سوال یہ بھی تھا کہ ہمیں یہی ویکسین کیوں دی جا رہی ہے؟ دوسری سہولیات اور ضروریات پر توجہ کیوں نہیں دی جاتی؟

 

 

کمیونٹی میں یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ اگر صحت کے اتنے مسائل موجود ہیں تو صرف اس ویکسین پر توجہ کیوں دی جا رہی ہے؟ کچھ لوگ پوچھتے ہیں، “ہمیں دوسری بنیادی سہولیات کیوں نہیں ملتیں، ویکسین ہی کیوں دی جا رہی ہے؟” یہ سوال دراصل صرف ویکسین تک محدود نہیں بلکہ صحت کے نظام کے بارے میں عوام کے مجموعی تجربے سے بھی جڑا ہوا ہے۔

 

کچھ لوگوں نے اسے ایجنڈے کے طورپر دیکھتے ہیں  اور سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر اس ویکسین پر اتنا زور کیوں دیا جا رہا ہے۔ بعض خاندانوں میں یہ بات بھی گردش کر رہی تھی کہ ویکسین مستقبل میں بانجھ پن کا سبب بن سکتی ہے۔

 

 

یہ خدشات طبی حقیقت سے زیادہ کمیونٹی میں گردش کرنے والی افواہوں اور سوالات کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم فیلڈ میں کام کرنے والے صحت کارکنوں کے لیے یہی سوالات اصل چیلنج ہیں، کیونکہ کسی بھی ویکسینیشن مہم کی کامیابی کے لیے صرف ویکسین کی دستیابی کافی نہیں ہوتی بلکہ لوگوں کا اعتماد بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

 

ایچ پی وی ویکسین اور بانجھ پن کا خدشہ

 

اس حوالے سے  بات کرتے ہوئے گائناکالوجسٹ ڈکٹر  کائنات کا کہنا ہے کہ ایچ پی وی ویکسین اور بانجھ پن (Infertility) کے درمیان کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ ویکسین کی افادیت اور ممکنہ اثرات کے حوالے سے تحقیق کی گئی ہے، تاہم ایسی کوئی سائنسی شہادت سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو کہ ایچ پی وی ویکسین لگوانے سے بانجھ پن ہوتا ہے۔

 

ان کے مطابق ویکسین سے متعلق بانجھ پن کی باتیں زیادہ تر افواہوں اور غلط فہمیوں پر مبنی ہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ ویکسین سے متعلق کسی بھی دعوے پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق مستند طبی ذرائع سے کریں۔

 

 

 

لیکن فیلڈ میں موجود صحت کارکن کے لیے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ “یہ افواہ ہے”۔ والدین یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ویکسین کیوں دی جا رہی ہے، کس عمر میں دی جا رہی ہے، اس کے کیا فوائد ہیں اور اس کے ممکنہ مضر اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔

 

کمیونٹی میں اعتماد کا کردار

 

مردان کے گاؤں شیر گڑہ سے تعلق رکھنے والے مقامی انفلوئنسر کاشف کے مطابق کمیونٹی میں کسی بھی نئی صحت مہم کو قبول کرنے کے لیے اعتماد بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

 

ان کے مشاہدے میں لوگ صرف سرکاری اعلان یا پوسٹر دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتے۔ وہ اپنے جاننے والوں سے پوچھتے ہیں، مقامی لوگوں کی رائے سنتے ہیں اور بعض اوقات سوشل میڈیا پر موجود معلومات بھی دیکھتے ہیں۔

 

 

ان کے مطابق اگر کسی خاندان تک ویکسین کے بارے میں صرف ایک طرف کی بات پہنچے گی تو خدشات پیدا ہونا فطری ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین کو واضح طور پر بتایا جائے کہ ویکسین کا مقصد کیا ہے، اسے کس عمر کی بچیوں کے لیے تجویز کیا جا رہا ہے اور سرویکل کینسر سے بچاؤ میں اس کا کیا کردار ہے۔

 

مقامی انفلوئنسر کے مطابق مہم کو کمیونٹی کے اپنے لوگوں تک لے جانا ہوگا۔ مقامی زبان میں بات چیت، مقامی افراد کی شمولیت اور معتبر صحت کارکنوں کی موجودگی لوگوں کے سوالات کو سمجھنے اور ان کے جواب دینے میں مدد دے سکتی ہے۔

 

لیڈی ہیلتھ ورکر کا فیلڈ تجربہ

 

کمیونٹی میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ پہلے سے خاندانوں کے ساتھ رابطے میں ہوتی ہیں۔ کئی گھروں میں ان کی آمد کسی نئی بات کے بجائے صحت سے متعلق پہلے سے قائم رابطے کا تسلسل ہوتی ہے۔

 

 

ایل ایچ ڈبلیو بشریٰ بی بی کے مطابق کمیونٹی میں والدین کے سوالات کو نظر انداز کرنے کے بجائے انہیں سننا ضروری ہے۔ خاص طور پر بچیوں کو ویکسین دینے کے معاملے میں والدین یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس کا مقصد کیا ہے اور مستقبل میں اس کے کیا فوائد ہوں گے۔

 

ان کے مطابق بعض خاندانوں کے ذہن میں پہلے سے موجود باتیں ان کے فیصلے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ایسے میں اگر صحت کارکن تحمل کے ساتھ ان کے سوالات کے جواب دے اور مستند معلومات فراہم کرے تو بات چیت کا راستہ کھلتا ہے۔

 

وہ سمجھتی ہیں کہ ویکسینیشن مہم کو صرف ایک دن یا چند روز کی سرگرمی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ لوگوں میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے مسلسل رابطہ ضروری ہے۔

 

ویکسینیشن سے پہلے آگاہی کی کوششیں

 

سرویکل کینسر سے بچاؤ کے لیے ایچ پی وی ویکسینیشن مہم 2 سے 14 نومبر تک چلائی جائے گی، تاہم اس مہم کی تیاری کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ مہم کے آغاز سے قبل کمیونٹی میں ڈیمانڈ جنریشن پر توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ لوگوں کو ویکسین کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کی جا سکیں اور والدین کے ذہن میں موجود سوالات اور خدشات کو پہلے ہی دور کرنے کی کوشش کی جائے۔

 

 

اس سلسلے میں مختلف علاقوں میں آگاہی سیشنز منعقد کیے جا رہے ہیں، جہاں کمیونٹی کے لوگوں کو سرویکل کینسر، ایچ پی وی ویکسین کے مقصد اور ویکسینیشن کے طریقۂ کار کے بارے میں معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

 

غیر سرکاری تنظیمیں بھی ان سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ خیگڑا ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن ان تنظیموں میں شامل ہے جو کمیونٹی کی سطح پر آگاہی اور ڈیمانڈ جنریشن کے حوالے سے میڈیکل ایمرجنسی ریزیلینس فاؤنڈیشن کے تعاون سے کام کر رہی ہے۔

 

 

 تنظیم کے ذریعے کمیونٹی میں آگاہی سیشنز اور لوگوں سے براہِ راست رابطے کے ذریعے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ویکسین کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں اور خدشات پر بات کی جائے اور لوگوں کو مستند معلومات فراہم کی جائیں۔

 

دوسری جانب حکومت بھی اپنی سطح پر آگاہی کی مختلف سرگرمیاں کر رہی ہے، تاکہ مہم کے آغاز سے قبل زیادہ سے زیادہ خاندانوں تک درست معلومات پہنچائی جا سکیں۔

 

 

اسی لیے ڈیمانڈ جنریشن اور آگاہی سیشنز کو مہم سے پہلے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ان سیشنز میں لوگوں کو سوال کرنے کا موقع ملتا ہے اور صحت کارکن ان خدشات کا جواب دیتے ہیں جو اگر ویکسینیشن کے دن سامنے آئیں تو والدین کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

 

اس پورے عمل کا مقصد یہ ہے کہ جب 2 نومبر سے ویکسینیشن مہم شروع ہو تو والدین اور کمیونٹی کے افراد پہلے سے جانتے ہوں کہ ایچ پی وی ویکسین کیوں دی جا رہی ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔

 

مہم سے پہلے اعتماد کی بحالی

 

2 نومبر سے 14 نومبر تک چلنے والی ایچ پی وی ویکسینیشن مہم کے لیے موجودہ ڈیمانڈ جنریشن اسی بڑے مقصد کا حصہ ہے۔کمیونٹی سیشنز میں لوگوں سے براہِ راست بات کی جا رہی ہے، سوالات سنے جا رہے ہیں اور ویکسین سے متعلق معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ خیگڑا ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن سمیت غیر سرکاری ادارے کمیونٹی کی سطح پر آگاہی کے عمل میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ حکومت بھی اپنے طور پر آگاہی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

 

یہ سرگرمیاں اس لیے اہم ہیں کہ ویکسینیشن کا دن آنے سے پہلے ہی لوگوں کے ذہن میں موجود سوالات سامنے آ جائیں۔

 

ایک گھر میں ویکسین کے بارے میں سوال اٹھتا ہے، دوسرے گھر میں بانجھ پن کا خدشہ سامنے آتا ہے، کہیں یہ سوال کیا جاتا ہے کہ صرف اسی ویکسین پر توجہ کیوں ہے، اور کہیں لوگ اسے کسی مخصوص ایجنڈے سے جوڑتے ہیں۔ ان تمام سوالات کا سامنا کرنے کے بعد کمیونٹی آؤٹ ریچ ورکر اگلے گھر کی طرف بڑھ جاتا ہے۔

 

اس کے پاس ویکسین کے بارے میں معلومات ہیں، لیکن اسے معلوم ہے کہ صرف معلومات کافی نہیں۔ اسے لوگوں کی بات بھی سننی ہے۔ سرویکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم کے لیے شاید سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ اعتماد ایک دن میں نہیں بنتا۔

 

 

یہ صرف ایک ویکسین کی بات نہیں، بلکہ ان سوالات اور خدشات کی بھی کہانی ہے جو والدین کے ذہن میں موجود ہیں۔ ایک ماں کا سوال، ایک باپ کا خدشہ، صحت کارکن کی وضاحت، مقامی لوگوں کی رائے اور ڈاکٹر کی طبی معلومات یہ سب اسی گفتگو کا حصہ ہیں۔

 

جب کسی ویکسین سے متعلق افواہ سامنے آتی ہے تو اس کا جواب صرف تردید نہیں، بلکہ درست اور قابلِ اعتماد معلومات سے دینا ضروری ہوتا ہے۔ کیونکہ سوالات کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کا جواب دیا جائے تو غلط فہمیوں کو سمجھنے اور حقیقت تک پہنچنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔