اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کا کہنا ہے کہ وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی موجودہ صورتحال پر صوبے کو موردِ الزام ٹھہرانے سے پہلے اس پورے عمل کو دیکھنا ضروری ہے جو خیبرپختونخوا اسمبلی نے پہلے ہی شروع کر رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے امن جرگہ منعقد کیا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ اعلامیہ جاری کیا۔ اسی کی روشنی میں اسمبلی نے اسپیشل کمیٹی آن سیکیورٹی قائم کی، جس میں صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی قائدین کی موجودگی میں آئی جی پولیس، سی ٹی ڈی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم، ہوم ڈیپارٹمنٹ اور چیف سیکریٹری سمیت تمام متعلقہ صوبائی اداروں سے بریفنگز لی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے: ورلڈ کپ 2027: پاکستان کے ممکنہ سپر 7 مرحلے کے شیڈول کی تفصیلات سامنے آگئیں
بابر سلیم سواتی کے مطابق وفاقی قیادت کو بھی اس عمل سے آگاہ کیا گیا تھا اور وزیراعظم پاکستان، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر داخلہ کو خطوط ارسال کیے گئے تھے کہ اسمبلی جامع پارلیمانی سفارشات کی جانب بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب صرف ایک اہم فریق کی بریفنگ باقی ہے اور وہ کور کمانڈر پشاور ہیں۔ان کے مطابق کور کمانڈر پشاور سے ان کی بات ہوئی تھی اور انہوں نے کمیٹی میں شرکت کی یقین دہانی بھی کرائی تھی، تاہم یہ ملاقات تاحال نہیں ہوسکی۔
اسپیکر نے کہا کہ وہ دوبارہ اسپیشل کمیٹی کا اجلاس بلانے کے لیے سمن کرنے جا رہے ہیں اور ان کی واضح خواہش ہے کہ اس اہم معاملے پر متعلقہ حکام اور ادارے ایک میز پر بیٹھیں۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے جو سنا، جو دیکھا اور جو حقائق اس کے سامنے آئے، وہ اپنا مؤقف رکھیں گے جبکہ متعلقہ ادارے بھی اپنا مؤقف پیش کریں۔
ان کے مطابق اس کے بعد اسپیشل کمیٹی اپنی سفارشات مرتب کرے گی، جنہیں اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور اسمبلی کی منظوری کے بعد صوبائی و وفاقی حکومتوں کو ارسال کیا جائے گا تاکہ ذمہ داری، پالیسی اور عملی اقدامات واضح ہوں۔
بابر سلیم سواتی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام امن چاہتے ہیں اور متعلقہ فریقوں کو اپنے اپنے کردار کے ساتھ ایک مشترکہ حل کی طرف بڑھنا ہوگا۔ ہمیں حقائق سامنے لانے، متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں واضح کرنے اور مشترکہ طور پر نیشنل ایکشن پلان کے تحت عمل درآمد کرتے ہوئے امن کا راستہ تلاش کرنا ہے۔
